NUKTADAAN

Reading: ‏۱۲۷۔ جو دلوں کو فتح کرلے،وہی فاتح زمانہ
Reading: ‏۱۲۷۔ جو دلوں کو فتح کرلے،وہی فاتح زمانہ

‏۱۲۷۔ جو دلوں کو فتح کرلے،وہی فاتح زمانہ

admin
7 Min Read

نکتہ داں -۱۲۷

۱۶ جولائی ۲۰۲۵

جو دلوں کو فتح کرلے،وہی فاتح زمانہ

حالیہ ، پاک بھارت کشیدگی اور جھڑپ کے بعد، بین الاقوامی فورموں، مختلف میڈیا چینرلز اور صحافتی شخصیات سے انٹرویوز کے دوران، بلاول بھٹو نے پاکستانی موقف، نہ صرف بڑی کامیابی سے پیش کیا، بلکہ ہندوستان کے بیانیے کو جھوٹ، غلط بیانی اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ ثابت کیا۔ 

مختلف اخبارات نے بلاول کی کارکردگی پر نہ صرف خبریں شائع کیں بلکہ اپنے اپنے انداز میں اداریے اور تبصرے بھی شائع کئے۔

ایسے ہی ایک اخباری تجزئیے کو جب میں نے اپنے احباب میں فارورڈ کیا تو، میرے ایک بہت ہی قابل احترام، ذہین، صاحب حیثیت اور صاحب الرائے ، اردو داں دوست نے شرارتاً لکھا کہ، 

“ پاکستان کب تک ، بھٹو خاندان کے زیر اثر رہے گا ؟”

میں نے جواباً تحریر کیا کہ، چنگ شاہی خاندان نے چین پر، مغل بادشاہوں نے برصغیر پر اور دنیا میں درجنوں خاندانوں نے صدیوں اپنے اپنے  علاقوں میں حکمرانی کی ہے۔ بادشاہتوں کے خاتمے کے بعد بھی، دنیا میں خاندانی سیاست جاری رہی ہے اور رہے گی۔ کینیڈی اور بش خاندان امریکہ میں، گاندھی خاندان انڈیا میں، اور دنیا کے درجنوں ممالک میں سیاسی خاندان اپنا سیاسی  اثر رکھتے رہے ہیں اور رکھتے رہیں گے۔ عموماً کہیں سےمحض خاندانی تعلق کی وجہ سے کسی نے کسی پر  تنقید نہیں کی۔ تنقید اگر کی گئی ہے اور اگر کی جانی چاہئے، تو وہ صرف انکی کارکردگی پر کی جانی چاہئے۔

اس طرح کے خاندانی تعلق پر تنقید کرنے، کرتے رہنے اوراس پر ُمصِر رہنے سے، کراچی کے اردو داں دوست، دراصل اپنا سیاسی مقدمہ کمزور کردیتے ہیں۔

امریکہ، ۵۰ چھوٹے بڑے سٹیٹس کے اتحاد سے، دنیا کا طاقتور ترین ملک بنا ہوا ہے۔ اسکے ہر اسٹیٹ کا اپنا جھنڈا بھی ہے اور اسٹیٹ کی انفرادی خصوصیت کے بیان کرنے کیلئے ہر ایک کا علیحدہ “اظہاریہ” بھی ۔

میسے چو سٹس کو Sprit of America کہا جاتا ہے۔فلوریڈا Sunshine State کہلاتا ہے

کیلیفورنیا کی حکومتی سِیل اور نشانٗEUREKA ہے یہ ایک لاطینی کہاوت “میں نے پالیا” سے ماخوذ ہے۔ امریکہ کے تمام اسٹیٹ اپنا الگ قانون بھی رکھتے ہیں اور ان پر کبھی کسی نے کوئی اعتراض بھی نہیں اٹھایا۔

پاکستان کے چاروں صوبے بھی اپنی اپنی ثقافت اور اپنی اپنی خصوصیات رکھتے ہیں ، اگر کوئی صوبائی حکومت، اپنے صوبے کی کوئی علامتی پہچان کروانے کے اقدامات کرے، تو (میرے خیال میں )اس عمل کو ایک مثبت اقدام تصور کیا جانا چاہئے نہ کہ محض سیاسی اور لسانی نفرت فروغ دینے کا ذریعہ بنا کر دلوں میں دوریاں پیدا کی جائیں۔ سندھ حکومت کے گاڑیوں کی نئی نمبر پلیٹ پر، سندھی اجرک کی ایک باریک پٹی لگانے پر، اس وقت نفرت کے سوداگروں کو، اپنی بھڑاس نکالنے کا سنہری موقع ملا ہوا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر تضحیک اور نفرت بھرے بیانیے، روزانہ نئے نئے انداز میں پھیلا کر اپنے اندر موجود تعصب کی تسکین کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی پولیس کی وردی اجرک زدہ ہوجاتی ہے، کہیں کفن بھی اجرک کا ہوگا کہا جاتا ہے اور کبھی انڈر ویئر بھی اجرک کے ہونے کی نوید دی جاتی ہے۔

اس عمل سے کراچی کے صاحب عقل و دانش کس سیاسی فائدے کی توقع رکھتے ہیں ؟ 

سندھ میں رہنے والے ہر شخص کیلئے آگے بڑھنے، کی مکمل آزادی اور مواقع حاصل کرنے کی طلب ایک اصولی مطالبہ ہے ۔ ہر ایک کو اپنا سیاسی ، علمی، ثقافتی اور معاشی طور پر ترقی کرنے کا حق مانگنے کا حق حاصل ہے لیکن وہ حق،  پیار سے تو ضرور حاصل ہوگا، نفرت، تضحیک ، اور کمتر جاننے سے ہرگز نہیں۔ 

کراچی کے اردو دان دوست ، اگر سیکھنا چاہیں تو سندھ میں آباد بلوچ قوم سے سیکھ سکتے ہیں۔ بلوچستان سے ہجرت کرکے سندھ میں رہائش پزیر بلوچ، جن میں، مگسی، جتوئی، زرداری ، رند، لغاری ، لاشاری، لُنڈ، مغیری، چانڈیو وغیرہ شامل ہیں سندھ میں آکر سندھ کی زبان ، ثقافت اور یہاں کے سود و زیاں کو اپنا سود و زیاں سمجھا۔ اور نتیجتاً انھیں بھی پوری عزت و توقیر ملی۔ جب جتوئی وزیر اعلٰی بنا، یا موجودہ دور میں، جب زرداری سندھ کے تمام سیاسی فیصلے کرتا ہے تو کہیں سے کوئی اعتراض اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ یہ بلوچ سندھ پر کیوں حکمرانی کر رہا ہے۔

یہی حال پٹھان اقوام کا بھی ہے ۔ سندھ میں آباد مغل، درانی، آغا اور پٹھان قبیلے دراصل سندھ کی زبان اور ثقافت اپنا کر یہاں کے ماحول میں شیر و شکر ہو چکے ہیں اور انکے عہدوں پر کبھی کسی سندھی نے نقطہ اعتراض نہیں اٹھایا۔

نہروں کی تعمیر کے خلاف سندھ میں حالیہ احتجاج پر جب کراچی کا اردودان طبقہ  “تو مجھے کیا” کہہ کر خاموش رہا،  تو اس ہی دوران ایک پنجابی وکیل عامر نواز وڑائچ کو سندھ کے تمام طبقوں نے نہ صرف عزت توقیر سے نوازا بلکہ اسکے سندھ کے مسائل پر موقف کی تعریف کی۔ دوسری طرف سندھ کے سب سے بڑے تین شہروں کے میئر حضرات کو، اگر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنے ہی اردودان بھائیوں کی طرف سے، جبکہ سندھ کے کسی کونے سے تین بڑے شہروں کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے اردو بولنے والے میئر حضرات پر لسانیت کی وجہ سے کوئی تنقید نہیں کی گئی۔ 

مجھے نہیں معلوم، کہ میری مندرجہ بالا گزارشات کو کس نظر سے دیکھا جائے گا لیکن:

مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ ا للٰہ

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے