NUKTADAAN

Reading: ‏۱۰۵۔ مسئلہ کینالوں کا
Reading: ‏۱۰۵۔ مسئلہ کینالوں کا

‏۱۰۵۔ مسئلہ کینالوں کا

admin
8 Min Read

نکتہ داں ۔ ۱۰۵

۱۰ اپریل ۲۰۲۵

مسئلہ کینانوں کا

یہ سوچ کر، کہ لگتا ہے، ۶ کینالوں کے معاملات، اب شاید ٹھنڈے ہونے لگے  ہیں کیونکہ  قومی اسمبلی کے اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار اور وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا  ثنااللٰہ کے بیانات کے مطابق یہ منصوبہ سندھ کی مشاورت کے بغیر اور بنا رضامندی کے اب شروع نہ کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کا باضابطہ اعلان،  پنجاب میں، ن لیگ، اپنی سیاسی سبکی سے بچنے کیلئے، مؤخر کر رہی ہے۔ 

اسی پس منظر میں، سندھ کا حال جاننے کیلئے، میں نے دادو کے ایک سیاسی سوجھ بوجھ کے بزرگ، سائیں اللٰہ داد بگھیو کو فون کیا۔ دو دفعہ تو جواب نہیں ملا، لیکن کچھ ہی دیر بعد انکی کال آگئی۔ کہنے لگے قاضی صاحب معاف کرنا دراصل میں گاڑی چلا رہا تھا اور اس عمر میں گاڑی اور فون ساتھ ساتھ نہیں چلاتا ۔ اب گھر پہنچ کر فوراً جواباً فون کیا ہے۔

میں نے دعا سلام اور طبیعت پوچھنے کے بعد، ان سے شرارتاً پوچھا کہ سائیں یہ کیا ہوا، آپ تو سندھ میں انقلاب لے آئے اور PPP کی چھٹی کرادی

بولے قاضی صاحب ہم تو کمبل کو چھوڑ دیں، کمبل ہمیں نہیں چھوڑے گا لہذا اسی کمبل کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔ 

میں نے کہا سائیں، ایسی بھی کیا مجبوری ہے ؟

بولے، قاضی صاحب اللٰہ لگتی کہنا، مجھے بتاؤ کہ ہمارے پاس دوسرا کونسا آپشن ہے ؟ کینالوں کی تعمیر کی وجہ سے، جو دو چار وڈیرے ن لیگ کے چاہنے والے ہیں وہ بھی لوگوں سے چھپتے پھر رہے ہیں۔ جبکہ سندھ میں PTI نے، نہ اپنی حکومت کے دوران اور نہ اس کے بعد، کبھی سندھ کی طرف کوئی دھیان دیا۔ تو آپ بتائیں کہ ہمارے پاس اور بچا ہی کون ہے کہ جس کے پیچھے چلیں۔ 

میں نے کہا ، کیوں ؟ آپکے پاس سائیں پیر پگارا ہے، GDA ہے اور پھر سب سے بڑھ کر قوم پرست سیاستدان ہیں۔

اس پر وہ ہنسنے لگے، کہا کہ پیرپگارا اور GDA ہی نے تو اس سارے معاملے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن سندھی، سیاسی طور پر، سب صوبوں سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ 

سائیں الھداد بولے، بات یہ نہیں ہے، واقعہ دراصل یہ ہے کہ کینالوں کے مسئلے پر، سب سے پہلے ، سندھ کے ادیبوں اور دانشوروں نے سوشل میڈیا کے ذریعے  عوام کو ہوشیار کرنا شروع کیا۔ اس کے بعد قوم پرست لیڈروں نے ریلیاں نکالیں اور سندھ کے طول و عرض میں پرامن احتجاج کا ایک طوفان بپا کردیا۔ اس کام میں ذولفقار علی بھٹو جونیئر بھی کافی متحرک رہے۔ اور PPP کے وہ خاموش چاہنے والے جو PPP پر تو واری جاتے ہیں لیکن  آصف علی زرداری اور اسکی بہن ادّی فریال ٹالپور کی سیاست سے خائف ہیں اور انھیں PPP کیلئے  زہر قاتل سمجھتے ہیں وہ بھی اس عمل میں خاموشی سے شریک ہوگئے۔ اس موقعے پر سائیں پیرپگارا اور GDA نے کوشش کی کہ PPP کی قیادت کو غیرت دلا کر کسی طرح، حکومت کی حمایت سے الگ کردیں ۔ قاضی صاحب آپ کو تو پتہ ہے، اگر یہ ہوجاتا، تو حکومت تو گر جاتی۔ پھر یا تو دوبارہ الیکشن کروانے کیلئے عبوری حکومت قائم کی جاتی یا پھر، امریکی صدر ٹرمپ کے اس خطے میں حرکت بازی کیلئے دوبارہ مارشل لگ جاتا۔ اور پاکستان کی پوری تاریخ گواہ ہے کہ ہر مارشل لا دور میں، سائیں پیر پگارا اور GDA کی چاندی ہو جاتی ہے اور وہ اس مرتبہ بھی یہی چاہ رہے تھے۔ لیکن انھیں کامیابی نہیں ہوئی۔

آپ دیکھ لیں اس مرتبہ بھی، عوامی ہجوم یا قوم پرستوں کی ریلیوں میں تھا یا پھر ذولفقار جونیئر کے گرد۔ پیرپگارا پارٹی اور GDA کو کم ہی لفٹ ملی۔

میں نے انکا موقف جاننے کیلئے سوال کیا، کہ ن لیگ کے زعمأ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی نہیں لینگے اور اپنے ہی حصے کے پانی کا رخ چولستان کے صحرا کی طرف موڑ دیں گے۔ اس پر وہ پہلے تو کچھ دیر ہنستے رہے پھر بولے، سائیں یہ میٹھی گولی بھولے پنجابی بھائیوں کیلئے ہے۔ مجھے بتاؤ کہ اس وقت بھی ڈیم سوکھے پڑے ہیں، موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے اس پورے سسٹم سے ۲۰% پانی کم ہوگیا ہے اور جسکا سامنا پنجاب کے غریب کسان کو بھی ہے۔اور پنجاب کی زمینوں کیلئے بھی پانی کم رہ گیا ہے، تو پھر پنجاب کے کس علاقے کے زمیندار کا پانی کم کرکے چولستان جہاں سب جانتے ہیں کہ کن طاقتوروں کی زمینیں ہیں کو سیراب کرنے کا پروگرام ہے۔ انھوں نے بڑا زور دیکر کہا کہ سندھ کے جائز احتجاج نے دراصل پنجاب کے غریب کسان کو بھی نقصان سے بچایا ہے، ورنہ ان کا پانی زور آوروں کی زمینیں سیراب کرتا۔

میں نے انھیں پھر کریدتے ہوئے پوچھا کہ سائیں ن لیگی رہنما تو کہہ رہے ہیں کہ پچھلے سال اس معاملے پر ایوان صدر میں میٹنگ ہوئی تھی اور منٹس پر صدر کی منظوری کے دستخط ہیں۔

وہ اس پر بولے، قاضی صاحب  یہ چورن ن لیگ پنجاب کے عوام کیلئے بیچ رہا ہے، ہم نہیں آئیں گے اس جھانسے میں۔ بولے قاضی صاحب یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے ۔ سیدھی سی بات ہے کہ کس آئین نے صدر کو منصوبوں کی منظوری کا اختیار دیا ہے ؟، یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے اور وہ بھی آئین کے مطابق ۔ اچھا چلو ہم مان لیتے ہیں کہ ن لیگ نے منصوبوں کی منظوری کا اختیار صدر کو دے دیا ہے، تو جناب پھر وہی صدر، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپنی سالانہ تقریر میں وفاقی حکومت کو منع کر رہا ہے کہ ایسے منصوبوں پر یکطرفہ عمل نہ کیا جائے جس سے وفاق کمزور ہو۔

سندھ کے لوگ آئین کو مانتے ہیں اور بس۔ اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آئین وفاقی حکومت کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانی کے معاملات تمام صوبوں کی رضامندی سے حل کرے گی اور اسکے لئے مشترکہ مفادات کی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ ہوگا۔ سندھ کے وزیر اعلٰی وزیر اعظم کو دو خط لکھ چکے ہیں کہ آئین کے مطابق مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلایا جائے جو کہ اب تک نہیں بلایا گیا۔ تو اس میں کون لاقانونیت اور سیاست کررہا ہے ؟  ن لیگ یا سندھ ؟

مییں نے محسوس کیا کہ سائیں اللٰہ داد کی باتوں میں فکر بھی تھی درد بھی تھا اور کچھ بے چارگی بھی۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے