نکتہ داں- ۹۹
۲۰ فروری ۲۰۲۵
پروپیگینڈے کا زہر
سیاست میں (reality)حقیقت سے زیادہ (perception) تصور، کی اہمیت ہوا کرتی ہے۔
پاکستان میں لوگ عموماْ جب بھی کسی شخص کے متعلق اپنا خیال بنا لیتے ہیں (تو صحیح یا غلط)، اسی خیال کے اسیر بن کر اس شخص کے ہر عمل کو اپنے تصور کے آئینے میں دیکھ کر اچھی یا بری رائے قائم کئے رکھتے ہیں۔
اور اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ رائے بنوانے اور اس رائے کو قائم کروانے کیلئے، ہماری ایجنسیاں، ISPR اور ISI اپنے پروردہ صحافیوں ، اینکروں ، الیکٹرانک میڈیا، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے افسانے گھڑ گھڑ کے ، اور ان افسانوں کو پھیلا کر، لوگوں کا دل خراب کرتے رہے ہیں۔مندرجہ بالا عوامل کے علاوہ سیاسی پارٹیاں بھی اپنے مخالف سیاستدانوں کے خلاف کرپشن کے جھوٹے یا سچے، مقدمات بنا کر سیاستدانوں کے خلاف، فتنہ انگیزی کا سبب بنتی رہتی ہیں۔
آپ کی یاد دہانی کیلئے، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مثال پیش کی جاسکتی ہے۔ اس عظیم انسان کے خلاف اس دور کے جرنیلوں نے خود کو بچانے کیلئے انکے متعلق شدید پروپیگینڈا کیا کہ وہ بہت کرپٹ شخص ہیں اور انکے، ساؤتھ افریقہ، ہانگ کانگ اور نہ جانے کہاں کہاں ہوٹل ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور وہ درویش صفت انسان تمام عمر پاکستان میں گزار کر خالق حقیقی سے جا ملا اور معروف صحافی اور “ ایک دن جیو کے ساتھ” کے پیش کار سہیل وڑائچ کو انٹرویو دیتے ہوئے پوچھا تھا کہ بھائی وہ میرے ہوٹل کہاں ہیں جن کا پروپیگینڈا کیا گیا تھا ؟
شہید بینظیر کی پہلی حکومت کو برطرف کرنے کے بعد لاہور گورنر ہاؤس سے آصف علی زرداری کو گرفتار کرکے خبر چھپوائی گئی کہ گورنر ہاؤس لاہور سے آصف زرداری کا ایک ٹن سونا بر آمد کر لیا گیا ہے۔ اور جب میاں صاحب کی حکومت ختم کی گئی تو اعلان کیا گیا کہ میاں نوازشریف کے ملائیشیا کے بینک میں اربوں ڈالروں کا اکاؤنٹ پکڑا گیا ہے۔
چونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر انتقال کے وقت تک گرفتار رہے اس وجہ سے ان پر چلا تیر کارگر ثابت نہ ہوا لیکن سیاستدان ان تیروں سے نہ صرف سیاسی طور پر بدنام ہوتے ہیں بلکہ تمام عمر یہ بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں۔اور عوام ان کہانیوں کے اسیر بنے رہتے ہیں۔
مجھے کسی کا دفاع کرنے کا شوق نہیں ہے، لیکن میں یہ سوچتا ہوں کہ پاکستان، جسکی معیشیت آج کے حساب سے 338 بلین ڈالر کے مساوی ہے، وہ لندن کے فلیٹ کہ جسکی مالیت 7 ملین پاؤنڈز کے قریب ہے اور نوازشریف کی لندن میں مجموعی پراپرٹی تقریبا 32 ملین پاؤنڈ ہے، یا سرے محل جسکی موجودہ قیمت ، تقریبا 10 ملین پاؤنڈ ہے کی وجہ سے کیا کسی ملک کی معیشیت بیٹھ سکتی ہے ؟
میرے کہنے کا مقصد یہ جتانا نہیں ہے کہ ان پراپرٹیوں کو خریدنے میں کرپشن کا پیسہ ہوگا یا نہیں ہوگا ۔ میرا کہنا یہ ہے کہ معیشیت کی تنزلی کے اصل اسباب کچھ اور بھی ہیں۔ اور معیشیت کی بہتری کیلئے ضروری ہے کہ اس سارے معاملے کو سیاست کے بجائے علمی انداز سے دیکھ کر کرپشن کے سدباب کے اقدامات کئے جائیں اور ان تمام عوامل کی نشاندہی کی جائے کہ جو ملک عزیز کی معیشیت کی تباہی کے اصل ذمہ دار ہیں۔ ان میں ہر کوئی اپنا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ لوگوں کا دھیان ایک منصوبہ بندی کے تحت چند شخصیات کی طرف پھیر دیا گیا ہے
کرپشن میں جتنے ملوث سیاستدان ہوسکتے ہیں ( جبکہ ان پر میڈیا اور مخالفین کڑی نظر رکھے رہتے ہیں) اس سے کہیں زیادہ کرپٹ اس ملک کی سول اور خاکی بیوروکریسی ، تاجر۔ صنعتکار، پراپرٹی کی تجارت سے منسلک ٹائیکونز، میڈیا مالکان اور زندگی کے تمام شعبوں سے منسلک افراد شامل ہیں۔
لیکن ہم بات محض سیاستدانوں کے خلاف ہی کرتے ہیں، اور انکے اچھے اعمال پر بھی اپنے perception تصور کی وجہ سے شک میں پڑے رہتے ہیں۔
آصف علی زرداری اپنے پہلے دور صدارت (2008-2013) میں 9 مرتبہ چین کے دورے پر گئے۔ چونکہ حکومت اس دوران نواز لیگ کی تھیٗ اسلئے انھیں یہ دورے پسند نہیں آرہے تھے اور اس حکومت کے وزیر داخلہ چودھری نثار نے قومی اسمبلی کے فلور پر ان دوروں پر اعتراض کیا تھا، لیکن ان دوروں کا پھل نواز شریف حکومت نے CPEC کی شکل میں اپنے نام کیا۔ آصف علی زرداری اپنے دوسرے دور صدارت میں بھی چین کا چار روزہ کامیاب دورہ کرکے آئے ہیں۔ ہمیں ہر چیز پر سیاست کرنے کے بجائے مثبت انداز میں سوچنا چاہئے ۔
ہم اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کی حماقتوں اور سیاسی غلطیوں پر غور کرنے کے بجائے،اپنے اطراف ، ماحول کو ایک ماتم کدہ سا بنائے رکھتے ہیں ۔ بقول منیر نیازی
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اِک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
خالد قاضی