NUKTADAAN

Reading: ‏۱۱۲۔ رکھو اپنے کام سے کام، تب ہی ہوگا احترام
Reading: ‏۱۱۲۔ رکھو اپنے کام سے کام، تب ہی ہوگا احترام

‏۱۱۲۔ رکھو اپنے کام سے کام، تب ہی ہوگا احترام

admin
5 Min Read

نکتہ داں-۱۱۲

۹ مئی ۲۰۲۵

رکھو  اپنے کام سے کام، تب ہی ہوگا احترام

ابھی میں گاڑی پارک کرکے، مال میں داخل ہی ہوا تھا کہ دھر لیا گیا۔ جیسے وہ میرے انتظار ہی میں کھڑے ہوئے تھے۔ کہنے لگے، قاضی صاحب، آپ تو بہت خلاف لکھتے ہیں ، آج کل کیوں خاموش ہیں ؟ فرمائیے ناں۔ کیا تبصرہ ہے آپکا ہماری افواج کی کارکردگی پر۔ اور ہمارے شاہین  تو چھا گئے ہیں۔ جب کہ آپ کی طرف سے کوئی داد ندارد۔

میں نے راہ فرار چاہتے ہوئے، کہا، سر یہ جگہ ، جنگ پر بات کرنے کیلئے موزوں نہیں، پھر کبھی سیر حاصل بحث کرلیں گے۔ فرمانے لگے، آپ ملتے کہاں ہیں، چلیں، سامنے ہی سٹار بکس ہے، کافی اور کیک پیس میری طرف سے۔ اب آپ جان نہیں چھڑا سکتے۔ مجبوراً ساتھ جانا پڑا۔

میں نے کہا ، جناب میری تنقید، سیاسی مداخلت کے پس منظر میں ہوتی ہے، اگر وہ اپنے کام سے کام رکھیں تو انھیں کوئی کیوں برا کہے گا۔ ویسے تاریخی طور پر، جنگی معاملات میں بھی جرنیلوں کی کارکردگی ایسی  نہیں کہ جس پر فخر کیا جاسکے۔ میری بات کاٹتے ہوئے بولے۔ قاضی صاحب خدا کا خوف کریں، ہماری ائیر فورس کی پوری دنیا تعریف کر رہی ہے اور آپ ہیں کہ مان کر نہیں دے رہے۔ میں نے کہا جناب، ائیرفورس کو کون برا کہہ رہا ہے ؟ ہمارے شاہین تو ہمیشہ ہر معرکے میں چھائے رہے ہیں ، لیکن اسکی بھی ایک خاص وجہ ہے۔ ہمارے جرنیل بھی اگر ہماری ائیرفورس  کی طرح اپنے کام سے کام رکھیں تو یہ بھی ،  تاریخ رقم کر سکتے ہیں۔ 

ہنستے ہوئے بولے، مجھے پتہ تھا کہ آپ فلسفہ ضرور جھاڑیں گے۔ میں نے کہا محترم فلسفہ نہیں اصول کی بات ہے،۔ اگر آپ مجھے موقع دیں گے تو کچھ عرض کرسکوں گا۔ بولے جی ، سن رہا ہوں۔

میں نے کیک کا  پیس کھاتے ہوئے کہا کہ دیکھیں ، کیا ہم مارشل لا لگانے میں کسی ائیر مارشل پر الزام لگا سکتے ہیں ؟  کیا کسی ائیر مارشل نے آئین توڑا ہے؟  سیاسی حکومتیں گرائی یا بنائی ہیں۔ کسی الیکشن رزلٹ میں ہیر پھیر کے مرتکب ہوئے ہیں ؟ نہیں کبھی بھی نہیں۔ وہ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں اور انکا دھیان ملک کے دفاع پر ہی رہتا ہے۔ اسی لئے کوئی، نہ ان پر تنقید کرتا ہے اور نہ انکی کاردگردگی کو نشانہ بناتا ہے۔ ہاں انکا داؤ صرف PIA پر چلتا ہے۔ تو اس کا حال سب کے سامنے ہے۔ 

بولے، یہ کیا بات کہہ دی آپ نے ؟ 

میں نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا کہ برادرم ،  ناراض نہ ہوں، جب سے PIA بنی ہے اسکے جتنے بھی سربراہان رہے ہیں انکی لسٹ بنا لیں۔ 

۹۰ فیصد سربراہان، ریٹائرڈ ائیرفورس چیف تھے۔

اسکے علاوہ جو بندہ ائیرفورس سے ریٹائر ہوتا ہے، اسے PIA میں اونچی پوسٹ مل جاتی ہے۔

جبکہ PIA کا بٹھا بٹھانے میں، جو ڈیپوٹیشن پر ائیرفورس سے افسران لئے جاتے ہیں وہ خاص طور پر ہاتھ صاف کرکے جاتے ہیں۔ لیکن کمال ہے ہماری اسٹیبلشمنٹ اور اسکے پروردہ لکھاریوں اور  ٹی وی اینکروں  کا کہ نزلہ سیاستدان پر گرایا جاتا ہے۔

 پاکستان ائیر فورس کے (ریٹائرڈ )ائیرکموڈور عمران اختر ، جب PIA میں ڈیپوٹیشن پر آئے تو موصوف ،  ایک جہاز کی سستے داموں بیچ دینے کے مرتکب ہوئے لیکن کیس داخل دفتر کردیا گیا۔ 

میں نے محترم کو سمجھاتے ہوئے کہا : 

دل کے لٹنے کا سبب، پوچھو نہ سب کے سامنے 

نام  آئے  گا  تمھارا ، یہ  کہانی  پھر  سہی

میری باتیں سن کر ان کا غصہ غائب ہوتا دیکھ کر میں نے ان سے اجازت چاہتے ہوئے سمجھایا، کہ تنقید ان باتوں پر ہوتی ہے جو انکے کرنے کی نہیں ہوتیں ۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے