نکتہ چیں – ۱۲
۳ اپریل ۲۰۲۴
ارادہ تو یہ تھا کہ آخری عشرے میں، لکھنے سے احتراز کیا جائے ، لیکن آج ، ہاتھ نہیں رک رہا
تراویح “ بوروز اسلامک سینٹر “ کی مسجد میں پڑھنے کا فائدہ یہ بھی ہے کہ گھر سے قریب تو ہے ہی، لیکن روزانہ ۸ تراویح کے بعد، ڈاکٹر محمد لزونی کا مختصر لیکن فکر انگیز لیکچر بھی سننے
کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر لزونی، گو فزکس میں PhD ہیں لیکن، قرآن اور حدیث پر انکی گرفت،اور اس پر انکا انداز بیان ذہنوں کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ انکی اسی خصوصیت کی وجہ سے ،خصوصاً نوجوانوں میں وہ محبوب اور معزز شمار کئے جاتے ہیں۔
آج کے لیکچر میں ڈاکٹر لزونی نے حضور اکرم صلعم کی حدیث بیان کرتے ہوئے، فرمایا کہ نبی کریم صلعم نے صحابہ کرام سے مخاطب ہوکر انھیں ایک ایسے شخص کا واقعہ سنایا جسے اللٰہ نے اپنے فضل سے مال و دولت سے بہت نوازا تھا ۔ اور اسے لوگوں کی خاموشی سے مدد کرنے کے جذبے سے بھی سرشار کیا تھا ۔
اس کی سوچ یہ تھی کہ مدد اس طرح کی جائے کہ، جسکی وہ مدد کر رہا ہے اسکے متعلق نہ اسے کچھ پتہ ہو اور نہ اسکے متعلق، مدد پانے والے کو معلوم ہو کہ اسکی مدد کس نے کی ہے۔
اسی مقصد کے پیش نظر، وہ رات کی تاریکی میں، اپنا منہ ڈھانپ کر نکلتا ، اور اندھیرے میں، بغیر پہچانے، لوگوں کی مدد کرکے چلتا بنتا۔
ایک دن، جب رات کے اندھیرے میں اس نے کسی خاتون کی مدد کی، تو صبح اس نے
چہ مینگوئیاں سنیں، کہ رات کے اندھیرے میں کوئی شخص بن دیکھے کسی طوائف کی مالی مدد کرکے چلتا بنا ہے۔
یہ سن کر، وہ اپنے کئے کی قبولیت کےمتعلق فکر مند ہوا ۔
دوسری رات پھر اس نے اپنے معمول کے مطابق، اندھیرے میں کسی کی بنا پہچانے مالی مدد کی۔ اگلی صبح پھر اس کی پریشانی میں اضافہ لیکر آئی۔ آج یہ خبر زبان زد عام تھی کہ ایک مشہور زمانہ ڈاکو کی رات کے اندھیرے میں مالی مدد کی گئی۔ یہ بات سن کر وہ پشیمان ہوا، لیکن، اس نے اپنے معمول کے عین مطابق، پھر رات کو خاموشی سے کسی کی مدد کی۔ صبح اٹھا تو یہ سن کر ششدر رہ گیا، کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ آج رات ایک غیر مستحق اور مالدار شخص کی جھولی بھر دی گئی ہے
وہ اپنے عمل کی قبولیت کے متعلق ڈانواں ڈول تھا، لیکن پھر بھی اس نے اپنے طریقہ مدد کو نہ چھوڑا اور رات کی تاریکی میں، کسی حقیقی ضرورت مند کی تلاش میں نکلا۔ آج اسے اندھیرے میں ایک فرشتے نے (جو انسانی شکل میں تھا) اسے روک کر خوشخبری سنائی کہ مایوس نہ ہو تیری تمام خیرات، اللٰہ نے قبول کرلی ہیں اور تیرے فعل کو رب العزت نے پسند فرمایا ہے، کیونکہ، جس طوائف کی تو نے انجانے میں مدد کی، وہ تیرے انداز سے متاثر ہوکر اپنے پیشے سے تائب ہوگئی ہے، جس ڈاکو کی تونے مدد کی، وہ اس سوچ سے شرمندہ ہوا کہ میں رات کے اندھیرے میں لوگوں کو لوٹنے نکلتا ہوں اور یہ شخص رات کے اندھیرے میں لوگوں کی مدد کو نکلتا ہے، اس خیال نے اسکے لئے توبہ کا دروازہ کھول دیا اور وہ ڈاکے ڈالنے سے تائب ہوگیا ہے۔ اور جس غیر مستحق مالدار شخص کی تو نے مدد کی، وہ غرباء کی مدد میں بخیل تھا، لیکن تیرے کردار سے وہ اسقدر متاثر ہوا کہ اس کا دل بھی بدل چکا ہے اور اس نے اپنے مال کے دروازے غریب لوگوں کی مدد کیلئے کھول دئیے ہیں۔
حضور اکرم صلعم نے صحابہ کو تاکید کی۔ کہ کسی کے ظاہری عمل پر فیصلے صادر کرنے سے پرہیز کرو اور ہر ایک کے متعلق حسن ظن سے کام لو اور بد ظنی سے اجتناب کرو۔
آج سوشل میڈیا کے دور میں، بدظنی، تہمت بازی، لوگو ں کی رائے پر بد ظنی سے کام لیکر انکے متعلق ججمنٹ صادر کرنا،معمول بن چکا ہے۔ لوگ اپنے دوستوں ، اپنے جاننے والوں اور اپنے اقربا کے متعلق بھی قیاس آرائیوں ، بد گمانیوں اور بد ظنی سے کام لیکر ، انکے متعلق بات کرتے وقت، طنز ، ذومعنی جملے، اور بد ظنی کے اظہارمیں ذرا سی شرم بھی محسوس نہیں کرتے۔
گو آج کے پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری اسکی موجودہ معاشی ابتری کو گردانا جاتا ہے لیکن میرے رائے میں ہمارا معاشرہ،
حسن ظن کے معاملے میں جتنا آج قلاش ہے اتنا اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔