نکتہ داں -۱۲۳
۲۴ جون ۲۰۲۵
کفر ٹوٹا ، خدا خدا کرکے
میری گزشتہ کل ، مورخہ ۲۳ جون ۲۰۲۵ کی تحریر کے عین مطابق، آج ، اسرائیل اور ایران کے درمیان، سیز فائر کا اعلان ہوگیا۔
گو یہ اعلان پاک بھارت جھڑپ کے دوران اچانک ٹرمپ کے سیز فائر کروانے پر منطبق تو نہیں کیا جائے گا۔ لیکن اس مرتبہ بھی، ٹرمپ ہی نے یہ اعلان کیا ہے، لیکن ظاہری بات ہے کہ اس خوں ریز ڈرامے کو ختم ہونا تھا۔
اپنی بات سمجھانے کیلئے، مجھے آپ کو وہ سماں یاد دلانا پڑے گا، کہ جب ۲۲ اپریل ۲۰۲۵، کو پہلگام کے دردناک واقعے کے بعد، پورے ہندوستان میں، “ گودی میڈیا “نے پاکستان کے خلاف، نفرت، تعصب اور دشمنی کی آگ جلائی دی تھی۔اور جب ۷ مئی ۲۰۲۵ کی رات، انڈین میزائلوں نے پاکستان کے سول مقامات کو نشانہ بنایا، تو انڈین “گودی میڈیا” پر ایک پاگل پن سوار تھا۔ وہ، غرور، تکبر اور فرعونیت کے نشے میں، انڈین افواج کی فتح کے جھوٹے افسانے گھڑ گھڑ کر بیان کر رہے تھے۔ انکے مطابق، لاہور ، اسلام آباد اور کراچی پر کامیاب حملے ہوچکے تھے۔ انڈین فوج نے جرنل عاصم منیر کو گرفتار کر لیا تھا اور شہباز شریف، بنکر میں کہیں چھپے ہوئے تھے۔ انڈین عوام اور میڈیا کا خمار اس وقت ٹوٹا، جب انھیں معلوم ہوا کہ ٹرمپ کے کہنے پر مودی سرکار سیز فائر پر راضی ہو گئی ہے۔
ہندوستانی عوام کا یہ نشہ تو گودی میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کی وجہ سے تھا، لیکن اسرائیلی یہودی تو پچھلی نصف صدی سے، اپنی فوج کے، پورے مشرق وسطیٰ کے “عرب” ممالک کو ناکوں چنے چبواتا دیکھتے آئے تھے۔ اس لئے ایران پر اسرائیل کے حملے کے متعلق بھی انھیں کامل یقین تھا، کہ اسرائیل فتحیاب ہوگا۔انکے اطمینان کی وجہ حملے کے ابتدائی نتائج بھی تھے۔
پہلے ہی دن ایران کی عسکری قیادت اور سائنسدانوں کو شہید کردینے اور فضائی برتری حاصل کرلینے کی اور اسرائیلی فضائی دفاعی نظام “آئرن ڈوم“ کی کارکردگی پر مکمل یقین ہونے کی وجہ سے، نیتن یاہو حکومت اور عوام ایک خواب غفلت کے زیر اثر تھے۔ایرانی میزائل اور ڈرونز، انھیں اتنا نقصان پہنچائیں گے یہ انکے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا۔ایران نے ابتدا میں اپنے جدید “خیبر شکن” میزائل استعمال نہیں کئے، لیکن جب بعد میں ان جدید آواز کی رفتار سے تین گنا تیز میزائلوں کو پے در پے استعمال کیا گیا تو، اسرائیل کے فضائی دفاع نظام اسے روکنے میں بالکل ناکام ہوگئے۔ جبکہ ایران، اسرائیل کے, عسکری، تحقیقی، دفاعی اور صنعتی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا بنا کر نیست نابود کرتا چلا گیا۔
سی این این کی رپورٹر ، لائیو ٹی وی نشریات کے دوران بتا رہی تھی، کہ اسرائیل کے حقیقی نقصان کو حکومتی پالیسی کی وجہ سے ہم بتا نہیں سکتے ۔
جبکہ اسرائیلی عوام، جو طاقت کے نشے میں موت کو بھول چکے تھے، انھیں اب، اپنی جان بچانے کیلئے لئے ، روز شب کا بیشتر حصہ پناہ گاہوں میں گزارنا پڑا، اپنے گھروں کو تباہ ہوتا دیکھ کر انھیں یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ہمارے ساتھ بھی یہ ہوسکتا ہے۔
اس ساری صورتحال نے نیتن یاہو کو امریکی صدر کے پیر پکڑ کر سیز فائر کروانے کی التجا کی۔
باقی میرے اندازے کے مطابق سارا ڈرامہ ہے۔
اور اس ڈرامے میں امریکہ، اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ایران بھی شامل ہے۔
میری سیاسی سوچ کے مطابق، ہر ایکٹر نے اپنا اپنا کام ایک طے شدہ ترتیب کے مطابق ادا کیا:
۱- ایران، اپنے نیوکلیر اثاثوں کو کسی زیادہ محفوظ جگہ پر منتقل کردے گا
۲- امریکہ ایران کے جوہری مراکز پر، باقاعدہ مطلع کرکے حملہ کرے گا
۳- ایران امریکی اڈوں پر باقاعدہ اطلاع دیکر چند میزائل داغے گا
۴- ہر فریق اپنے اپنے بیانیے کے مطابق ، اپنی اپنی کامیابی کا اعلان کرے گا
اور یہ جنگ، وِن وِن کی صورت، اختتام پزیر ہوجائے گی۔
اس سارے ہنگامے میں پاکستان کیلئے سیکھنے کے کئی اہم عنصر ہیں۔ ان عوامل پر قلم اگلی نشست میں اٹھائیں گے
خالد قاضی