NUKTADAAN

Reading: ‏۱۳۰۔ کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے کسان کی معاشی موت
Reading: ‏۱۳۰۔ کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے کسان کی معاشی موت

‏۱۳۰۔ کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے کسان کی معاشی موت

admin
7 Min Read

نکتہ داں -۱۳۰

۱۷ اگست ۲۰۲۵

کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے کسان کی معاشی موت

سیموئل مور والٹن، ۱۹۱۸ میں اوکلاہاما کے ایک غریب کسان گھرانے میں پیدا ہوا۔ وہ، اپنے خاندان کی مالی مشکلات کی وجہ سے ، بچپن ہی سےمختلف چھوٹے بڑے کام کرتا رہا ، جس میں دودھ دوھنا، دودھ بوتلوں میں  سپلائی کرنا، اخبارات و رسائل بیچنا وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن محنت مزدوری، اسکی تعلیم میں رکاوٹ نہیں بنی۔

۱۹۴۰ میں معاشیات میں گریجویشن کرنے کے بعد، فوج میں شمولیت اختیار کی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر، ۱۹۴۵ میں اس نے فوج سے ملازمت کا بھی خاتمہ کیا اور اپنے سسر سے ۲۰۰۰۰ ہزار ڈالر اور اپنے پلے سے ۵۰۰۰ ہزار ڈالر ڈال کر رٹیل کے بزنس کا آغاز کیا۔ یہی قدم اسکی دنیا بدلنے کا سبب بنا۔ جدت پسندی اور سخت محنت کی وجہ سے، اس نے ایک سے دو اور دو سے تین رٹیل اسٹور بنا لئے۔ لیکن اس کا شوق یہیں ختم نہیں ہوا۔ اس نے رٹیل کے ایک ایسے سپر سٹور کا خواب دیکھا جس میں روزمرہ کی تمام چیزیں ایک چھت کے تلے موجود ہوں اور اس کی برانچیں امریکہ کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہوں۔ اسی خواب کی تعبیر کیلئے اس نے ۱۹۶۲ میں آرکنساس میں پہلے *وال مارٹ* اسٹور کا افتتاح کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، وال مارٹ ، نہ صرف امریکہ بلکہ امریکہ سے باہر بھی کھلنے لگا۔ دو دہائیوں میں، وال مارٹ کے ملازمین کی تعداد ۲۱ ہزار نفوس سے تجاوز کر گئی اور سیموئل والٹن دنیا کا امیر ترین شخص بن گیا۔ یہ مقام ۱۹۸۲ سے لیکر ۱۹۸۸ تک اسے حاصل رہا۔ یہ کہانی کا بس  ایک رخ ہے۔ والٹن کی یہ کاروباری عظمت اور کامیابی دراصل  لاکھوں چھوٹے چھوٹے کاروباروں کی موت کا سبب بنی۔ وال مارٹ کے قائم ہونے سے پہلے، امریکہ کے طول و ارض میں ، چھوٹے بڑے لاکھوں رٹیل اسٹور اپنا کاروبار کامیابی سے چلا رہے تھے اور لاکھوں خاندان اپنا نان نفقہ، کما کر اچھی زندگی بسر کر رہے تھے۔ لیکن وال مارٹ کے سامنے وہ مقابلہ ہار کر ایک کے بعد ایک بند ہوتے چلے گئے۔ اب وہ کاروبار چھوڑ کر وال مارٹ میں ملازمت کر رہے تھے۔ گویا، والٹن تو دنیا کا امیر ترین شخص بن گیا لیکن، ان لاکھوں خاندانوں کے نقصان اور انکے کاروبار کی بندش کی قیمت پر۔

یہی کچھ آج کل پاکستان میں ہونے جارہا ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور ملک کے طول و عرض میں کروڑوں افراد  زراعت سے منسلک ہیں۔ لیکن کارپوریٹ فارمنگ چھوٹے کسان کو بے روزگار کردینے کی قیمت پر ہی کامیاب ہوگی۔ بے شک، کارپوریٹ فارمنگ کی وجہ سے  دو چار یا درجن بھر ارب پتی پیدا ہوجائیں لیکن لاکھوں گھرانے جو چھوٹی موٹی زراعت کرکے عزت کی زندگی گزار رہے تھے وہ مزدوری پر مجبور ہوجائیں گے۔

کہا جاتا ہے کہ پانی کی کمی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی ، کارپوریٹ فارمنگ لیکر آئے گی۔ یہ ایک بودی تاویل ہے۔ حکومت کو چاہئے، کہ، وہ جدید ٹیکنالوجی کو چھوٹے کسان کو آسان قرضے پر مہیا کرکے اسکے رزق میں اضافہ کرے۔ مجھے یاد ہے کہ ۶۰ کی دہائی تک ہمارا کسان اپنی زمین پر  ہل، بیل سے چلایا کرتا تھا۔ لیکن پھر پیپلز پارٹی کی حکومت نے سستے ٹریکٹر آسان قسطوں پر کسانوں کو مہیا کئے۔ گویا ٹریکٹر اس دور کی زرعی ٹیکنالوجی تھا جسے حکومت نے مہیا کرکے، پیداوار اور کسان کی آمدنی میں اضافہ کیا۔

آج پیپلز پارٹی اپنے منشور اور اپنے نعروں کو بھول کر سندھ میں ۵۲۰۰۰ ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی زمین، پاکستانی فوج کے ایک ذیلی ادارے کو الاٹ کر چکی ہے ۔ اس اقدام کے خلاف، سندھ کی وکلا برادری وزیر اعلٰی ہاؤس کے باہر احتجاج کا ارادہ رکھتی ہے۔ 

میری رائے میں ، زرداری راج کا سندھ پر ، یہ دوسرا بڑا وار ہے۔ پہلا وار کئی سال پہلے، زرداری اور ملک ریاض ، سندھ کی زمینوں پر قابض ہوکر،  کرچکے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی کی قیادت اگر کاروباری فیصلوں کے بجائے سیاسی فیصلے کرتی، تو ملک ریاض سے ان زمینوں کی مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پیسے وصول کرکے، کراچی اور سندھ میں ایک بہترین مواصلاتی نظام قائم کرسکتی تھی جس میں، کراچی شہر کے اندر  پلرز کا جال بچھا کر، چھوٹی الیکٹرک ٹرین چلائی جاسکتی تھی، الیکٹرک بسوں کا ٹریک بنایا جاسکتا تھا اور یہ عمل اسے دوسرے صوبوں میں بھی مقبول کر سکتا تھا۔

سندھ میں گزشتہ سالوں کے تباہ کن سیلاب سے لاکھوں گھر بہہ گئے تھے۔ اس مسئلے کو پیپلز پارٹی نے بہتر انداز سے قبول کیا اور اخباری اطلاعات کے مطابق، اب تک دو لاکھ گھر مکمل ہوچکے ہیں اور اگلے دو سالوں میں مزید ۶ لاکھ گھر مکمل ہوجائیں گے اور گوگل کے مطابق ۲۱ لاکھ گھر بنا کر ایک کروڑ لوگوں کو آباد کرنے کا یہ دنیا کا اب تک کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے پر اعتماد کرنے کی وجہ، ہمارے میڈیا کے دومعتبر ناموں رؤف کلاسرا اور محمد مالک کے تحقیقی پروگرام دیکھ کر ہوا ۔

اگر اچھا کام ہوگا تو اسکی تعریف بھی ہوگی، لیکن برے کام، اچھے کاموں کے اثر کو بھی کم کر دیتا ہے۔ یہ بات کوئی پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کو کیسے سمجھائے ۔ بہرحال

مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰہ اللّٰہ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے