نکتہ داں-۱۱۳
۱۲ مئی ۲۰۲۵
کرنے کے اصل کام
یہ بات محض پاکستانی ذرائع ابلاغ نہیں ، بلکہ دنیا بھر کے تمام بڑے میڈیا ہاؤس ، یک زبان ہوکر، اس بات کی تائید کر رہے ہیں کہ مودی کو منہ کی کھانی پڑی۔ انڈین میڈیا پوری صحافتی دنیا میں شرمسار ، منہ چھپاتا پھر رہا ہے۔
لیکن میرا آج کا موضوع یہ نہیں ہے۔ میں تو مستقبل میں جھانک کر دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس جنگ سے دنیا میں کیا تبدیلیاں ہوتی نظر آرہی ہیں۔
مجھے یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں ، کہ چین، جو پچھلی نصف صدی میں دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت بن کر ابھرا ہے، اسکی وجہ ، چینی قیادت کی، چین کو دنیا کی مختلف مصنوعات کا پروڈکشن ہاؤس بنا دینا ہے۔ دنیا کے ہر براعظم کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی مارکیٹوں میں چینی مصنوعات ، فراوانی سے دستیاب ہیں ۔ اور چین کی برآمدی مصنوعات کے حجم کا مقابلہ امریکہ ، جاپان ، جرمنی اور برطانیہ بھی نہیں کر سکے۔ لیکن پھر بھی چین، اقتصادی طور پر نمبر دو ہے نمبر ون نہیں۔ اسکی وجہ، وار انڈسڑی میں امریکہ اور یورپ کی اجارہ داری ہے۔ دنیا میں، مغرب نے اپنی عسکری ٹیکنالوجی کی ایسی دھاک بٹھائی ہوئی ہے، کہ عام گمان یہی ہے کہ انکا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور اس ہی وجہ سےمغرب اپنی عسکری مصنوعات کی منہ مانگی قیمت لیکر دنیا کے اقتصادی میدان میں چھائے ہوئے ہیں۔
پاکستان اور انڈیا کی اس چند روزہ جنگ نے چین کی چاندی کرادی ہے۔ اسکی عسکری ٹیکنالوجی نے اپنا لوہا منوالیا ہے اور دنیا کے تمام ترقی پزیر ممالک اب، اپنی عسکری ضروریات کیلئے امریکہ اور یورپ کی بجائے چین سے رجوع کرنے میں ذرا بھی تأمل نہیں کریں گے۔ یہ جنگ عسکری دنیا کے کاروبار میں ایک انقلابی تبدیلی لائے گی لہذا آئندہ دس سالوں سے بھی کم عرصے میں ، چین کو دنیا کی نمبر ون اقتصادی طاقت کے طور پر دیکھ رہا ہوں
اس وقت سب سے متفکر ملک، تائیوان ہوگا، کیونکہ اسکی ہٹ دھرمی کا انحصار امریکہ کی حمایت اور اسکے عسکری ہتھیاروں پر اعتماد تھا۔ اس جنگ کے نتائج، تائیوان کی قیادت کو چین سے اپنے تعلقات بہتر کرنے پر مجبور کریں گے
مودی سرکار ،پچھلی دہائی میں ،انڈیا کو، دنیا بھر میں عمومی اور مشرق وسطیٰ میں خصوصی طور پر ایشیا کی ایک ابھرتی ہوئی اقتصادی اور عسکری قوت جتانے میں کامیاب نظر آتی تھی،اس جنگ کے نتیجے میں ، انڈیا کے متعلق برتری کے تاثر کو شدید دھچکا لگا ہے اور پاکستان، جس کے متعلق ایک ناکام ریاست کا تاثر ابھارا جاتا رہا تھا، اس جنگ کے نتائج نے دنیا کو چونکا دیا ہے۔ دنیا میں عموماً اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں خصوصاً پاکستان کی پزیرائی ۲۸ مئی ۱۹۹۸ کی سطح پر لے آئی ہے جب پاکستان نے ایٹمی تجربہ کیا تھا۔
مودی سرکار، جو پاکستان کو گلی کے بدمعاش غنڈے کی طرح ہر دوسرے دن دھمکیاں دیا کرتی تھی اور انڈین میڈیا، جو آئے دن پاکستان کے متعلق منفی پر پیگینڈا کرتے تھے، اب کچھ کہنے سے پہلے کئی دفعہ سوچیں گے۔
لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ، پاکستان کی اس سنہری کامیابی کو، ملک میں سیاسی استحکام لانے کے بجائے، کامیابی کے نشے میں ، من مانی اور زور زبردستی کو ہی اپنا شعار بنائے رکھا تو ہم اس جیتی ہوئی بازی کو ، ملک کو اقتصادی طور پر مستحکم کرنے مشن سے بہت دور نکل جائیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ جرنل عاصم منیر، سیاسی اور اقتصادی میدان سے دستبردار ہوکر، اپنی پوری توجہ، فوج کو مزید، پروفیشنل فوج بنانے میں صرف کریں ۔اس عمل سے انکا نام ملکی تاریخ میں سنہرے حرفوں سے لکھا جائے گا
لیکن ، اس بات کو کھلے دل سے تسلیم نہ کرنا بھی بد دیانتی ہوگی کہ پاکستان کی اس واضح فتح کا سہرا جرنل عاصم منیر کی ڈاکٹرائن کے سر جاتا ہے۔ میں یہ بات جنرل باجوہ کی ڈاکٹرائن کے تقابلی جائزے کی وجہ سے کر رہا ہوں۔ جرنل باجوہ، قامت میں تو جرنل عاصم منیر سے بھاری بھرکم نظر آتے تھے لیکن دل انکا جرنل عاصم منیر کے مقابلے میں قدرے کمزور واقع ہوا تھا۔ وہ انڈیا کی ہر جارحیت کا جواب ترکی بہ ترکی دینے سے گریز کرنے میں ہی عافیت جانتے تھے لیکن جرنل عاصم منیر اس معاملے میں، انڈیا کو اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ پتھروں کی بارش سے دیکر امر ہوجائینگے ۔ لیکن ایک بات انھیں بھی پلے باندھنے کی ضرورت ہے، کہ اس طرح کا سخت رد عمل دشمن کیلئے ہوتا ہے۔ اپنے ملک کے لوگ چاہے آپکے مخالف ہی کیوں نہ ہوں ، اپنے ہی ہوتے ہیں۔ حافظ قرآن کو ، مجھے قرآن کا یہ حکم یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے، کہ جس حکم کو علامہ اقبال نے بہت خوبصورت انداز میں یوں پیش کیا ہے:
ہو حلقہٓ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق باطل ہو تو فولاد ہے مومن
میری رائے ہے کہ:
اگر عمران خان کو آزاد کردیا جائے
اگر بلوچستان میں حقیقی نمائندہ حکومت قائم کرکے، انکے سیاسی اور معاشی حقوق دیئے جائیں
اگر خیبر پختون خواہ اور فاٹا میں سیاسی سرگرمیوں کی مکمل اجازت دی جائے
اور اگر پورے پاکستان میں میڈیا آزاد کردیا جائے، تو پاکستان کو ایک حقیقی اقتصادی طاقت بننے سے انڈیا تو کیا، کوئی بھی مائی کا لال نہیں روک سکتا
وما علینا الا البلاغ
خالد قاضی