NUKTADAAN

Reading: ‏۱۵۲۔ حماس کے خدشات
Reading: ‏۱۵۲۔ حماس کے خدشات

‏۱۵۲۔ حماس کے خدشات

admin
6 Min Read

نکتہ داں۔۱۵۲-

یکم اکتوبر ۲۰۲۵

حماس کے خدشات

گو، اب تک، امریکہ اور نیتن یاہو کے، تجویز کردہ، ۲۰ نکاتی ، “غزہ امن منصوبہ”، کہ جس کی تشکیل میں ” تمام اہم اسلامی ممالک” اور مغربی ملکوں کی آرا کو بھی شامل کیا گیا ہے،  کے متعلق، حماس اور ایران کا موقف اب تک سامنے نہیں آیا ہے، لیکن ، مختلف ذرائع سے میڈیا میں ، یہ بات رپورٹ ہو رہی ہے کہ حماس کے رہنما، اس موضوع پر دو مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک دھڑا تو  اس مسئلے کو جنگ ہی سے حل کرنے پر مُصر ہے جبکہ ایک دوسرا دھڑا ، اس معاہدے میں اپنی کچھ شرائط منوانے کی شرط پر، اسے قبول کرنے کو تیار ہیں۔

میڈیا کے مطابق، حماس کی لیڈرشپ کا ایک حصہ،، ہتھیار ڈالنے اور غزہ خالی کرنے پر راضی نظر نہیں آتا۔

چونکہ اس معاہدے پر پاکستان میں بھی ، اپنی اپنی سیاسی محبتوں کے تناظر میں، مختلف آرا سامنے آرہی ہیں۔ کچھ لوگ تو اسے امن اور فلسطینیوں کی مشکلوں کے خاتمے کیلئے ایک  بہت بڑی پیش رفت کہہ رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا اس معاہدے کے خلاف، ہماری حکومت اور جرنل عاصم منیر کو، امریکی دباؤ میں آکر ، ایک مرتبہ پھر، پاکستان کو امریکی آلہ کار بنادینے  کا دعوٰی کر رہے ہیں۔ 

اس ہی پیرائے میں پاکستان کے دل لاہور سے ، میرے ایک کرم فرما نے مجھے لکھا، کہ یہ پاکستان کو چین سے دور کرنے کی امریکی سازش ہے۔ وہ پاک سعودی مشترکہ دفاعی معاہدے کو بھی امریکی پلان گردان رہے تھے

میں نے جواباً گزارش کی، کہ آپکے اس موقف کو جانچنے کیلئے ،مندرجہ ذیل حقیقتوں پر غور کرنا ضروری ہے:

جسطرح امریکہ اپنی عسکری مصنوعات یعنی، طیارے، ٹینک، میزائل ، دفاعی ریڈار وغیرہ وغیرہ کو اپنے پروڈکٹ کے طور پر بنا کر، ٹریلینز ڈالر کماتا ہے، بالکل اسی طرح، دفاع فراہم کرنا بھی اسکا ایک پروڈکٹ ہے۔ وہ عرب ممالک سے کہتا ہے کہ کسی بھی بیرونی جارحیت سے امریکہ تمھاری حفاظت کرے گا اور اسکی فیس ادا کرنی پڑے گی۔ اور عرب ممالک بہ رضا و رغبت اسے وہ فیس بلینز میں ادا کرتے ہیں۔ ایک تاجر صدر اپنی  پروڈکٹ کسی دوسرے ملک کو کیوں آؤٹ سورس کرے گا۔ یہ ایسا ہی ہوگا کہ جیسے امریکہ ، پاکستان کو  اپنی میزائل ٹیکنالوجی فراہم کرکے کہے کہ تم میزائل بناکر سعودی عرب کو فروخت کرو۔ ، 

دوسرا اندیشہ پاکستان اور چین کے تعلقات

پاکستان اور چین

مشترکہ طور پر کام کرتے ہیں اور مل کر دفاعی سامان بناتے ہیں جس میں طیارے بھی شامل ہیں۔

۳-پاکستان اپنے دفاع کیلئے ۸۰ فیصد مختلف قسم کا اسلحہ چین سے درآمد کرتا ہے جو مغربی اسلحے سے نہ صرف قدرے کم  قیمت پر بلکہ پاکستان کو اس سے بھی کم قیمت پر مل جاتا ہے

۴- چائنا سفارتی سطح پر، خاص کر کے اقوام متحدہ میں ہماری کشمیر پالیسی کا دفاع کرکے کئی بار ویٹو کا استعمال بھی کر چکا ہے

لہذا قرین قیاس یہ ہے کہ، اس وقت (موجودہ بین الاقوامی حالات میں) چائنہ اور پاکستان ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں

انصاف اور عدل کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان کے لوگ، حکومتِ وقت سے اپنی سیاسی بھڑاس نکالنے کے بجائے، اس معاہدے کے دوسرے اہم حریف یعنی حماس اور ایران کے موقف کا بھی انتظار کریں۔ 

اگر حماس ، اس معاہدے کو قبول کرنے کیلئے کچھ شرائط پیش کرتا ہے اور تمام اسلامی ممالک، ان شرائط کی تائید کرکے گفت و شنید کا باب دوبارہ شروع کر لیں تو بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں 

اور دوسری اہم بات، جسے پیش نظر رکھنا ضروری ہے یہ، کہ نیتن یاہو حکومت بھی اپنے خلاف، اندرونی سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ وہاں کے سخت گیر لیڈران، کسی بھی، امن  معاہدے کے خلاف ہیں جبکہ ایک بہت بڑا سیاسی  دھڑا ، اسرائیلی عوام کا ہر وقت حالت جنگ میں رہنے پر ذہنی خلفشار کاشکار ہے۔نیتن یاہو کی کمزور حکومت اپنے بقا اس جنگ کے جاری رکھنے میں پاتی ہے، جبکہ اسکے مخالفین کسی قیمت پر بھی نیتن یاہو حکومت سے گلو خلاصی کے خواہاں ہیں۔ عین ممکن ہے کہ اس دوران نیتن یاہو، اسمبلی میں، اپنی برتری کھو دے اور نئے انتخابات کا انعقاد لازم قرار پائے۔

اس تمام صورتحال کے پیش نظر، بہتر حکمت عملی کا تقاضہ یہ ہوگا کہ ہم  اپنے موقف کو محض اپنے داخلی سیاسی حالات کے تناظر میں نپٹنے کے بجائے، ہر لمحے، بین الاقوامی بدلتی ، ہوئی صورتحال کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں

وما علینا الا البلاغ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے