NUKTADAAN

Reading: ‏۱۴۔ میرے ایک مہربان ، کہ جن کو میری اکثر باتوں سے اختلاف رہتا ہے
Reading: ‏۱۴۔ میرے ایک مہربان ، کہ جن کو میری اکثر باتوں سے اختلاف رہتا ہے

‏۱۴۔ میرے ایک مہربان ، کہ جن کو میری اکثر باتوں سے اختلاف رہتا ہے

admin
3 Min Read

نکتہ چیں۔ ۱۴
۱۶ اپریل ۲۰۲۴

میرے ایک مہربان ، کہ جن کو میری اکثر باتوں سے اختلاف رہتا ہے ، میری طویل غیر حاضری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے۔ مجھ سے مشرق وسطٰی کی صورتحال کے متعلق رائے کے اظہار کی فرمائش کی
میں نے رمضان کے آخری عشرے اور پھر عید پر متواتر دعوتوں اور کچھ طبیعت کی ناسازی کو اپنی سستی کا سبب بناتے ہوئے عرض کی:

دنیا اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے
بظاہر تو، امریکہ اور یورپ کے ممالک نے اسرائیل کو مزید جنگ کو پھیلانے سے منع کیا ہے، لیکن، مجھے یہ محض دکھاوا نظر آتا ہے
پتہ نہیں کیوں میری چھٹی حس یہ کہتی ہے، کہ چونکہ پچھلی صدی میں امریکہ کی خرمستیاں اپنے عروج پر رہی ہیں ۔اس قوم نے افریقہ کے نہتے لوگوں کو غلام بھی بنایا، اور دنیا بھر میں، جنگ جدل کو بھی جاری رکھا ۔
اس قوم کے سر پر کروڑوں لوگوں کا خون ہے۔ کیا اللٰہ انکا کچھ حساب نہیں لے گا ؟
آخرت میں تو حساب ہوگا ہی لیکن اللٰہ کچھ حساب دنیا میں بھی ضرور چکاتا ہے۔یہ بات رب کعبہ کی سنت کے مطابق ہے کہ کچھ حساب دنیا میں بھی ہونا ہے اور قرآن میں اس کا بار بار ذکر آتا ہے
چین اور روس اس معاملے میں مسلمانوں سے کوئی محبت نہیں رکھتے ، ہاں امریکہ کو ضرور سبق سکھانا چاہتے ہیں
ایران، اس وقت شہدائے کربلا کی سیاست کر رہا ہے۔ شہدائے کربلا بظاہر شکست کھا گئے لیکن، اسلام کو دوبارہ زندگی انکی شہادت سے ملی
آج کل سعودی عرب ،بھی پاکستان کی زیادہ ضرورت محسوس کر رہا ہے اور اسی لئے،، وہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر عمران خان کی بیوقوفیوں کو بھلا کر دوبارہ پاکستان کو اہمیت دے رہا ہے
آئندہ چند روز بہت اہم ہیں۔ کیونکہ اسرائیل کی war cabinet دوبارہ بیٹھ رہی ہے۔ اسرائیل اس خطے میں اپنی سائیکلوجیکل دھاک بٹھائے رکھنا چاہتا ہے۔
دیکھیں وہ کس طرح face saving کرتا ہے
غزہ کے مجاہدوں نے ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ پانچویں مہینے میں جاری، پر آشام بمباری بھی انھیں گھٹنے ٹیکنے پر راضی نہیں کرسکی۔ ان شیروں کا تقابل جب ہم اپنے( بزعم خود ) شیروں سے کرتے ہیں (جو چند دن بھی کھڑے نہ رہ سکے اور ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال دئیے ) تو سر شرم سے جھک جاتے ہیں، لیکن شیروں کو شرم نہیں آتی ۔ اگر آتی ، تو ، وہ اپنی شجاعت پولیس کے تھانے پر حملہ کرکے نہ دکھاتے
بہرحال ہر عروج کو زوال ہے، وہ چاہے امریکہ بہادر ہو یا پاکستانی سیاست زدہ جرنیل

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے