نکتہ داں – ۱۰۰
۲۴ فروری ۲۰۲۵
ہم الزام تراشنے کے ماہر لوگ
برصغیر کے ملکوں میں، گو مختلف معاشرت، ثقافت، زبانیں ، پکوان اور مذاہب ،اپنے اپنے رنگ لئے نظر آتے ہیں لیکن ایک چیز ان تمام ممالک میں مشترک ملتی ہے۔ یہ مشترکہ محبت کرکٹ کے کھیل سے ہے اور اس کھیل سے محبت ، آپس میں مسابقت کا سبب بھی بنی رہتی ہے۔ پاکستان اور انڈیا، اس کھیل میں چاہے دوسرے کسی ملک سے کیوں نہ ہار جائیں لیکن جب دونوں ملکوں کی ٹیمیں آپس میں مقابل ہوں تو دونوں طرف کے لوگوں کا جذبہ دیدنی ہوتا ہے
کرکٹ کے کھیل کو اسٹیڈیم میں دیکھنے کا ایک اپنا ہی مزہ ہے، حالانکہ ٹیلی ویژن پر درجنوں طاقتور کیمرے کھیل کی چھوٹی سے چھوٹی تفصیل، بار بار دکھا دکھا کر ، کھیل کو دیکھنے کی لطف اندوزی کو دوبالا کردیتی ہے۔ آپ اپنے گھر کے ڈرائینگ روم میں اکیلے بیٹھ کر لائیو کرکٹ دیکھیں تو آپکو وہ مزا نہیں آئے گا جو تمام گھر والوں یا یہ کہئے کہ دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے میں ہے۔
اسی لئے، میرے بڑے بیٹے نے چیمپئینز ٹرافی کے پاکستان اور انڈیا کے کھیل سے لطف اندوز ہونے کیلئے، ساتھ میچ دیکھنے کو کہا۔ ایسی دعوت کون ٹھکراتا ہے۔
امریکہ میں IT اور AI سے منسلک لاکھوں انڈینز بڑی اہم جگہوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سریش ورمانی بھی ایک IT انجینئر ہے اور میرے بیٹے کا پڑوسی بھی۔ نہایت نفیس اور باادب لڑکا ہے۔ کرکٹ کا شوقین بھی ہے اور بے تکلف بھی ، سو وہ بھی کرکٹ میچ دیکھنے آگیا۔
میچ سے وہ تو بہت لطف اندوز ہو رہا تھا لیکن ہم سب لوگ ، کبھی غصے ، کبھی خفگی اور آخر بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ پاکستانی ٹیم کی کاردکردگی کی خفت مٹانے کیلئے، کسی نے یہ کہہ دیا کہ فکسڈ میچوں کا ایسا ہی نتیجہ ہوا کرتا ہے اور یقیناً یہ SOLD میچ تھا۔
یہ بات سنتے ہی، سریش کے چہرے پر غصے کے آثار چھا گئے اور اس نے بڑے ادب اور سلیقے سے ہاتھ جوڑے اور کہنے لگا کہ آپ کی اس بات سے آپ نے انڈیا کی ہتک کی ہے۔ گویا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پیسے دے کر میچ جیتتے ہیں ! ایسا ہرگز نہیں اور یہ ہماری بہترین ٹیم کی ہتک ہے۔ اس نے نہایت سلیقے سے بات آگے بڑھائی ۔ اس نے کہا کہ ۷۰ اور ۸۰ کی دہائی میں ہماری ٹیم بھی اسی طرح تھی جبکہ آپکے کرکٹر اعلٰی پائے کے ہوا کرتے تھے۔ لیکن ہم نے اپنی ٹیم کے ہارنے اور بری کارکردگی دکھانے پر کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ میچ فکسنگ ہے۔
ہم نے اپنی خامیوں کو دیکھا، دنیا کی ٹیموں کا جائزہ لیا اور اپنی خامیوں پر قابو کرنے کیلئے دنیا کے تجربات کو اپنے یہاں رائج کیا۔ اور ایک نظام کے تحت نہ صرف نئے کھلاڑی پیدا کئے بلکہ ان کھلاڑیوں کے کھیل کی استعداد میں اضافے کیلئے مختلف ماہرین کی مدد سے مختلف گروپ تشکیل دیئے ۔ ہمارے ملک میں، پاکستان کی طرح، ہر نئی حکومت ، کرکٹ بورڈ کا چیئرمین نہیں تبدیل کرتی ۔ آپ کے یہاں مارشل لا کے ادوار میں کرکٹ بورڈ کا چیئرمین عمومی طور پر کسی جرنل کا دوست، رشتہ دار یا ریٹائرڈ جرنل ہوا کرتا تھا ۔
جبکہ سیاسی حکومتوں میں بھی کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ محض سیاسی یا قریبی دوستی کی وجہ سے بخش دی جاتی ہے۔
اس نے کہا کہ، نیوزی لینڈ کی آبادی آپکے ملک کی آبادی کے ۵ فیصد سے بھی کم ہے، لیکن انکی ٹیم نے حالیہ دنوں میں آپکو ۳ مرتبہ لگاتار ہرایا۔
معاف کیجئے گا، آپ کیسے لوگ ہیں، کہ بجائے آپ نظام وضع کرنے کے بس بندہ بدل دیتے ہیں۔
وہ بولےجارہا تھا، کہنے لگا نیوزی لینڈ کی ٹیم نے پچھلے دنوں انڈیا کو بھی انڈیا کے دورے کے دوران ہرایا تھا۔ ہم نے شکست تسلیم کی، یہ نہیں کہا کہ ہماری ٹیم بکی ہوئی تھی۔ ٹیم کی عزت کریں لیکن نظام کو درست کریں۔
اس کے مطابق ، عمران خان کی حکومت میں آنے سے اسے امید بندھ چلی تھی کہ پاکستان کی کرکٹ میں بہتری آئے گی۔ لیکن اس دور میں سوائے اپنے کرکٹ کے ایام کے دوست رمیز راجا کو چیئرمین بنانے کے اور کوئی مثبت تبدیلی دیکھنے کو نہ ملی۔ حالانکہ عمران خان کی فیلڈ ہی کرکٹ تھی۔ بجائے علاقائی اور صوبائی کرکٹ کو فروغ دینے اور کھلاڑیوں کی مالی مشکلات دور کرنے کے ، عمران خان نے اداروں کی ٹیموں کو ختم کردیا جس کی وجہ سے سینکڑوں کھلاڑی بیروزگار ہوگئے۔ کرکٹ بندہ اس ہی وقت کھیلتا ہے جب اسے اپنے نان نفقے کی فکر نہ ہو۔
اس نے شرارتی موڈ میں کہا کہ آپ کے کافی اچھے، پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ بھی ، سیاست اور کرکٹ کے میدان کو ایک نظر سے دیکھتے ہیں۔ سیاست اور کرکٹ پر تبصرے نفرت کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں ۔ اس نے کہا میں دعوے سے کہتا ہوں آپ کسی خاصے پڑھے لکھے ، بظاہر اپنے اپنے محکموں کے سربراہ یا صاحب الرائے اشخاص سے پوچھیں کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کیوں نہیں آرہا ، تو وہ فوراً دو یا تین سیاستدانوں کو اس پورے المیے کا ذمہ دار ٹہرا کر گالیاں دینے لگیں گے اور یہی حال کرکٹ پر خیال آرائی میں بھی نظر آئے گا۔
اس نے ایک بڑے پتے کا اصول سمجھایا ۔ وہ ہنستے ہوئے بولا، یہ بات پلّے سے باندھ لیں کہ کسی کے بھی لئے جب نفرت آپکے دل دماغ پر چھائی ہوئی ہوگی تو وہ نفرت آپکے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت کوسب سے پہلے زنگ آلودہ کردے گی۔ آپ کے منہ سے گالیاں تو شاید ضرور نکلیں لیکن چیزوں کو سمجھنے اور صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت اور عقل و دانش کی بات آپکے دل و دماغ سے رفو چکر ہوجاتی ہے۔
اس نے سیاسی اسٹروک مارتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے آپکی دلی وابستگی اور عمران خان کی سیاسی ناکامیوں کی وجہ سے آپ کا قومی مزاج بہت چڑ چڑا ہوگیا ہے اور یہ چڑچڑاہٹ پاکستان کا قومی مزاج بنتا جارہا ہے۔
میرے بیٹے نے سریش ورمانی سے کہا کہ شاید تمھیں کھانا نہیں کھانا اس لئے بولے چلے جارہے ہو۔ اس نے بھی ہنس کر جواب دیا کہ ناں بابا ناں ہم انڈین اتنے جذباتی نہیں ہیں۔ ہم عموماً Pragmatism عملیت پسند ہیں لہذا میں کھانے کے ذائقے کو نہیں گنوا سکتا ، اس لئے اپنے تمام الفاظ واپس لے لیتا ہوں، لہذا کھانا لگانے میں اب ذرا بھی دیر نہ کرو۔
سریش کی باتوں کو بھلاتے ہوئے میں سوچنے لگا، کہ کیا ہوا اگر کسی پاکستانی کرکٹر نے آج سینچری نہ بنائی ۔ آج میرے لکھے ہوئے تبصروں اور تجزیوں کی بہ عنوان “نکتہ داں “ سینچری مکمل ہو گئی ہے۔لہذا اختتام میں، میں اپنے سب دوستوں سے سوال کرتا ہوں کہ “ ہے کوئی، جو سریش ورمانی کے اٹھائے ہوئے سوالات کا بغیر چڑچڑا ہٹ اور بنا نفرت کوئی علمی جواب دے”
خالد قاضی