نکتہ داں -۱۳۳
۲۵ اگست ۲۰۲۵
مرکزیت نہیں شراکت کا فروغ درکار ہے
ابتدائے آفرینش سے ہی، انسان پیسے اور مال کی محبت لئے ہوئے اس دنیا میں آیا ہے۔ اور اس کی تصدیق قرآن نے ان الفاظ میں کی۔
“و انهُ لحب الخير لشديد”۔
اگرچہ دنیا کی لگن، ایسی بری چیز بھی نہیں ہے،بشرط یہ کہ وہ اپنی محنت و لیاقت سے حاصل کی گئی ہو۔
لیکن مال کی حرس اور دولت کی ہوس نے، انسان کو درندہ صفت بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس لالچ میں کبھی وہ بے بسوں کو غلام بنا کر خرید و فروخت کرتا رہا ۔ کبھی اس نے اپنی عسکری طاقت پر، دوسرے ملکوں پر قبضہ کرکے وہاں کے لوگوں کو غلام بنایا اور انکی افرادی، معدنی اور زرعی دولت لوٹ کر اپنے ملکوں کو گلستان بناتا رہا ہے۔
دنیا کی دو عالمی جنگوں کے بعد، کسی ملک کی تمام آبادی کو بزورعسکری طاقت ، غلام بناکر رکھنا اب ممکن نہیں رہا تھا۔ لہذا اس طرز عمل کو بدلنا پڑا، لیکن لوٹ مار کی عادت نہیں بدلی، لوٹنے کے طریقے ضرور بدل گئے ۔
طاقتور اور دولت مند ممالک، ترقی پذیر ملکوں کو غلام، اب اپنے پروکسی، یا مقامی نائبین کے ذریعے بنایا کرتے ہیں۔ طاقتور ممالک، خاص طور پر امریکہ، اپنے حمایت یافتہ، بادشاہوں، غیر منتخب فوجی ڈکٹیٹروں یا غیر مقبول حکمرانوں کے ذریعے یہ عمل پچھلی ۸ دہائیوں سے بخوبی انجام دیتا آرہا ہے۔مقصد محض اپنے نائبین کی معاونت سے، معدنی دولت کا حصول یا علاقے میں اپنے عسکری اہداف حاصل کرنا ہے۔
پاکستان کچھ عرصہ پہلے، اس خطہ ارض پر امریکہ کیلئے، اپنی تمام امریکہ کی مقرر کردہ خدمات ، انجام دیکر، تقریباً غیر متعلق ہوچکا تھا۔لیکن، تاجر صدر ٹرمپ کی دنیا بھر سے عمومی اور چین سے خصوصی، چھیڑی ہوئی تجارتی جنگ، نے امریکہ کو پاکستان میں چھپے ہوئے معدنی زخائر یاد دلا دئیے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے، کہ، پاکستان کی معدنی دولت، ۱۸ویں آئینی ترمیم کی رو سے، صرف مرکز کے زیر تسلط نہیں رہی۔ صوبے بھی اس میں حصے دار ہیں۔ جب آئین نہیں تھا، تو مرکز ہی تمام معدنی دولت پر قابض تھا اور اس مضبوط مرکز نے صوبہ بلوچستان کی سوئی گیس کی دولت کو سوائے وسطی پنجاب اور اسلام آبادکے اور کہیں خرچ نہیں کیا۔ بلوچستان تو بالکل ہی محروم رہا۔ لیکن اب ایسا ممکن نہیں ہوگا۔ بلکہ معدنی دولت کا ایک حصہ صوبوں کو بھی دینا ہوگا۔امریکہ بہادر کو یہ سب کچھ نہیں پسند۔ اسی لئے، اس نے ہمارے طاقتور کو، ایک دفعہ نہیں، دو دفعہ بریفنگ کیلئے بلایا۔ اور سجھایا کہ مضبوط مرکز بہت ضروری ہے۔ کوئی امریکہ سے پوچھتا کہ تمھارے اپنے ملک میں کیا قانون ہے۔ وہاں تو ہر اسٹیٹ اپنے فیصلے کرنے اور اپنی معدنی دولت کے اصراف میں آزاد ہے۔ ہاں مرکز کو کچھ حصہ ضرور ملتا ہے۔ لیکن کوئی مضبوط مرکز کا عذر بنا کر اپنی ریاستوں پر شب خون نہیں مارتا۔ اور اس ہی وجہ سے امریکہ نہ صرف بیرونی طور پر بلکہ داخلی طور بھی بہت مضبوط اور مستحکم ملک ہے۔
آپ نے ضرور محسوس کیا ہوگا کہ، امریکی دوروں کے بعد، ، پاکستان میں گورننس کی خرابیوں کی آڑ میں اچانک، نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔اس بحث کا ظہور کچھ یوں ہوا:
* یہ عمل پہلے پہل، “مرکز کے اہم فیصلے” کے عنوان سے نامعلوم (کہ جسکا سب کو علم ہے) کی طرف سے فیصلہ سوشل میڈیا پر پھیلایا گیا کہ، مرکز نے ڈویژن لیول پر، نئے صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ کر لیا ہے ( جیسے یہ پاکستان ایک بے آئین ملک ہو اور لوگوں کی رائے کی کوئی وقعت ہی نہیں)۔
* پھر “سب کو معلوم اشخاص” جو نہ کوئی عوامی پزیرائی رکھتے ہیں اور نہ پہچان۔ انکی پہچان فقط “پنڈی کے بھونپو” ہے، کے ذریعے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ترقی کا دارو مدار مرکزیت پر ہے اور ترقی کیلئے ضروری ہے کہ صوبے، اس قدر مہین کر دیئے جائیں کہ وہ مرکز کے کسی فیصلے کے سامنے نہ کھڑے ہو سکیں اور اس کے ساتھ ساتھ ۱۸ویں ترمیم بھی ختم ہو تاکہ تمام دولت مرکز کے تحت ہو جس طرح سوئی گیس پر مرکز کی مکمل اجارہ داری تھی۔
* پھر تیسرا وار، پنڈی کے زیر اثر ،( بظاہر) مفکر، محققین، پروفیسروں، صحافیوں ، سیاسی قائدین اور لکھاریوں سے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر کالم ، مضامین، لکھوا کر عوام کو گمراہ اور کنفیوز کرنے کی کوشش شروع کردی گئی ہے اور ان زر خرید لکھاریوں کےذریعے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش ہے کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار اسی پر ہے کہ صوبے بھی چھوٹے جھوٹے درجن بھر ہوں اور پاکستان کی تمام دولت پر بھی مرکز پر قابض چند حکمران ہوں جن کے ہاتھ میں تمام فیصلے ہوں۔
* سندھ میں یہ عمل حال ہی میں نئے سرے سے، صوبائی عصبیت پر تیل چھڑکنے کی ذمہ داری ان سیاسی رہنماؤں اور لکھاریوں کو سونپ دی گئی ہے کہ جنکی پہچان ہی پچھلی نصف صدی سے تعصب کی سیاست ہے۔
کوئی بھی ہمیں یہ بتانے سے قاصر ہے کہ گڈ گورنس کے نہ ہونے کی اصل وجہ کیا ہے ۔
میری سوچ اور علم، اس کی وجہ ، ہمارا ۵۰۰ سال تک مغل بادشاہتوں اور انگریزوں کا غلام رہنا ہے کہ جسکی وجہ سے ہمارے ہر فرد کے اندر، چاہے وہ خاکروب ہو یا کالا، گورا صاحب ہو یا خاکی مرد آہن ، ہر سطح کے شخص میں ایک ڈکٹیٹر چھپا بیٹھا ہے۔ جبکہ آزادی کے بعد اب تک، ہماری اس قومی کمزوری کو بدلنے اور انسانوں کو انسان سمجھنے کی رغبت پیدا کرنے کی ، نہ کبھی حکومتی سطح پر، نہ معاشرتی سطح پر کوئی کوشش کی گئی ہے۔
ہم تو اپنی بیٹیوں کا رشتہ کرکے، اپنے احباب کو بخوشی یہ کہہ کر مطمئن کرنے کے عادی ہیں کہ ، میرے ہونے والے داماد کی تنخواہ بے شک کم ہے لیکن “الحمد للٰہ” اوپر کی کمائی خاصی ہے۔
دوسری بات جو ہمیں سمجھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ، چھوٹے صوبوں کی ہائی کورٹ اور تمام انتظامیہ بھی آپکے قریب ہوگی۔ ان تمام اضافی انتظامات کے اضافی خرچ کا یہ حل بتایا جاتا ہے کہ تمام صوبے اپنے انتظامی اخراجات کیلئے ٹیکس لے سکیں گے۔ گویا موجودہ مرکزی ٹیکسوں کے علاوہ، صوبائی ٹیکس ایک اضافی بوجھ ہوگا۔
ایک بودی دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ صوبوں کی سیاست پر کچھ خاندان حاوی ہیں اور ان ہی کی اجارہ داری قائم ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خاندانی سیاست کو ہر ڈکٹیٹر نے آکر اپنے سیاسی فائدے کیلئے زیادہ مضبوط کیا۔ اور دوسری بات یہ کہ صوبے چھوٹے ہوجانے سے یہ اجارہ داری ختم نہیں ہوگی بلکہ بڑھے گی ۔
گورننگ کے مسئلے کا حل، صرف یہ ہے کہ ۱۸ویں ترمیم کے ذریعے حاصل شدہ وسائل کو آئینی طور پر نچلی سطح تک لیجایا جائے اور موجودہ صوبوں کے تمام ڈویژنز مالی طور پر اپنا حصہ صوبائی حکومت سے وصول کرنے کا حق رکھتے ہوں۔ یعنی مالی طور پر قانونا” نچلی سطح تک سب کو فوائد ملیں۔
باعث اطمینان یہ حقیقت بھی ہے، کہ ان تمام، گمراہ کرنے والے لوگوں کو علمی ، سیاسی اور منطقی جواب بھی سامنے آ رہا ہے۔
سینئر صحافی حبیب اکرم کا بلاگ :
اور احمد بلال جیسے محقق نے ڈان میں اپنے مضمون میں تاریخی اور علمی جواب دیا ہے
https://www.dawn.com/news/1935090
ان دونوں معززین کو ضرور سنیں اور پڑھیں
خالد قاضی