نکتہ داں-۱۲۹
۱۳ اگست ۲۰۲۵
امید بہار
تحریک انصاف کی گزشتہ حکومت کے اسپیکر قومی اسمبلی، جناب اسد قیصر نے اپنے دور حکومت میں، جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کو تحریک انصاف کی سب سے بڑی غلطی گردانا ہے اور اس فیصلے پر، پاکستان کے عوام سے معافی بھی طلب کی ہے۔ چلیں اگر وقت نے کسی کو غلطی کا احساس دلایا ہے اور وہ معافی کا بھی طلبگار ہے تو اسے ایک مثبت تبدیلی کہا جانا چاہئے۔ میرے خیال میں، تحریک انصاف کی حکومت کے دوران، غلطیوں کی ایک لمبی قطار ہے، کہ جس پر ، اسد قیصر صاحب اور انکے ساتھیوں کو نہ صرف سوچنا چاہئے بلکہ کھلے دل سے معذرت بھی کرنی چاہئے۔
لیکن دوسری طرف، ایک ایسے شخص نے، کہ جس کا عوام میں (میری رائے میں) نہ کوئی مقام ہے اور نہ کوئی عزت، بلکہ اسکا تعارف بس، پنڈی پانڈوں کی بندوق برداری یا انکی چلم سیدھی کرنا رہ گیا ہے۔ وہ، ہر ٹی وی چینل پر، ملک کے سیاستدانوں کو، اپنے آقاؤں کے ایما پر، نہ صرف دھمکیاں دینے پر مامور ہے، بلکہ وہ اپنے لہجے اور اپنے خاص منتخب الفاظ سے عوام اور جمہوریت کی تحقیر کرکے فخر محسوس کرتا ہے، نے اسد قیصر کو جواباً کہا ہے کہ:
“ایکسٹینشن نہیں تسلسل جاری رہے گا، رہے گا اور رہے گا۔ کسی میں دم ہے تو تسلسل روک کر دکھائے، پاکستان کی ترقی کا یہ سفر انشااللٰہ جاری رہے گا۔”
بھلا کون ہے یہ شخص؟
جی ہاں، آپ نے درست سمجھا، میں فیصل واوڈا ہی کی بات کر رہا ہوں۔
یہ تاریخ سے نابلد شخص، اس بات سے ناواقف ہے، کہ پاکستان کے تقریباً تمام ڈکٹیٹر، جس طاقت پر وہ تکیہ کرکے ڈکٹیٹر بنے پھرتے تھے، اسی ہی ادارے کے اپنے ساتھیوں کے ہاتھوں اتارے گئے ۔
ایوب خان کو یحییٰ خان کے ہاتھوں، ضیا کو اپنے ہی ساتھیوں، پرویز مشرف کو اس ہی کے سپہ سالار جنرل کیانی اور باجوہ کے زیر سایہ، جنرل فیض حمید کی سازشوں نے رسوا کرکے گدی سے ہٹوایا۔ فیصل واوڈا اس حقیقت سے ناواقف ہے کہ،ہر ڈکٹیٹر کے :
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔
تو پاکستانی قوم خاطر جمع رکھے اور میرے یہ الفاظ یاد رکھیں کہ، ہمارے فیلڈ مارشل کو بھی آؤٹ آف فیلڈ، کوئی اور نہیں، ان ہی کا کوئی ساتھی کرے گا۔
دوسری طرف، ہمارے حافظ صاحب، امریکی میزبانی کے نشے میں ، جو بھڑکیں مار رہے ہیں، انھیں نہیں معلوم، کہ امریکہ پاکستانی فوج کے کسی ایک جرنل پر تکیہ نہیں کرتا۔ امریکہ نے اپنے کام کروانے کیلئے، کئی کھڑکیاں کھول رکھیں ہیں، اور انکا وتیرہ ہے کہ:
تو نہیں اور سہی، اور نہیں، اور سہی
جب وہ دیکھتے ہیں کہ ہمارا پیادہ، شیر بن کر ہم ہی کو آنکھیں دکھانے لگا ہے، یا یہ کہ اب وہ ہمارے ایجنڈے کے بجائے اپنے ایجنڈے پر چل پڑا ہے، تو ِپھر، ایسے ڈکٹیٹر کو *پُھر*کر دیا جاتا ہے۔اس وجہ سے، حافظ صاحب اگر اپنی خیر چاہتے ہیں، تو بس انکی منظور شدہ لکھی ہوئی تقریر پڑھا کریں۔ اپنی بھڑکیں مارنے سے پرہیز بہتر ہے۔ کیا امریکی سرزمین پر، انکا یہ کہنا کہ “ اگر ہم ڈوبیں گے تو آدھی دنیا کو لے ڈوبیں گے” کے اعلان کو، اچھی نظر سے دیکھا گیا ہوگا ؟ بالکل بھی نہیں۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر ، میرے ایک پسندیدہ سیاستدان ہیں۔ وہ پیپلز پارٹی کے نہ صرف سینئر رکن تھے بلکہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر سینیٹر بھی منتخب ہوئے تھے اور بلاول بھٹو کے سیاسی ترجمان بھی تھے۔ لیکن، اپنی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کی وجہ سے پہلے انھوں نے سینیٹر شپ سے استعفٰی دیا اور پھر پارٹی سے بھی کنارہ کش ہوگئے۔ ہم پاکستانی، جو ہر سیاستدان کو برا بھلا کہنے کی عادت میں مبتلا رہتے ہیں، کو ایسے شخص پر رشک کرنا چاہئے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اعزاز سید کے وی لاگ میں، کچھ ایسی بات کی کہ جس نے مجھے چونکا دیا۔
ان سے سوال کیا گیا کہ آپ موجودہ حکومت کو کتنا مزید چلتا ہوا دیکھ رہے ہیں ؟ ان کا جواب تھا کہ خاتمہ قریب ہے، کیونکہ آئندہ ۶ مہینوں میں پیپلز پارٹی بھی اپوزیشن کا حصہ ہوگی۔
اور آج اخبار میں خبر دیکھی کہ بلاول بھٹو نے حیدرآباد میں پارک کا افتتاح کرتے ہوئے تقریر میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام صوبوں کیلئے ، این ایف سی ، ایوارڈ کا جلد اعلان کیا کرے۔
اس وقت پاکستان کا ہر چاہنے والا، پاکستان میں سیاسی استحکام چاہے گالیکن سیاسی استحکام محض خواہشوں سے نہیں آسکتا ۔ اسکے لئے، عدل، انصاف اور ہر صوبے میں یکساں ترقی لازمی ہے، جو کہ ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی، جبکہ ن لیگ کی ، اپنی مخلوط حکومت کے دوسرے شرکا ٔ سے یہی گزارش ہوتی ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے ، امید بہار رکھ
خالد قاضی