نکتہ داں -۱۰۸
۲۸ اپریل ۲۰۲۴
وفاق کی جیت
آپ کی یاد دہانی کیلئے،عرض کروں کہ آج سے ۱۸ دن پہلے، ۱۰ اپریل کو بعنوان “نکتہ داں-۱۰۶” میں نے اپنی تحریر کی ابتدا ہی اس طرح کی تھی :
یہ سوچ کر، کہ لگتا ہے، ۶ کینالوں کے معاملات، اب شاید ٹھنڈے ہونے لگے ہیں کیونکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں نائب وزیر اعظم اسحٰق ڈار اور وزیر اعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللٰہ کے بیانات سے یہ منصوبہ سندھ کی مشاورت کے بغیر اور بنا رضامندی کے اب شروع نہ کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ لیکن اس کا باضابطہ اعلان، پنجاب میں، ن لیگ، اپنی سیاسی سبکی سے بچنے کیلئے، مؤخر کر رہی ہے۔
آج خبر ملی، کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کا جو اجلاس، ۲ مئی کو منعقد ہونا تھاوہ اجلاس وزیراعظم نے آج ۲۸ اپریل ہی کو بلا کر معاملات کو اتفاق رائے سے چلانے کی ابتدا کردی ہے
اخباری اطلاعات کے مطابق، مشترکہ مفادات کی کونسل نے، متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ، نہروں کے منصوبے کو ختم اور زراعت کی ترقی اور پانی کی کمی کے مسئلے کو تکنیکی کمیٹی کے سپرد کرکے، معاملات متفقہ لائحۂ عمل کے تحت حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
یہ خبر پڑھ کر میں نے دوبارہ دادو فون کر کے سائیں اللٰہ داد بگھیو کے خیالات جاننے کی کوشش کی۔
خوش قسمتی سے، انھوں نے فوراً فون اٹھالیا۔
میں نے سلام دعا کے بعد، انھیں چھیڑتے ہوئے پوچھا کہ سائیں کیا اب سندھ میں ایک نئی سیاسی دوڑ شروع نہیں ہوجائے گی ؟
بولے قاضی صاحب کونسی دوڑ ؟
میں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے نہروں کے منصوبے کو ختم کرنے کے فیصلے کا سہرا اب کس کے سر ہوگا ؟ سندھ کے تمام سیاسی اور معاشرتی کردار، بڑھ چڑھ کر دعویدار ہونگے کہ ہماری جدوجہد کی وجہ سے یہ فیصلہ واپس ہوا۔ آپ اسے کس کی جیت گرادانتے ہیں، GDA کی، قوم پرستوں کی یا PPP کی
فرمانے لگے سائیں حصہ تو سب نے ڈالا لیکن اللٰہ لگتی کی جائے ، تو یہ جیت “وفاق” کی ہوئی ہے، جیت “پاکستان” کی ہوئی ہے اور ناکام پاکستان کو توڑنے کے خواہش مند ہوئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کو سب سے پہلے سندھی دانشوروں، ادیبوں ، صحافیوں اور معاشرے کے معززین نے اٹھایا۔ اس کے بعد ہر ایک نے اپنے اپنے نکتہ نظر، سیاسی فائدے اور آئندہ کی امید پر اس مسئلے کو اجاگر کیا۔
میں نے سوال داغا، کہ سائیں PPP تو کافی دیر بعد متحرک ہوئی، اس نے عوامی طور پر ردعمل دینے میں تو دیر کردی تھی۔
بولے، سائیں PPP, اس معاملے کو، سیاسی ایشو بنانے ہی کے خلاف تھی اور اسے لوگوں کو اشتعال دلائے بغیر ہی حل کرنا چاہتی تھی۔ اس ہی لئے ، وزیر اعلٰی سندھ نے نہ صرف فوراً ارسا کے پانی کے سرٹیفکیٹ کو تحریری طور پر چیلینج کیا بلکہ وزیراعظم کو مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلانے کیلئے بار بار خط لکھے ۔ یعنی پی پی پی کی قیادت یہ معاملہ بنا عوامی بحث کے تکنیکی طور پر حل کرنا چاہتی تھی۔ انھیں تو نہ صرف قوم پرستوں اور GDA کی منفی سیاست اور متعصب نعروں کے جواب میں سیاسی طور پر حل کرنا چاہتی تھی اور وہ ملکی نظام کو پٹری سے ہٹانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی فکر میں بھی تھی
ان کی اس توجیہ پر میں نے چھیڑا کہ سائیں واقعی آپ سچے جیالے ہیں ۔
کہنے لگے سائیں یہی تو PPP کی بدقسمتی ہے کہ اس کے مخالفوں کو ہمیشہ برائی ہی نظر آتی ہے۔پاکستان کی پچھلی نصف صدی کی تاریخ دیکھ لیں مخالفوں کو مخالفت کا ہر وقت کوئی نہ کوئی عذر مل جایا کرتا ہے۔ جب PPP شملہ معاہدہ کرکے آئی تب بھی بری کہلائی، جب متفقہ آئین بنایا تب بھی شک کیا گیا، جب اسٹیل مل ، پکی پکائی روٹی پلانٹ، کامرہ ریبلڈنگ کمپلیکس، ہیوی الیکٹریکل اور ہیوی میکینیکل کمپلیکس، وار انڈسٹری لگانے، نیوکلئیر پروگرام شروع کرنے ، میزائل ٹیکنالوجی لانے ، تمام مسلمان ملکوں کو اکھٹا کرنے اور پتہ نہیں کیا کیا کرنے پر بھی ہمارے مخالف برائی ڈھونڈ لیا کرتے ہیں ، تو قاضی صاحب ہم تو ان رویوں کے اب عادی ہو چکے ہیں اس لئے میں آپکی بات کا برا نہیں مناؤں گا۔
پھر وہ کچھ سیریس انداز میں بولے، کہ سائیں یہ بات سمجھ لو، کہ اس وقت PPP اپنی حکمت عملی سے اس ہائیبرڈ نظام کی حقیقی مخالف ہے۔ وہ اسے ختم کرانا چاہتی ہے لیکن یہ کام ٹکراؤ کی سیاست سے نہیں، ٹہراؤ کی سیاست سے پورا ہوگا۔
میں بات کا رخ بدلتے ہوئے کہا، بگھیو صاحب نہروں کے معاملے پر GDA اور قوم پرستوں کو کریڈٹ نہ دینا بھی تو انصاف کے خلاف بات ہے۔
وہ پہلے تو ہنسے اور پھر کہنے لگے، قاضی صاحب میں آپکو سمجھدار آدمی سمجھتا تھا، لیکن آپ تو بہت بھولے نکلے۔ آپ اپنی تحریروں میں، سیاسی تاریخ کا بہت حوالہ دیا کرتے ہیں، مجھے پاکستانی سیاسی تاریخ میں کہیں کوئی مثال بتادیں جب ہماری مقتدرہ نے، کبھی، کسی قوم پرست کے دباؤ میں آکر بات مانی ہو۔ وہ تو قوم پرستوں کو کچلنا جانتے ہیں۔ آپ باچا خان اور ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی کو دیکھ لیں، پختون خواہ کی پشتین سے سلوک ملاحظہ کریں، بلوچستان کے قوم پرستوں کی جدوجہد کو بزور طاقت دبانے کی کوششیں تو اب تک جاری ہیں۔ تو آپ سمجھ رہے ہیں کہ سندھ کے قوم پرستوں کی بات مانی جاتی۔ اس فیصلے کی ایک وجہ ایک تو اندرونی ہے اور دوسری اچانک جلد حل کرنے کی وجہ بیرونی ہے۔ میں نے حیرانی سے پوچھا کہ بگھیو سائیں یہ اندرونی اور بیرونی کی کیا پہیلی ہے۔
بولے قاضی صاحب، اندرونی وجہ تو بلاول کی حیدرآباد جلسے میں حکومت کی حمایت ختم کرنے کی دھمکی اور وزیر اعلٰی سندھ کا یہ اعلان کہ وفاقی بجٹ آنے سے پہلے نہروں کی منسوخی کا فیصلہ نہ ہوا تو بجٹ پاس نہیں ہوسکے گا ۔اب آپ خود سمجھدار ہیں قاضی صاحب۔ بجٹ کا پاس نہ ہوسکنے کا کیا مطلب ہے ؟
تو اب میرا سوال تھا کہ، بیرونی وجہ کیا ہے ؟
تو فرمایا کہ اجلت میں مشترکہ مفادات کی کونسل کا اجلاس بلا کر معاملات جلد درست کرنے کا سبب ہندوستان کی وجہ سے ہوا ہے۔
اس تمام مکالمے میں مجھے جیالے اللہ داد بگھیو کا ایک فیصلہ کن اعلان بہت پسند آیا
وہ اعلان تھا کہ اس فیصلے سے ” جیت کسی سیاسی پارٹی کی نہیں ہوئی بلکہ جیت*وفاق* کی ہوئی ہے، جیت *پاکستان* کی ہوئی
میرے لبوں پر بے اختیار یہ نعرہ گونجا
پاکستان زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد
خالد قاضی