NUKTADAAN

Reading: ‏۱۴۹۔  بالآخر بڑی مشکل سے جیتے۔
Reading: ‏۱۴۹۔  بالآخر بڑی مشکل سے جیتے۔

‏۱۴۹۔  بالآخر بڑی مشکل سے جیتے۔

admin
5 Min Read

نکتہ داں-۱۴۹

۲۵ ستمبر ۲۰۲۵

 بالآخر بڑی مشکل سے جیتے۔

آپ اس بات پر، مجھے ملک دشمن کہیں، غدار کہیں یا کچھ اور، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج میں، پاکستان کرکٹ ٹیم کی بنگلہ دیش کے مقابلے میں، بہت  بری بیٹنگ پر خوش ہوں۔ 

ایک وجہ تو یہ کہ بنگلہ دیش ہمارا بچھڑا ہوا بھائی ہے اور کئی دہائیوں کی دوریوں کے بعد، وہاں پاکستان کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کرنے کا نہ صرف ماحول پیدا ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے بنگل دیش اور انڈیا میں دوریاں بھی صاف دکھائی دینے لگیں ہیں۔

اور دوسری وجہ یہ کہ، پاکستانی ٹیم کی اس ناکام بیٹنگ نے، PCB کی قیادت کے کھوکھلے پن کو آشکار کر دیا ہے

میرے خیال میں، اگر کہیں،، کوئی،،  ذرا سا،،  احساس ذمہ داری،،  باقی ہے(جو کہ نہیں ہے ) تو، چیئرمین PCB, محسن نقوی کو استعفٰی دیکر، چیئرمین کے عہدے سے فارغ ہو جانا چاہئے۔

اگر ہمارے ملک میں ہائیبرڈ سسٹم نہ ہوتا، تو وزیر اعظم شہباز شریف کو، PCB کی قیادت سے محسن نقوی کو برطرف کردینا چاہئے تھا۔ لیکن موجودہ وزیراعظم سے اس عمل کی توقع کرنا عبث ہوگا۔

ضرورت اس بات کی ہے، کہ پاکستان میں کرکٹ کے زوال کی وجوہات جاننے اور کرکٹ کو دوبارہ ماضی کی شان تک پہنچانے کیلئے، پاکستان کرکٹ کے تمام پرانے اور عظیم کھلاڑیوں کی کانفرنس بلائی جائے، جو نہ صرف پاکستان میں کرکٹ کے اس زوال کے اسباب کی نشاندہی کرے، بلکہ کرکٹ کی ترویج کیلئے تجاویز بھی مرتب کرے

کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی تقرری کسی فرد واحد کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بلکہ کرکٹ کے ماہرین کا پینل، درخواستیں وصول کرکے، کارکردگی اور تجربہ دیکھ کر چیئرمین کے انتخاب کی سفارش کرے۔ جب چیئرمین مقرر ہوجائے، تو اسے آزادی سے کام کرنے دیا جائے اور حکومت کی تبدیلی چیئرمین کی تبدیلی کا سبب نہ بنے۔ میری رائے میں چیئرمین کی تقرری ۵ سالوں کیلئے ہونی چاہئے

چیئرمین کے مشورے کیلئے سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا بورڈ مقرر کیا جائے۔

کرکٹ میں، بیٹنگ، باؤلنگ، فیلڈنگ میں تکینیکی مہارت پیدا کرنے کیلئے دنیا کے تجربہ کار ماہرین کو مقرر کیا جائے اور انکے احکامات کیلئے ہر کھلاڑی بنا کسی تفریق کے، عمل کرنے کا پابند ہو۔

کھلاڑیوں کی فٹنس کیلئے بھی ماہرین کے مقرر کردہ معیارات کی پابندی لازم قرار دی جائے۔

ملک کے تمام اضلاع میں، کرکٹ کی بیٹنگ، باؤلنگ کی ٹرینگ کیلئے 

بین الاقوامی معیار کی تیز پچیں بنائی جائیں ، تاکہ ہر ضلعے میں کھلاڑیوں کو تیز پچوں پر کھیلنے کا تجربہ حاصل ہو اور وہ دنیا بھر کی پچوں پر غیر ملکی بالروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں

آج کل کے زمانے میں کرکٹ کی بیٹنگ اور باؤلنگ کی ٹرینگ کیلئے نئے نئے اکوپمنٹ اور انسٹرومنٹ کا استعمال ہوتا ہے۔ ملک کے تمام اضلاع میں یہ تکنیکی آلات مہیا کئے جائیں تاکہ ہمارے کھلاڑی بین القوامی معیار کے مطابق ٹریننگ لیکر بااعتماد ہوکر دنیا کی ہر ٹیم کے مقابلے کے قابل بن سکیں۔

ملک کے تمام اضلاع میں اسکول ، کالج اور یونیورسٹی لیول کے مقابلوں کے علاوہ مختلف اضلاع، شہروں اور صوبائی ٹیموں کے درمیان سالانہ مقابلے کرائے جائیں تاکہ نئے ٹیلینٹ کی دریافت ہوسکے۔

صوبائی اور ملکی ٹیم کے سلیکشن بورڈ بنا کسی سفارش کے بنائے جائیں تاکہ ہر کھلاڑی کی  مختلف مقابلوں میں کاردکردگی اور پرفارمنس کے ریکارڈ مرتب کئے جائیں  ، اور سلیکشن ان ریکارڈز کی روشنی میں کئے جائیں 

اگر یہ سب کچھ نہ کیا جائے گا تو ہم جیسے کرکٹ سے محبت کرنے والے، رفتہ رفتہ اس کھیل سے متنفر ہو جائیں گے

وما علینا الا البلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے