نکتہ داں -۱۵۰
۲۶ ستمبر ۲۰۲۵
نہ عیسیٰ، نہ موسیٰ
بڑا پیِر، پیسہ
قرآن کریم کی صورة حشر میں، غیر مسلموں کے لئے فرمایا گیا ہے:
بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمُ شَدِیْدٌ ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا
وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰی
یعنی، یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں
میں قرآن کی اس بشارت پر کامل یقین رکھتا ہوں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اپنی ساری زندگی، میں نے :
* یہودیوں اور اہل مغرب کو آپس میں، دو قالب لیکن، ایک جان پایا۔ پچھلی ۹ دہائیوں سے یورپ، امریکہ اور اسرائیل کا مسلمانوں کے خلاف جو ایکا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ جبکہ حقیقتاً اسرائیل اور اہل مغرب کا نہ کلچر ایک ہے، نہ تہذیب، نہ زبان اور نہ مذہب۔ بلکہ، بنیاد پرست عیسائی ، یہودیوں کو حضرت عیسٰی علیہ سلام کا قاتل تصور کرتے ہیں۔ اور یورپ اور امریکہ کے بنیاد پرست عیسائی فرقے، یہودی عبادتگاہوں پر حملے بھی کرتے رہے ہیں۔ تو کیا انکی دوستی کی بنیاد محض اسلام دشمنی ہے یا کچھ اور بھی۔
* ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمان ملکوں کو (خاص کر سعودی عرب، مشرق وسطٰی کی ریاستوں اور ایران کو) اللہ نے تیل کی دولت سے نوازا ہے اور دنیا کا ایک تہائی خام تیل اور ۲۰ فیصد گیس اسی خطے میں پیدا ہوتی ہیں۔ گویا ایک طرف اسرائیل اور دوسری طرف ایران، دونوں امریکہ کی ضرورت ہیں۔ تاکہ ان دونوں ملکوں سے ڈرا کر، امریکہ عرب ممالک کی تیل کی دولت، ان سے سکیورٹی کے نام پر لوٹ سکے۔
لیکن بدلتی دنیا نے، چین اور پاکستان کے توسط سے، ایران اور سعودی عرب کی غلط فہمیاں ختم کروا کر، ایک دوسرے کے خلاف سخت موقف میں قدرے نرمی پیدا کروادی ہے۔ اور اس کا ثبوت، حالیہ اسرائیل، ایران جنگ کے بعد ایران کا اعلانیہ اعتراف ہے کہ ایران کی اگر کھل کر کسی نے حمایت کی تو یا پاکستان ہے یا سعودی عرب۔
* پچھلے دو سال سے غزہ میں۔ جاری، اسرائیلی ظلم اور بربریت نے عموماً عالمی ضمیر کو اور خصوصاً نوجوان طبقے کو، اسرائیل کی صیہونی پالیسی کے خلاف کردیا ہے ۔ اس کا ثبوت، سوائے امریکہ کے، مغربی دنیا کا فلسطین کی رہاست کو تسلیم کرنا ہے۔
گویا امریکہ اور یورپ فلسطین کے معاملے میں مختلف موقف پر قائم ہو گئے ہیں۔ جبکہ،
* قطر پر اسرائیلی حملے نے، سکیورٹی سے متعلق امریکہ پر اعتماد کو نہ صرف سعودی عرب اور مشرق وسطٰی کی ریاستوں کو متزلزل کیا ہے بلکہ یورپ میں بھی کئی بھنویں سکڑ گئی ہیں۔ کیونکہ، یورپ کے کئی ممالک بھی اپنی حفاظت کیلئے امریکہ پر ہی تکیہ کئے ہوئے ہیں۔
* شہزادہ محمد بن سلمان سے کئی اختلافات کئے جاسکتے ہیں، لیکن سعودی عرب کیلئے انکی مستقبل پر نظر، اور سعودی معیشیت کو، محض تیل کی آمدنی پر انحصار سے نکالنے کے اقدامات اور سعودی معاشرے میں جوہری تبدیلی لانے کے عمل کو انکی قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اور غزہ میں، پچھلے دو سال سے اسرائیل کے غزہ میں مجرمانہ اور سفاکانہ جرائم اور امریکہ کی پشت پناہی نے، شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنے ملک کی سیکوریٹی کے متعلق، متبادل ذریعے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔
* حالیہ پاک سعودی مشترکہ دفاعی معاہدہ، بھی اسی تناظر میں، پاکستان کی فرمائش پر نہیں ، بلکہ سعودی عرب کے ایما پر طویل گفت شنید کے بعد کیا گیا ہے۔
* مجھے ۱۹۷۴ کی لاہور میں اسلامی کانفرنس کے انعقاد پر، عوام اور حکومت کا جوش یاد آتا ہے۔ ملک کے طول ارض میں، دن میں کئی کئی بار “ہم تا بہ ابد ، سعی و تغیر کے ولی ہیں
ہم مصطفوی، مصطفوی مصطفوی ہیں” سنا جاتا تھا۔اور آج کل، سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اس بات کے گواہ ہیں، کہ سعودی عرب بھی پاک سعودی مشترکہ دفاعی معاہدے کو اس ہی طرح celebrate کر رہے ہیں جیسے ہم نے لاہور اسلامی کانفرنس کو کیا تھا
ہمیں جو پروٹوکول دیا گیا، جو نغمہ جاری ہوا، جو استقبال ہوا وہ محض شہباز شریف کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کی تکریم اور عزت کا باعث ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے ایما پر کیا گیا ہے۔
اور مزید یہ کہ اس معاہدے پر دستخط ہونے کے چند دن بعد ہی، یہ اعلان ہو گیا کہ، بلوچستان میں ۱۰ ارب ڈالر کے سعودی سرمائے سے قائم ہونے والی متجوزہ آئل ریفائنری کیلئے سعودی حکومت نے منظوری دیدی ہے
* پاک سعودی دفاعی معاہدہ، دراصل تاجر امریکی صدر کیلئے دھچکا، اور اس کے ساتھ ساتھ، یورپی ممالک کا امریکی دباؤ مسترد کرکے، فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا بھی، امریکہ کے حکومتی ایوانوں میں، اسرائیل سے امریکی محبت کی قیمت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
* اس ساری صورتحال نے، مسیحی امریکہ کو، یہودی، اسرائیل سے تعلقات کی قیمت کو کچھ زیادہ محسوس کیا ہے۔ اس ہی لئے، وہ تاجر صدر جسکا کچھ عرصہ پہلے، موقف یہ تھا کہ:
* عزہ کو خالی کروا کر وہاں سیاحی ریزورٹ بنائے جانے چاہئیں
* اسرائیل کو فلسطینی علاقے ہتھیانے کی مکمل تائید مہیا کی جاتی تھی
لیکن اب موقف میں تبدیلی یہ کہ:
۱-فلسطین کے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے نہیں دونگا، اب بہت ہوچکا۔ اسے رکنا پڑے گا۔
۲-اقوام متحدہ کی جرنل کونسل کے اجلاس کے دوران ،مسلم ممالک کے سربراہوں سے ملاقات اور غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں، مسلم ممالک کی مشترکہ فوج کی تعیناتی پر گفت شنید کرنا ایک بہت بڑا سفارتی شفٹ نظر آتا ہے
اس تمام صورتحال میں پاکستان کی حیثیت ابھر کر سامنے آئی ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف اور جرنل عاصم منیر کی تاجر امریکی صدر سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات اس ہی پس منظر کی عکاسی کرتی نظر آتی ہے
پاکستانی قیادت کی امریکی صدر کے ہاتھوں آؤ بھگت، چین کی بھی مرہون منت ہے۔ چین نے امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی تجارتی جنگ کے دفاع میں، اپنے قیمتی دھاتوں اور عناصر کی امریکہ ترسیل پر پابندی عائد کردی ہے۔
یہ دھاتیں پاکستان کے گلگت بلتستان میں وافر مقدار میں موجود ہیں اور ان دھاتوں کے حصول کیلئے امریکہ حال ہی میں پاکستان سے معاہدہ کر چکا ہے
اگر ہماری قیادت ، بالغ نظری سے اس صورتحال کو اپنے عوام کی بہبود اور خوشحالی کیلئے استعمال کرے، تو پاکستان ترقی یافتہ ملک ہونے کا خواب دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اس منزل تک پہچنے کیلئے، سیاسی سکون بھی نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ سیاسی استحکام ہی وہ راستہ مہیا کرتا ہے کہ جس سے ترقی کا سفر احسن طریقے سے طے ہو سکے گا۔
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
خالد قاضی