نکتہ داں-۱۱۴
۱۴ مئی ۲۰۲۵
پاکستان، امریکہ اور چین، دونوں کیلئے اہم ہو گیا ہے
گھنٹی بجی اور میری طرف سے ھیلو سننے سے پہلے ہی سوال داغ دیا، کہ قاضی صاحب کل ٹی وی پر آپ نے مودی کا اپنی قوم سے خطاب سنا ؟
میں نے جواباً پہلے تو انھیں سلام کیا، اور انھیں ہنستے ہوئے یاد دلایا کہ اصولاً تو فون کرنے والا سلام کرتا ہے، آپ بہت جلدی میں لگتے ہیں۔
کہنے لگے ارے صاحب سلام دعا تو آپ سے ہوتی ہی رہتی ہے، بس آپ فرمائیے کہ مودی کی تقریر سنی کہ نہیں۔ وہ تو بہت گرم تھا اور بہت ہی دھواں دھار تقریر تھی۔
میں نے انھیں بتایا کہ تقریر ٹی وی پر تو نہیں سنی، ہاں لیکن اخباری خبریں اور سوشل میڈیا پر چند کلپ ضرور دیکھے ہیں ۔ میرا سوال تھا کہ جناب آپکو پریشانی کس بات کی ہے ؟
کہنے لگے کہ مودی کے انداز اور الفاظ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سیز فائر زیادہ چلنے والا نہیں !
میں نے انھیں تسلی دیتے ہوئے کہا کہ نہیں جناب، انشااللٰہ خیر ہوگا۔
وہ مطمئن نہیں ہوئے اور کہنے لگے بھائی وہ تقریر کیا تھی پاکستان پر دھمکیوں کی بمباری تھی۔
میں نے انھیں ہنستے ہوئے بتایا کہ جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔ جب برسنے کا وقت تھا تو سیز فائر پر آمادہ کیوں ہوئے۔ یہ تقریر، دراصل اپنے لوگوں کیلئے تھی پاکستان کیلئے نہیں تھی۔کیونکہ گجرات کی وزارت اعلٰی کے دور سے جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی وہ پاکستان کے خلاف بڑھکیں مار مار کر ہی انڈین “اسٹرونگ مین” بن کر سیاسی میدان پر چھاگیا۔ جبکہ اس دفعہ، اس “اسٹرانگ مین” کی پاکستان نے بینڈ بجا دی۔ وہ انڈین عوام کو اپنے گودی میڈیا کے ذریعے طیش دلا دلا کر بہت پر امید کرچکا تھا لیکن نتیجہ انکی امیدوں کے بالکل برعکس نکلا۔ اب ہر طرف سے اسے سوالوں کا سامنا ہے۔ اس ہی لئے اس نے ایسی جذباتی تقریر کی، کیونکہ یہ اس کی سیاسی مجبوری تھی۔لیکن مودی کی یہ بڑھکیں بڑھکیں ہی رہیں گی۔ بلکہ میری سیاسی سوچ کے مطابق، اب شاید انڈیا اپنے سیاسی مطلع کو ٹھنڈا رکھے گا۔ اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کا اس پر امریکی دباؤ روز بروز بڑھے گا۔
فرمانے لگے وہ کیسے ؟ ٹرمپ کے مزاج کا تو کچھ بھی نہیں پتہ ۔ آج کیا کہے اور کل یو ٹرن لے لے۔
میں نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ میری سوچ کی وجہ کچھ یوں ہے:
* دنیا کی سیاسی پیش بندی اور منظر کشی ، عموماً تجارت ، اقتصادی اور قدرتی وسائل کے مطابق تشکیل دی جاتی ہے۔
* مغربی ممالک عموماً اور امریکہ خصوصاً دنیا بھر میں، عسکری تجارت پر اجارہ داری کی وجہ سے اقتصادی طور پر نمبر ون ہے
* پاکستان اور انڈیا کی حالیہ چند روزہ جنگ، چائنا کے اسلحے اور ٹیکنا لوجی کی ٹیسٹنگ لیباریٹری ثابت ہوئی ہے، جس کے نتائج نے پوری دنیا کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا ہے۔
* ڈونلڈ ٹرمپ اول و آخر ایک تاجرانہ ذہن رکھتا ہے اور سیزفائر میرے خیال میں اسی وجہ سے کروایا ہے کہ چائنا کے اسلحے اور ٹیکنالوجی کی ٹیسٹنگ فوراً بند کی جائے۔
* امریکہ کو سمجھ آگئی ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر قائم رہتا ہے، چائنا کی لیباریٹری بھی چلتی رہے گی اور اس کے نتائج کی وجہ سے ہماری عسکری دکان کو تالے لگنے کا احتمال رہے گا۔جبکہ چائنا ، مسئلہ کشمیر کو اپنے کاروبار کی ایڈورٹائز کا بہترین ذریعہ سمجھتا ہے۔
*ٹرمپ کی، مسئلہ کشمیر حل کروانے کی حالیہ پیشکش (بلکہ درون خانہ انڈیا پر دباؤ) کی وجہ یہی ہےاور وہ پاکستان اور چائنا کی مضبوط دوستی کو اپنے عسکری کاروبار کیلئے زہر قاتل سمجھنے لگا ہے۔ اور پھر اسے بلوچستان کے ریڈووک منصوبے میں بھی دلچسپی ہے۔ لہذا امریکہ چاہے گا کہ پاکستان کو کسی بھی قیمت میں راضی کرکے اسکا چین کے ساتھ تعلق توڑا جائے۔ یہ کام پاکستان میں جمہوری دور میں ممکن نہیں ہے
لہذا مجھے فکر کچھ اور ہی ہے۔
لیکن یہ طے ہے کہ اس وقت پاکستان، چین اور امریکہ، دونوں طاقتوں کیلئے اہم بن گیا ہے۔
اللٰہ العالم
خالد قاضی