NUKTADAAN

Reading: ‏۱۵۶۔ قسمت کے دھنی
Reading: ‏۱۵۶۔ قسمت کے دھنی

‏۱۵۶۔ قسمت کے دھنی

admin
7 Min Read

نکتہ داں-۱۵٦

١٦ اکتوبر ۲۰۲۵

قسمت کے دھنی

قسمت کے دھنی ان لوگوں کو کہا جاتا ہے، کہ جن کی کوئی لاٹری نکلی ہو ، کوئی کاروبار چل پڑا ہو، کوئی ادارہ جاتی  ترقی ہوئی ہو وغیرہ وغیرہ اور  انُ عوامل کی وجہ سے، وہ یکایک، غربت ا افلاس سے نکل کر امیر بن گئے ہوں۔ 

میں ان اقسام کے کسی فرد کا ذکر نہیں کر رہا۔ میرا موضوع تو ایسے تین اشخاص ہیں کہ جنکی کارکردگی تو کسی طرح بھی فخریہ نہیں کہی جاسکتی، لیکن ایسے حالات پیدا  ہوئے کہ ، جن میں انکا اپنا، کوئی لینا دینا نہیں تھا،  لیکن انکی (بے وجہ)بلّے بلّے ہوگئی،  انکی صریح ناکامیوں سے لوگوں کا دھیان بٹ گیا  اور بجائے اسکے، کہ انکی گوشمالی کی جاتی، لوگ بغلیں بجانے لگے۔

کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری، ملک میں امن و امان قائم کرنا، ملک کی اقتصادی حالت بہتر کرکے، عوام کیلئے بہتر روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور عوام کو صحت اور تعلیم اور بہتر زندگی  گزارنے کی سہولتیں پہنچانا ہیں۔

ورلڈ بینک، ہر سال، دنیا کے مختلف ممالک کی، اقتصادی صورتحال کے متعلق رپورٹ شائع کرکے گزشتہ سال کی حکومتی کارکردگی کی نشاندہی،  مختلف تخمینوں اور اعداد شمار کے  ذریعے واضح کرتا ہے۔

ستمبر ۲۰۲۵ میں جاری کردہ ورلڈ بینک کی پاکستان کے متعلق، دوسالہ اقتصادی کارکردگی، کی رپورٹ پڑھ کر ، سوائے افسوس اور فکرمندی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں، گزشتہ دہائی میں غربت میں کمی حالانکہ بہت کم رفتار سے تھی لیکن، ۲۰۲۳ اور ۲۰۲٤ میں بجائے غربت کم ہونے کے بڑھ گئی ہے۔ دوسال پہلے، غربت تقریباً ۲۲ فیصد تھی لیکن پچھلے دو سالوں میں یہ بڑھکر ۲۵ فیصد سے بھی زیادہ ہوگئی ہے، گویا دو کروڑ انسان،جو پہلے خط غربت سے کچھ بہتر تھے اب خط غربت کے نیچے آگئے ہیں

مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں کا معیار کم ہوا ہے، تعلیم اور صحت میں کوئی قابل قدر اضافہ نہیں ہوا اور آئندہ کی سالانہ اقتصادی نمو کا تخمینہ ۲،٦ فیصد لگایا گیا ہے۔ اگر آبادی کے بڑھنے کی رفتار پر قابو نہ پایا گیا تو اس حساب سے ترقی کی نمو صفر رہ جائے گی۔

اگر ہمارا قومی رویہ جمہوری ہوتا ، تو ان  اقتصادی جائزوں پر عوامی رد عمل کا اظہار، اخبارات،  میڈیا اور سوشل میڈیا پر  مثبت بحث  کی شکل میں ہوتا۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ایک علمی مکالمہ ہوتا جسکے نتیجے میں حکومت، اور اپوزیشن مل کر، مستقبل کیلئے بہتر لائحۂ عمل ترتیب دیتے۔

لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ سوشل میڈیا پر بھی، سوائے مذاق، تضحیک اور بد کلامی کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف جو ان تمام ناکامیوں کے ذمہ دار ہیں، ان سے کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ وجہ اس کی یہ کہ ان ہی دنوں، سعودی عرب کے ایما پر، پاکستان اور سعودی عرب نے مشترکہ دفاع کا معاہدہ کیا اور تمام قوم اسی سحر میں مبتلا دکھائی دی۔ تو ہوئے ناں وزیر اعظم شہباز شریف قسمت کے دھنی۔

پاکستان اور ہندوستان میں کرکٹ کے جنون سے کون انکار کرسکتا ہے۔ دونوں ممالک کے عوام ، کسی دوسرے ملک سے چاہے  ہاریں یا جیتیں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، لیکن ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ،  انکی انا کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ہماری قوم جیت کی امید بھی رکھتی ہے، دعاگو بھی رہتی ہے لیکن دلوں میں شکست کا ڈر بھی نظر آتا ہے۔  ایشیا کپ کے مقابلوں میں پاکستان نے ہندوستان سے ایک یا دو نہیں بلکہ ہارنے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ انڈین تماشائیوں کا جوش اور خوشی دیدنی تھی جبکہ پاکستانی قوم ، اپنی ٹیم سے توقع ہی نہیں رکھتی تھی کہ یہ اب انڈیا سے جیتیں گے۔ 

ہونا تو یہ چاہئے تھا کا پورا سوشل میڈیا، اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پورے جوش سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے استعفٰی طلب کرتے لیکن ہوا یہ کہ، انڈین ٹیم نے پہلے تو پاکستانی ٹیم سے ہاتھ نہ ملا کر اور پھر جیت کی ٹرافی محسن نقوی کے ہاتھوں نہ وصول کرکے، محسن نقوی کو زیرو سے ہیرو بنا دیا۔ ہوئے نہ محسن نقوی قسمت کے دھنی۔

کسی بھی پروفیشنل کرکٹر کے نان نفقے کا دارومدار  ، اسکی کرکٹ میں کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس ہی لئے اچھے کرکٹر اپنی توجہ نہ صرف اچھی کرکٹ کھیلنے پر مرکوز رکھتے ہیں  بلکہ کرکٹ کو سمجھنے کی بھی صلاحیت پیدا کرتے ہیں۔ T 20 کے آخری دو تین اوور، کھیل کو کسی سمت بھی پلٹ سکتے ہیں۔ اسی لئے سمجھدار بولر، اپنی گیند کی سمت اس طرح رکھتے ہیں کہ مخالف کھلاڑی آؤٹ چاہے نہ ہو سکے، لیکن وہ اچھا شارٹ بھی نہ لگا پائے ۔ قابل بولر ایسے زاویے سے گیند پھینکے گا کہ اس پر چوکا یا چھکا نہ لگنے پائے۔

ایشیا کپ کے فائنل میں حارث رؤف آخری اووروں میں وکٹ لینے کے چکر میں تقریباً جیتا ہوا میچ گنوا بیٹھے۔ لیکن ہماری پر جوش قوم ان سے سوال کرنے کے بجائے، انکے چھ۔ صفر کے اشاروں میں ہی خوش ہو گئی 

اسی لئے میں حارث رؤف کو بھی قسمت کا دھنی گردانتا ہوں

آپ کا کیا خیال ہے ؟ 

خالد قاضی 

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے