نکتہ داں-۱۱۱
مئی ۲۰۲۵
بقول صدر ٹرمپ “شرمناک”
لکھنے کا موضوع تو کچھ اور ہی سوچا تھا، لیکن،
امریکی سہ پہر کے وقت انڈیا کے پاکستان پر بزدلانہ حملے کی خبر نے، مجھے، پاکستان اور انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے ساتھ ساتھ، فرانس، جرمنی، امریکہ اور برطانیہ کے میڈیا کے تعاقب پر مجبور کردیا۔ اتنی دیر میں ایک دیرینہ دوست کا فون بھی آیا لیکن سب سے خوفناک حملہ میری بیگم کی طرف سے تھا۔
فرمانے لگیں کہ قاضی صاحب اب یہ دکانداری بند ہی کریں تو بہتر ہے، یہ اب زیادہ چلنے والی نہیں !
میں نے حیران ہوکر پوچھا کہ کونسی دکان اور کیسی دکانداری ؟ تو کہنے لگیں کہ آپ کی پیشین گوئی تو یہ تھی کہ انڈیا حملہ نہیں کرے گا، لیکن یہ بات تو غلط ثابت ہوئی۔
میں نے انھیں سمجھایا کہ، میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں کہ انشااللٰہ جنگ نہیں ہوگی۔
دراصل مودی نے، اپنی سیاسی ضروریات کے تحت دعوے، وعدے اور جذباتی بڑھکیں مار کر جو ماحول بنایا تھا اس میں وہ اپنے ہی پھندے میں پھنس چکا تھا۔ اسے اپنے عوام کے جنون کی تسکین کیلئے کچھ پٹاخے ضرور پھوڑنے تھے، تاکہ اپنی ہی بنائی ہوئی اس دلدل سے نکل سکے۔
“سندور” نامی ڈرامے کو میں اس ہی نظر سے دیکھتا ہوں:
* ہفتہ بھر پہلے، انڈین فضائیہ کے ۴ رافیل طیاروں نے پاکستانی حدود میں گھس کر حملہ کرنے کی کوشش کی، جو ہماری فضائیہ نے ناکام بنادی اور، ہندوستان کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اگر دوبارہ پاکستانی حدود میں ہمارے طیارے گھسے تو واپس نہیں آئینگے، اس ہی لئے ، اس نے ایک محفوظ آپشن اپناتے ہوئے میزائلوں سے حملہ کیا۔
* دنیا کے تینوں طاقتور ملکوں امریکہ، روس اور چین کے علاوہ یورپی یونین اور گلف کے ممالک نے بھی انڈیا کو ذمہ داری اور تحمل پر عمل کرنے اور بات چیت کرنے کا مشورہ دینے کے ساتھ، تنبیہ بھی کی، کہ ایسے کسی بھی عمل سے اجتناب کیا جائے جس سے علاقائی سلامتی متاثر ہو۔
* دوسری طرف انڈین میڈیا اور عوام جن پر جنگی جنون سوار تھا، وہ مودی کی خاموشی پر سوالات اٹھانے لگے۔
* اس تمام صورتحال کے پیش نظر، جو مودی سرکار نے ، اپنے لئے خود ہی پیدا کردی تھی، کچھ نہ کچھ، کرکے جان چھڑانے کی کوشش میں یہ میزائلی پٹاخے چھوڑے گئے۔ گویا یہ تمام عمل اپنے عوام کی تسکین کیلئے کیا گیا ہے۔
* دنیا کے دباؤ کے پیش نظر، انڈین سرکار نے یہ بات ، خاص کر کے ، وضاحت سے کہی، کہ ہم نے بہت محتاط ہوکر یہ نشانے چنے ہیں ۔ ان میں نہ کوئی شہری علاقہ ہے نہ کوئی فوجی تنصیب۔یہ بات انڈیا پر دنیا کے دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔
* امریکی صدر ٹرمپ کی اندرونی یا بیرونی پالیسیوں سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، لیکن انکے بے ساختہ پن اور سفارتی زبان کے بجائے عوامی انداز میں، انکے دل میں جو بات ہو، وہی زبان پر بھی ہوتی ہے، سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اسی لئے انڈین حملے کو “شرمناک عمل” کہہ کر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ اور اس ہی لئے، ہندوستان کے سیکیورٹی ایڈوائزر نے، سب سے پہلے اپنے ہم منصب امریکی نمائندے سے رابطہ قائم کرکے صورتحال سے آگاہ کیا۔
* جنگ کے طول نہ پکڑنے کا ایک اشارہ، امریکہ میں مقیم ایک ہندوستانی مبصر، روی اگروال نے بی بی سی کو ، ایک انڈین جرنل کا یہ بیان سنا کر یقین دلایا کہ “ ہم نے حملہ کرکے عدل حاصل کرلیا ہے” ۔ گویا ہماری تسلی ہوگئی ہے اور اب آگے کچھ نہیں ہوگا۔
دوسری طرف پاکستانی میڈیا، اپنے فوجی ذرائع سے یہ اعلان کر رہا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے ایک یا دو نہیں پانچ انڈین طیارے مار گرائے ہیں۔ موجودہ دور میں جھوٹی بھڑکیں ، زیادہ دیر نہیں چلتیں اور اصل صورتحال جلد واضح ہوجایا کرتی ہے اور یہ بات، پاکستانی فوجی ذرائع بھی اچھی طرح جانتے ہونگے، لہذا انکا یہ اعلان حقائق پر مبنی ہوگا۔ میری دوستانہ رائے یہ ہوگی کہ اب زیادہ طیارے نہ گرائیں ، ایسا کرنے سے مودی کہیں بوکھلا کر کچھ اور نہ کر بیٹھے۔
میرے لئے سب سے اہم بات ، پاکستان کی درخواست پر بلائے گئے سکیورٹی کونسل کے اجلاس کا یہ مشورہ ہے، کہ انڈیا اور پاکستان اپنے مسائل اور خاص کر کے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرکے اس مسئلے کا حل تلاش کریں۔ پاکستان کو سکیورٹی کونسل کے اس اعلان کو اپنی سفارتی مہم کا “عنوان” بنا کر، دنیا کے تمام اہم دارالحکومتوں کو متوجہ کرکے انڈیا پر دباؤ ڈالنا چاہئے۔
اس تمام پس منظر میں، ہم پاکستانیوں کو، اپنے تمام سیاسی تعصبات بھلا کر، پاکستانی قومی اسمبلی میں ، ہندوستانی حملے کے پیش نظر بلائے گئے اجلاس میں، بلاول بھٹو زرداری کی تقریر ، (جو انھوں نے احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے فی البدیہ کے بجائے لکھی ہوئی) سنیں۔ انڈیا بلاول کے مدلل دلائل کا کوئی جواب نہیں دے سکتا ۔
ضرورت اس بات کی ہے، کہ ہم آپس میں سیاست چاہے جس درجے کی بھی کرتے پھریں لیکن ہندوستان کے مقابلے کے وقت، ہمیں ایک دوسرے کی کھل کر حمایت اور پشت پناہی کرنی چاہئے۔
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی