نکتہ داں۔۱۳۹
۷ ستمبر ۲۰۲۵
سندھ کو ڈیموں سے چڑ کیوں ہے
حقیقت یا افسانہ
وسطی پنجاب، یعنی پنجاب کے دل لاہور سے متعلق ، ایک عزیز ترین شخصیت نے، بہت حیرت اور عاجزی سے سوال کیا کہ:
کیا سستی بجلی پیدا کرنے اور پانی کو زخیرہ کرکے، خشک موسم میں، آبپاشی کیلئے استعمال کرنے کیلئے ڈیموں کی تعمیر کرنا کیا کوئی گناہ ہے ؟
میری طرف سے اس سوال کا جواب ظاہری بات ہے، کہ یہی تھا کہ یہ کوئی گناہ نہیں بلکہ ان مقاصد کیلئے ڈیموں کی تعمیر عقلمندی کہلائے گی ناکہ گناہ۔
تو دوسرا سوال یہ تھا کہ، پھر سندھ کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے ؟ اور سندھ کو ڈیموں کی تعمیر سے کیوں چڑ ہے ؟
اس سوال پر میں مسکراتا رہا۔
میں نے جواباً کہا کہ، اسکا جواب میں تب دوں گا، جب آپ مجھے یہ بتائیں کہ دریائے سندھ پر، کالا باغ کے علاوہ بھی کسی ڈیم کے بنانے کی تجویز ہے یا بس یہیں ڈیم بن سکتا ہے، اس کے علاوہ اور کہیں نہیں !
جوابا” کچھ ہچکاہٹ محسوس ہوئی۔
تو میں نے کہا ، کہ میں بتاتا ہوں ۔
دریائے سندھ پر تین مقامات ، ڈیم بنانے کیلئے موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
* کالاباغ ڈیم : اسکی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 3400 میگاواٹ اور پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت 6.1 سے لیکر 7.9 ملین ایکڑ – فٹ
* دیا میر بھاشا ڈیم: اسکی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4500 میگاواٹ اور پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت 8.1 ملین ایکڑ – فٹ
* داسو ڈیم: یہ ڈیم اپنے محل وقوع کی وجہ سے پانی زخیرہ تو نہیں کرسکتا لیکن دریا کے بہاؤ سے 4320 میگاواٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔
اب میرا اپنے محترم سے سوال یہ تھا کہ بجلی بنانے اور پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت کس ڈیم میں زیادہ ہے ؟
کالاباغ میں، دیا میر بھاشا میں یا داسو ڈیم میں ۔
ظاہری بات ہے کالاباغ ڈیم میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ، دیا میر بھاشا اور داسو ڈیم سے کم ہے۔
جبکہ پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی کالا باغ ڈیم میں ، دیا میر بھاشا ڈیم سے کم ہے، جبکہ داسو محض بجلی پیدا کرسکتا ہے وہ بھی کالا باغ سے زیادہ !
اب میں نے اپنے محترم سے پوچھا کہ مجھے یہ بتائیں کہ سندھ کی طرف سے کالاباغ کے علاوہ باقی دو ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کی کوئی مثال آپ پیش کرسکتے ہیں ؟
میں نے انھیں بتایا کہ سندھ کو باقی دو ڈیموں کی تعمیر پر کوئی اعتراض نہیں ہے، اور اسکی مثال یہ ہے کہ دیا میر بھاشا زیر تعمیر ہے اور اس کی تکمیل 2027 تک متوقع ہے اور کبھی کسی سندھ کی سیاسی یا قوم پرست جماعت نے اسکی مخالفت نہیں کی۔ اگر کی ہو تو کوئی ثبوت دیں !
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سندھ کو ڈیم تعمیر کرکے بجلی بنانے اور آبپاشی کیلئے پانی زخیرہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب سے، ہر وقت صرف کالاباغ ڈیم ہی بنانے پر زور کیوں دیا جاتا ہے اور سندھ ، کسی دوسرے ڈیم کی تو مخالفت نہیں کرتا لیکن کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو زندگی اور موت کا مسئلہ کیوں بنا دیتا ہے۔
چلیں کھوج لگائیں کہ کالاباغ ڈیم پر کیا مسئلہ ہے ؟
اس پر بات کل کریں گے
خالد قاضی