نکتہ چیں – ۱۱
۲۸ مارچ ۲۰۲۴
آج عمران خان کے ایک زبردست مداح نے، ایک ٹیکسی ڈرائیور کا پیغام ، جس میں اس نے اپنے جواں سال بیٹے کے کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے اور پھر شوکت خانم ہسپتال سے علاج کروا کر صحتیاب ہونے کا ذکر کیا۔
میرے مہربان دوست کے مطابق میں عمران خان کی حمایت کیوں نہیں کرتا ؟
میں نے جواباً انھیں لکھا :
یہ بات بالکل درست ہے اور اس خدمت خلق کے کام کو نہ ماننا سراسر زیادتی ہوگی
لیکن میرے محترم ، اگر کوئی یہ کہے کہ ، نصرت فتح علی خان ایک بہت بڑا گائک تھا اور اس کی گائی ہوئی بہترین قوالیاں، غزلیں ، گیت اور ٹھمریاں سنا سنا کر یہ کہے کہ وہ فٹ بال بھی کھیل سکتا ہے، اور اسے فٹ بال ٹیم کا کپتان بھی ہونا چاہئے، تو ہنسی آئے گی
خدمت خلق ایک الگ شعبہ ہے اور سیاست اور حکومت کچھ اور
عمران خان کی بے وقوفیوں نے اسے اس جگہ پہنچایا ہے
اس نے سب سے بڑی غلطی ، اسمبلیوں سے استعفے دیکر کی، پھر دوسری غلطی دو صوبائی حکومتیں ختم کر کے کی، اور اب تیسری بہت بڑی غلطی کی ہے، اگر وہ نہ کرتا تو اس وقت جیل سے آزاد ہوتا
وہ کیا غلطی کی ہے وہ میں بتاتا ہوں
مجھے بتائیں کہ اس وقت وزیراعظم کون ہے ؟ شہباز شریف ہے۔ کیوں ہے ؟ کیونکہ PPPنے اسکی حمایت کی ، اس وجہ سے حکومت بنانے کیلئے انکے نمبر پورے ہوگئے
اگر PPP کے ساتھ PTI نے الحاق کیا ہوا ہوتا، جو کہ PPP کی پہلی ترجیح تھی اور انھوں نے PTI سے رابطے بھی کئے، لیکن عمران (جو کہ سیاسی طور پر کم عقل ہے) نے منع کر دیا۔ اگر مان جاتا تو اس وقت شہباز شریف کی جگہ وزیر اعظم PTI کا ہوتا
اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔ مجھے بتائیں کہ عمران 2018 کے الیکشن سے پہلے MQM، شیخ رشید اور چودھریوں کے متعلق کیا کہتا تھا، لیکن کیونکہ اس کے نمبر پورے نہیں تھے اسی لئے اس نے ان لوگوں سے الحاق کرکے حکومت بنائی اور خود وزیراعظم بنا
اور ویسے بھی U ٹرن لینا تو عمران خان کی پہچان ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ
عمران خان نے ہسپتال اپنے پیسوں سے نہیں چندے کے پیسوں سے بنایا ہے
خدمت خلق اور سیاست دو علیحدہ شعبے ہیں ، دنیا کے بڑے بڑے لیڈر جو اپنے اپنے ملک میں بہت عزت اور احترام سے پہچانے جاتے ہیں
مثلاً، ماؤزے تنگ، امام خمینی، گاندھی، نیلسن مینڈیلا اور بہت سے دوسرے۔ ان میں سے کس نے ہسپتال بنایا تھا یا اور اس طرح کا خدمت خلق کا کام کیا تھا ؟
عمران خان کے پاس سوائے نفرت اور کبر و نخوت کے، اور کچھ نہیں ہے۔ اور یہی اس کے چاہنے والوں کا وطیرہ بن گیا ہے
اس نفرت کی دلدل سے نکلیں ، عزت کریں عزت کرنا سیکھیں۔ دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی، مستقبل آپکا ہو سکتا ہے، لیکن جو رویہ اپنا لیا گیا ہے وہ ایک مایوس شخص کا سا ہے جو بالکل نا امید ہوکر، اب بس اپنی بھڑاس نکالنے کیلئے سب کو برے القابات سے نواز کر اپنا دل خوش کر رہا ہو