نکتہ داں -۱۳۱
۲۱ اگست ۲۰۲۵
نفرت نہیں، سمجھداری
چند ماہ قبل، میرے خالازاد بھائی، امریکہ تشریف لائے۔ فلوریڈا میں ایک کانفرنس سے فراغت کے بعد، انھوں نے بوسٹن کا رخ کیا اور مجھے پاکستان کے ہر دورے کے دوران انکی خدمات اور خاطر مدارات کو، کچھ لوٹانے کا موقع نصیب ہوا۔
علم سے انکے لگاؤ نے، بوسٹن کی دو عظیم درسگاہوں MIT اور ہارورڈ کو دیکھنے کی خواہش ، میں نے یہ کہہ کر پوری کی، کہ بھائی، مجھے ان دونوں درسگاہوں کے حدود اربعہ کے علاوہ کچھ پتہ نہیں۔ کیوں نہ دورہ باضابطہ TOUR کی صورت میں ہو۔ لہذا آن لائن دو ٹکٹ خرید کر، ہم وقت معینہ اور جائے مقررہ پر پہنچ گئے۔ MIT کا دورہ صبح کو اور ہاورڈ کا سہہ پہر کو تھا۔ دونوں دوروں کے “نا خدا”، پی ایچ ڈی سٹوڈینٹ تھے اور دونوں نے اپنے اپنے انداز میں دونوں درسگاہوں کے تمام اہم شعبوں کا نہ صرف دورہ کروایا بلکہ، ان درسگاہوں کی تاریخ، انکے علمی ارتقأ کی داستان اور انکی تعمیر اور ترقی میں شامل مختلف افراد اور انکی خدمات کا ذکر بخوبی کیا۔ موجودہ دور میں ان علمی درسگاہوں کے دروازے، دنیا کے ہر قابل اور لائق شخص کیلئے بنا کسی نسل، مذہب اور علاقائی تعلق کے، ہر ایک پر کھلے ہوئے ہیں۔
ان دوروں کے بعد، میں اس بات پر غور کرتا رہا کہ، دنیا کو ۲۱ ویں صدی کی ہوشربا علمی اور ٹیکنالوجی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے والی مختلف علمی شخصیات کا تعلق، دنیا کے مختلف مذاہب سے یا پھر لادینی شخصیات ہیں، لیکن مسلمان سکالروں کا نام خال خال ہی نظر آتا ہے۔
یعنی یہ تمام اسکالر اپنے تمام علمی، ادبی اور دنیاوی معلومات کے باوجود ، مذہبی طور پر (میری سوچ کے مطابق) لا علم کیوں رہ گئے اور اسلام کی روشنی، علم کے ان متلاشیوں تک کیوں نہیں پہنچ پائی ؟
اس کی وجہ جو سمجھ میں آئی وہ ہے:
*اگر، دل میں تعصب اور نفرت، گھر کئے ہوئے ہو، تو علم و عقل ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔*
اسلام نے غیر مسلموں کو دین کی طرف راغب کرنے کیلئے، اسی لئے حکم دیا ہے کہ تم انکے جھوٹے خداؤں کو برا مت کہو کیونکہ اس سے احتمال یہی ہے کہ انکے دلوں میں تمھارے خلاف نفرت پیدا ہوگی اور اس نفرت کے زیر اثر، وہ تمھارے سچے خدا کو برا کہیں گے اور اپنے لئے ہدایت کے دروازے بند کر دیں گے۔ اسی لئے لایعنی بحث میں پڑنے کے بجائے کفار مکہ سے کہا گیا کہ، “لکم دین کم ولیدین”
پاکستان میں ، سیاسی تناؤ، نفرت، تعصب اور
ضد نے ، کچھ ایسا ہی ماحول پیدا کیا ہوا ہے۔
تمام سیاسی فریق اپنے اپنے مورچوں میں، مورچہ بند ہوکر ، سوشل میڈیا پر، سوائے ایک دوسرے پر گندے جملوں کی بوچھاڑ میں مشغول نظر آتے ہیں بلکہ بدتہذیبی اور بد ظنی سے بھرپور پوسٹ بنا بنا کر فارورڈ کرتے رہتے ہیں اور اس کام میں دلی سکون پانے کی کوشش میں، بد تہذیبی کا کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے۔
آجکل پاکستان بھر میں طوفانی بارشوں کی وجہ سے ہمارے مختلف مکتبہ فکر اور سیاسی وابستگی کے لوگ ، اپنی اپنی سیاسی بھڑاس نکالنے کیلئے، اپنی علمی قابلیت ، اصول پسندی اور اپنی تہذیبی روایات کو طاق نسیاں پر رکھ کر، مظاہر جہل بنے ہوئے نظر آتے ہیں۔
سیاسی بدتمیزی کا یہ عمل پہلے پہل، پنجاب اور لاہور میں شدید بارشوں کے بعد نظر آیا اور بھائی لوگوں نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز پر اپنے اپنے انداز میں وار کرنے شروع کئے ۔ اس کے بعد خیبر پختون خواہ کے وزیر اعٰلی علی امین گنڈا پور کی شامت آئی۔ حالانکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ایسی بارشیں پہلے کبھی نہیں ہوئیں لیکن ان بارشوں کی تباہ کاریوں کی تمام ذمہ داری تحریک انصاف پر ڈال کر، یار لوگ اپنی سیاسی بھڑاس نکالنے لگے۔
یہ طوفان بد تمیزی ابھی تھما ہی نہیں کہ کراچی میں تاریخ کی بد ترین بارشوں کی وجہ سے، پہلے ہی سے لوڈڈ پستول کی طرح، لوگ، نفرت کی آگ کو،گولیوں کی بوچھاڑ کی مانند برساتے نظر آتے ہیں
حالانکہ ان ہی لوگوں نے، ایسی بارشوں سے دوبئی اور جدہ جیسے شہروں کو بھی ڈوبتے ہوئے دیکھا ہے۔امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک بھی ناگہانی بارشوں کی وجہ سے اپنے شہروں کو ڈوبنے سے نہ بچاسکے ۔
حالانکہ اس کی اصل وجہ سب کو پتہ ہے، لیکن دہشت گردی کے الزام میں دھر لئے جانے کے ڈر سے، اہالیان کراچی، اصل دہشت گردوں کا نام زبان پر نہیں لاتے۔ہاں مراد علی شاہ اور پیپلز پارٹی کو برا بھلا کہنا سب سے آسان بھی ہے اور محفوظ بھی۔
جب کراچی کے برساتی نالوں کی گزرگاہوں پر، تعمیرات کی جائیں گی، جب قدرتی نالوں پر بڑی رہائشی عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔ جب ڈفینس ۷ ایکسٹینشن اور ڈفیینس ۸ میں، پانی کی گزرگاہوں کو سالڈ ویسٹ سے بھر بھر کے، برساتی پانی کی گزرگاہوں کو بند کیا جائے گا، جب کراچی کے کرِیک جو قدرت نے شہر کو ڈوبنے سے بچانے کیلئے بنائے ہیں، ان کریکوں پر، *وسٹا کریک* جیسی رہائشی عمارتیں بنائی جائیں گی اور جب طاقتور طبقے غیر ملکی پارٹنر شپ سے، کراچی کی ساحلی پٹی پر عمارتوں کا جنگل بنا رہی ہونگی تو، شہر کی آبی گزارگاہوں کے راستے بند ہوکر سیلاب ہی لائیں گے ۔ اور مزے کی بات یہ بھی ہے کہ میڈیا پر ڈیفینس ہاؤسنگ سوسائٹی اور کینٹونمنٹ ایریا کی برسات کے بعد حالت کی تصویریں اور خبروں پر پابندی ہے۔ ہاں کراچی کی دیگر شاہروں کا ذکر کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ رہا ہوں۔
اس معاملے کا مستقل حل کیا ہے ؟
مستقل حل یہ ہے کہ کراچی کی انٹیلجینٹشیا اٹھے اور بغیر کسی تعصب اور سیاسی نفرت کے، کراچی سے متعلق ماہرین کے سروے اور رپورٹوں کے مطابق ، حکومت کے ساتھ بیٹھ کر، مرحلہ وار عمل کروانے کا پروگرام طے کرے اور حکومت کو اس پروگرام کے نفاذ میں وہ سیاسی پشت پناہی بھی مہیاکرے جو بڑے بڑے مافیاؤں ، (چاہے وہ تعمیراتی ہوں یا خاکی) کے خلاف حکومت کو سیاسی طاقت فراہم کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ اور حال ہی میں سندھ نے یہ مثال قائم کرکے دکھا دی ہے۔ طاقتوروں نے تو طاقت کے بل پر پنجاب میں نہریں کھودنے کا کام شروع کردیا تھا۔ لیکن عوام کی طاقت کے آگے ، انھیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
کراچی کے عوام بھی، کراچی کے تمام کنٹونمنٹ ایریاز کو سول انتظام کے تحت لانے کی تحریک کا آغاز کریں اور کراچی میں تمام تعمیرات، اور رہائشی منصوبے، کراچی سے متعلق ماہرین کی رپورٹوں اور سروے کے مطابق تعمیر کی اجازت دی جائے اور قدرتی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر جتنی بھی تعمیرات کی گئی ہیں انھیں منہدم کرکے انکے رہائشیوں کو پلاٹ دیئے جائیں۔ یہ سب کیا جاسکتا ہے، اس پروگرام پر عمل شروع کئے جانے کا ماحول بھی موجود ہے اور جوش بھی ۔سمجھداری تقاضہ کرتی ہے، ایک محبت اور بھائی چارگی کے ماحول کی۔ ہم نفرتوں کی آگ کب تک جلائے رکھیں گے
خالد قاضی