نکتہ داں – ۱۱۷
۲۳ مئی ۲۰۲۵
جتنا قاعدہ۔۔اتنا فائدہ
رب ذوالجلال نے اس کائنات کے مختلف اجزأ کی تخلیق، انکے ازل سے ابد تک قائم رہنے، اور متواتر، اپنے اپنے مدار میں رہ کر، اپنے اپنے تفویض شدہ، فرض کی کامیابی سے ادائیگی کرتے رہنے کی وجہ، محض قاعدے اور قانون کی پاسداری کرنے پر قائم رکھی ہے۔ اگر یہ پاسداری نہ ہوتی، تو یہ کائنات کب کی فنا ہو چکی ہوتی۔ اب بھی، اگر کوئی ، خلاف قاعدہ ، عمل رونما ہو جائے، تو اس کے نتائج، پوری نوع انساں کیلئے پریشانی، نقصان یا تباہی کا سبب بنتے رہتے ہیں۔ مثلاً کرہ ارض کے کسی حصے میں ہوا کا دباؤ کم ہوجائے تو، آندھی، طوفان اور سائیکلون پیدا ہو جاتے ہیں۔ زمین کی نچلی پرتیں، اپنا توازن کھودیں تو زلزلوں کا سبب بنتی ہیں اور زمین کے اندر کا لاوا، اگر بے قابو ہوجائے تو سونامی اور آتش فشاں بن کر تباہی پھیلاتے ہیں۔ گویا، دنیا کے پرسکون رہنے کا دارومدار ، کائنات کے تمام اجزأ کا ، ایک طے شدہ نظام پر عمل کرتے رہنے، اپنی حدود و قیود میں قائم رہنے اور ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہ کرنے کی وجہ سے ہی ممکن ہوا ہے۔
یہ باتیں تو خالق دو جہاں کے بنائے ہوئے نظام کی ہیں، لیکن انسانی دنیا میں بھی، سکون، طمانیت، خوشحالی اور امن، وہیں قائم ہے جہاں انصاف کی پاسداری، قانون پر عمل، اور حقوق اور فرائض کی ادائیگی کی جاتی ہو۔
دنیا کے وہ تمام خطے، جہاں یہ سب کچھ نہیں ہوتا یا کم ہوتا ہے، وہاں امن و آتشی ڈھونڈنے کو نہیں ملتی۔نہ معیشیت چلتی ہے، نہ امن قائم ہوتا ہے اور نہ وہ ممالک دنیا میں اچھے ناموں سے پہچانے جاتے ہیں۔
آج، مورخہ ۲۲ مئی ۲۰۲۵، جرنل عاصم منیر کو، فیلڈ مارشل کے عہدے پر سرکاری طور پر ترقی دیدی گئی۔ یہ عمل خوش آئندہ بھی ہے اور خوفناک بھی۔
ہندوستان اور پاکستان کے حالیہ تنازعے کے پس منظر میں، ملک کا دفاع کرنے اور دشمن کو سبق سکھانے کے لحاظ سے یقیناً یہ ایک خوش آئندہ عمل ہے۔ لیکن، پاکستان کی ستر سالہ تاریخ، جہاں، کوئی بھی سیاسی حکومت، کبھی بھی، اپنی مدت ( کم از کم اب تک) پوری نہیں کر پائی جبکہ اسکے برخلاف، جرنیلوں نے، اپنے آئینی طور پر ، مقرر کردہ مدت سے،بزور طاقت از خود ، نہ صرف تجاوز کیا، یا پھر سیاسی حکومتوں کی کلائی مروڑ کر، اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروائی۔ایسی سیاہ تاریخ کے پس منظر میں فیلڈ مارشل کے عہدے پر یہ ترقی، جمہوری نظام کی کمزوری واضح کرتی ہے۔
پریشانی کی وجہ، کسی واضح اعلان کی غیر موجودگی بھی ہے۔
اس عہدے کی مدت کیا ہے، فیلڈ مارشل کے اختیارات کیا ہونگے۔ اس متعلق کسی کو کچھ پتہ نہیں۔
جرنل عاصم منیر، کی مدت اس سال نومبر میں ختم ہوا چاہتی تھی جسے شہباز شریف نے مدت ملازمت میں توسیع کرکے مزید دو سال کا اضافہ کردیا۔ جرنل عاصم کے نامہ اعمال میں، ۲۰۲۲ کے فارم ۴۷ کے ذریعے منتخب کرائی جانے والی حکومت کا بوجھ بھی ہے۔ اور فارم ۴۷ والی حکومت، جب اپنے خالق کو، مراعات سے نوازے گی تو اس عمل پر شک ہونا لازمی بات ہے۔
تو کیا، اپنے ملک کا دفاع کرکے، بہترین کاردگی دکھانے کا اعتراف جرم ہے ؟ یقیناً نہیں۔ زندہ قومیں اپنی ہیرو شخصیات کو عزت اور احترام سے نوازتی ہیں۔ ضرور عزت افزائی کریں لیکن سر پر نہ بٹھائیں ۔ میری رائے میں بری اور فضائی فوج کے سپہ سالاروں کو اعزازات اور تمغوں سے ضرور نوازیں، انکی مدت ملازمت میں توسیع کا میں ہر گز قائل نہیں۔ ان دونوں حضرات کے پیچھے جو قیادت منتظر ہے، انکا حق نہ ماریں۔ وہ بھی قابل ہیں اور ان میں بھی وہ تمام صلاحیتیں ہیں جو ہمارے موجودہ آرمی اور ائیر چیف میں ہیں۔
میں، ڈرا ہوا اس وجہ سے بھی ہوں کہ ہمارے پچھلے وزیر اعظم عمران خان نے بھی، جرنل فیض حمید پر، بوجہ مہربان تھے اور ان دونوں کرم فرماؤں کا منصوبہ اگر کامیاب ہوجاتا تو پاکستان سیاسی طور پر ایوب خان کے زمانے میں پہنچ چکا ہوتا۔
لیکن آپ سب کی دلچسپی کیلئے میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ جب جب ، کسی آرمی چیف نے اپنی مدت اقتدار میں اضافہ کیا، اسکے خلاف کاروائی، اسکے اپنے ادارے یعنی فوج ہی کے ہم رکاب ساتھیوں کی طرف سے کی گئی۔
ایوب کو ہٹانے میں یحییٰ ، ضیا کی ہلاکت میں ، اس ہی کے ساتھی، مشرف کی صدارت سے ہتک آمیز برطرفی میں کیانی اور باجوہ کے عزت گنوا کر جانے میں فوج ہی کے ادارے کے ہم رکاب جرنیل ملوث تھے۔ آج ، اگر جرنل عاصم بہت مضبوط نظر آتے ہیں تو، ایوب، ضیا ، اور مشرف کا ، کروفر بھی، پاکستان کے عوام کو یاد ہے
وقت بدلتے دیر نہیں لگتی لہذا عہدہ نہیں عزت مانگنی چاہئے
وما علینا الاالبلاغ
خالد قاضی