نکتہ داں-۱۵۱
۳۰ ستمبر ۲۰۲۵
یہ باز گشت ہے یا پیش رفت
امریکی تاجر صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان غزہ میں سیز فائر کے متعلق جو ۲۰ نکاتی معاہدہ طے پایا ہے، اس پر مختلف سمتوں سے، مختلف توجیہیات، پیش کی جارہی ہیں ، جن میں جتنی امیدیں چھپی ہوئی ہیں اتنے ہی اندیشے بھی پنہاں ہیں۔
اس معاہدے کا عمومی طور پر، مغربی دنیا اور اسلامی ممالک نے خیر مقدم کیا ہے جبکہ اس سے متعلق دو بڑے فریق، حماس اور ایران نے، ابھی اپنا رد عمل ظاہر نہیں کیا۔
میری رائے میں، اس معاہدے پر گفتگو کرنے سے پہلے، اس موضوع پر اسرائیل اور امریکہ کا ابتدائی موقف کیا تھا ، اس پر نظر ڈالنا بہت ضروری ہے۔
۔ جہاں تک فلسطین کا سوال ہے، دونوں ممالک اس کے قیام کو مسترد کرتے آئے ہیں۔
۔ اسرائیلی فوج کی دہشتگردی کو دونوں ملک “سیلف ڈفینس” کا نام دیتے ہیں اور حماس کو وہ دہشت گرد تنظیم گردانتے ہیں۔
۔ فلسطین کے مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کو اسرائیل اپنی حدود میں نتھی کرنے کا خواہاں تھا
۔ تاجر صدر ٹرمپ ، غزہ کے فلسطینی مکینوں کو انکے گھروں سے بے دخل کرکے غزہ کو امریکی تحویل میں لے کر ، وہاں مڈل ایسٹ کا رویرا (سیاحتی شہر) بنانا چاہتا تھا۔
لیکن، اب، وہ اپنے پہلے موقف سے پیچھے ہٹ کر، مندرجہ ذیل باتوں پر راضی ہوئے ہیں:
۔ غزہ کو دہشتگردی سے پاک علاقہ بناکر، اسکے لوگوں کو بسایا جائے گا۔
۔ فوری جنگ بندی کی جائے گی۔
۔ جنگ بندی کے ۷۲ گھنٹوں کے اندر، حماس کو اپنے قبضے سے ۲۰ زندہ اسرائیلی یرغمالیوں اور دو درجن سے زائد ہلاک شدہ یرغمالیوں کی لاشیں، اسرائیل کے حوالے کرنی ہونگیں
۔ یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں اسرائیل ان ۲۵۰ فلسطینیوں کو آزاد کرے گا جنھیں اسرائیلی عدالتیں عمر قید کی سزا دے چکی ہیں اور ۱۷۰۰ فلسطینی جو مختلف الزامات کے تحت قید ہیں، آزاد کئے جائیں گے
۔ حماس کے ان ممبران کیلئے عام معافی کا اعلان کیا جائے گا جو ہتھیار پھینک دیں گے اور انھیں غزہ سے نکل جانے کیلئے راہداری فراہم کی جائے گی
۔ غزہ میں محبوس فلسطینیوں کیلئے خوراک اور امداد کی فوری فراہمی کیلئے اسرائیل تمام رکاوٹیں دور کردے گا۔
پہلے مرحلے میں غزہ کا انتظام، فلسطین کی ایک غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ تاکہ وہ، غزہ کی بحالی کا کام انجام دے
۔ دوسرے مرحلے میں، جب غزہ کا انفراسٹرکچر بحال ہوجائے گا تو اسے فلسطین کی حکومت کے حوالے کیا جائے گا
۔ معاہدے پر عمل شروع ہونے سے لیکر ، فلسطین کی حکومت کے سپرد کئے جانے تک، غزہ کے انتظام چلانے والی غیر سیاسی ٹیکنوکریٹس کی کمیٹی، ایک “بورڈ آف پیس” کے تحت کام کرے گی جسکے سربراہ صدر ٹرمپ ہونگے اور اس میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر ایک ممبر کے طور پر شریک ہونگے،
۔ غزہ سے کس بھی فلسطینی کو جبراً بے دخل نہیں کیا جائے گا، اور جو لوگ ، پچھلے دو سالوں کی جنگ کے دوران غزہ چھوڑ چکے ہیں، انکی غزہ واپسی میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی
۔ غزہ کے انتظام چلانے میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا
۔ غزہ میں حماس کا عسکری سٹرکچر اور اسلحہ سازی کی تمام سہولیات تباہ کردی جائیں گی
۔ غزہ کی سکیورٹی اسرائیلی آرمی کے مرحلہ وار انخلا کے بعد، ایک بین الاقوامی فوج کے سپرد کی جائے گی
۔ اسرائیل کے پڑوسی ممالک اس معاہدے پر حماس سے تعمیل کی ضمانت فراہم کریں گے۔
۔ اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم نہیں کرے گا۔
اگر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیر اعظم کی تقریر سامنے رکھیں کہ جس میں اس نے تمام یورپین ممالک جو، فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے تھے ببانگ دہل کہا کہ “اسرائیل ، کبھی فلسطین کو آزاد ملک نہیں بننے دے گا” لیکن اس موضع پر نیتن یاہو بیک فوٹ پر نظر آتا ہے
بظاہر یہ ٹرمپ اور نیتن یاہو معاہدہ ہے لیکن پس پردہ اس معاہدے میں، اسلامی دنیا اور یورپ کے ممالک کے سربراہان کی مشاورت کا اعتراف ٹرمپ اپنی پریس کانفرنس میں کر چکا ہے
میں سوچ رہا ہوں کہ، چند دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ اسرائیل اور امریکہ کی جوڑی، اپنے اٹل موقف سے کہیں پیچھے ہٹتے نظر آئے ہیں۔
اس پیش رفت کی وجہ، کہیں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کی بازگشت تو نہیں ؟
خالد قاضی