NUKTADAAN

Reading: ‏۱۰۱۔ ہمارا قومی عذر لنگ
Reading: ‏۱۰۱۔ ہمارا قومی عذر لنگ

‏۱۰۱۔ ہمارا قومی عذر لنگ

admin
5 Min Read

نکتہ داں-۱۰۱

۲۷ فروری ۲۰۲۵

ہمارا قومی عذر لنگ

چین میں چنگ خاندان کی شہنشاہیت تقریباً سوا تین سو سال حکومت کرنے  کے بعد  -۱۹۱۲ میں زوال پزیر ہوئی۔ 

چین اس دور میں دنیا کی ایک اقتصادی ، علمی اور ثقافتی طاقت رہا۔ لیکن  انیسوی صدی کے ابتدا ہی سے ، چین اگلی ایک صدی تک، زوال پزیر ہوگیا۔ زوال کے اسباب میں ایک سبب  چین کے  نوجوان طبقے میں  نشے کی عادت بھی تھی۔ اس دور میں ملکہ برطانیہ کی حکومت پر کبھی سورج غروب نہیں ہوا کرتا تھا۔مغربی نو آبادیاتی ممالک ، امریکہ برطانیہ، جرمنی، فرانس اور ان سب کے حاشیہ بردار جاپان نے چین کی اقتصادی زبوں حالی کا خوب فائدہ اٹھایا۔

دوسری جنگ عظیم میں جاپان اور روس کے ہاتھوں چین نے نہ صرف شکست کھائی بلکہ جنگ ، وبا اور قدرتی آفات کی وجہ سے اسکے ڈیڑھ سے دو کروڑ لوگ ہلاک ہوئے۔  اس شکست، تحقیر اور زوال کو چین کے ادیبوں ، دانشوروں اور لکھاریوں نے اپنے قلم سے طاقت بنا ڈالا ۔ اس ایک صدی کے زوال، شکست اور بدحالی کا عذر تلاش کرنے کے بجائے انھوں نے اس صدی کو محاورتًا چینی قوم کی “ذلت اور شرمندگی کی صدی “ کا نام دیکر چینی قوم میں ابھرنے کی نئی روح پھونکی۔ چینی ادب میں اس دور کو ایک محاورے “SHOU RU GAN” یعنی “احساس ذلت و رسوائی “ کی صدی کہا جاتا ہے اور اسی محاورے  کو مسلسل دہرانے نے  چینی قومیت کو جگا کر آج اقوام عالم میں ایک ممتاز مقام عطا کیا ہے۔

اس تمہید باندھنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم پاکستانی قوم ایک شتر مرغ بن کر اپنی جھوٹی انا کی تسکین کیلئے  اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور ناکامیوں کا عذر تلاش کرنے کے ماہر ہیں، لیکن اگر کوئی ہمیں آئینہ دکھائے تو ہم ناراض ہوجاتے ہیں۔

میں ایک نہیں، کئی واٹس ایپ، گروپوں سے نکالا جاچکا ہوں ، کیونکہ میں تاریخ کو اس کی درست شکل  میں  بیان کرتا ہوں ۔ مجھے ایک گروپ میں جرنل نیازی کو شکست کے پروانے پر دستخط کرتے ہوئے منظر نامے کو ازراہ تفنن آٹو گراف لکھنے پر نکالا گیا۔ ایک گروپ سے نکلنے کی وجہ یہ تھی کہ، پاکستانی قومی ترانے کی پیروڈی (جس میں حقیقت حال کی درست منظر کشی کی گئی تھی) پوسٹ کردی۔ کئی شاہ سے بڑھ کر شاہ کے مجاور ناراض ہو گئے۔

پاکستان کے معروضی حالات تو یہ ہیں کہ ملک کی فوج کا سپہ سالار، فوجی ہیڈ کواٹر میں پاکستان کی متعدد یونیورسٹیوں کے طالبعلموں کو بلا کر لیکچر دے رہا ہے اور دوسری طرف انٹر نیٹ کی رفتار کم کر دی گئی ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری کارگزاریاں مشہور نہ ہونے پائیں۔ان اعمال سے “اپنے منہ میاں مٹھو”  بہادر سورماؤں کی اندرونی حالت واضح ہوجاتی ہے۔

دوسری طرف  پیکا کا قانون بنایا گیا ہے 

تاکہ :

 “جیڑا بولے ، اسٹیبلشمنٹ او دی منڈی تولے”۔ 

ملک کی تمام اپوزیشن نے ایک قومی کانفرنس کا دو روزہ اجلاس بلایا ہے، اس اجلاس کی نہ صرف خبروں پر پابندی ہے بلکہ ہوٹل کو بھی مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہوٹل میں دوسرے دن  اجلاس نہ ہونے  پائے۔

شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کے درست حالات اور سکیورٹی اداروں کے ظلم اور زیادتیوں کی کوئی خبر عوام تک پہچانے پر سخت پابندیاں ہیں لیکن 

 ، باقی سب خیر ہے

حالانکہ دانشمندی کا تقاضہ تو یہ ہے کہ مندرجہ ذیل حقیقتوں کو پیش نظر رکھا جائے

۔  یہ اکیسویں صدی ہے، اور انٹر نیٹ اور “مصنوعی ذہانت” کا زمانہ ہے

۔ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی جوانوں پر مشتمل ہے، 

۔ پوری دنیا میں ڈکٹیٹرشپ کا نظام زوال پزیر ہے، اس لئے ان جوانوں کی امنگوں کو مزید قید میں نہیں رکھا جاسکتا ۔ 

۔ یہ جبر کا قانون کب تک چلے گا۔ اسے مصنوعی لیڈر شپ مسلط کرکے دوام نہیں دیا جاسکتا ۔ 

آج نہیں تو کل

ہم دیکھیں گے ، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے