NUKTADAAN

Reading: ‏۱۵۷۔ ہوا کا رخ
Reading: ‏۱۵۷۔ ہوا کا رخ

‏۱۵۷۔ ہوا کا رخ

admin
8 Min Read

نکتہ داں-۱۵۷

۱۸ اکتوبر ۲۰۲۵

ہوا کا رخ

بزرگ کہتے ہیں، کہ ہوا کے رخ سے ، آئندہ آنے والے موسموں کی 

پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔ سیاست میں آنے والے  تغیرات بھی، 

موسموں ہی کی طرز پر، موجودہ حالات کے اشاروں سے ،سمجھے اور 

سمجھائے جاسکتے ہیں ۔کل میرے ایک محترم دوست نے، میرے 

استدالال سے اختلاف کرتے ہوئے، کہا، قاضی صاحب، آپ یہ کیسے 

کہہ رہے ہیں کہ موجودہ ہائیبرڈ  نظام کمزور ہے اور اس میں دراڑیں 

ڈالی جاسکتیں ہیں۔آپ کے پاس کیا دلیل ہے ؟

میں نے انھیں کہا، مقتدرہ کی کوشش یہ ہے کہ پاکستان کا ہر فرد، انکی 

طاقت اور دہشت کے آگے حوصلے ہار کر، (برا بھلا چاہے کہتا  

رہے)، لیکن خود کو لاچار اور بے بس تصور کرکے،اس نظام کو اپنا 

مقدر سمجھ کر، اس کے آگے ہتھیار ڈالے رکھے۔ اس ہی لئے، وہ 

اپنے پروردہ، لکھاریوں، مبصروں، مفکروں، اور معاشرے کے، معزز 

لوگوں کے ذریعے، عوام کا برین واش کرتے رہتے ہیں کہ، پنڈی جو 

چاہے گا وہی ہوگا اور بس۔ لیکن میں اس نظریے کا اسیر نہیں ہوں

میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے اور انھیں بھی 

اپنی اس کمزوری کا علم ہے۔ میں نے انکی توجہ ISPR کے 

جنرل احمد شریف چودھری کی پشاور میں حالیہ پریس کانفرنس اور اس 

سے بھی ایک روز پہلے، وفاقی حکومت کے وزیر اطلاعات عطا اللٰہ 

تارڑ کے بیانات کی طرف دلائی۔ دونوں محترمین، صوبہ خیبر پختون خواہ 

میں طالبان کے حالیہ حملوں اور کاروائیوں کی تمام تر ذمہ داری، 

 تحریک انصاف پر ڈالتے ہوئے، خیبر پختون خواہ کے وزیراعلٰی 

کی تبدیلی کے فیصلے کو، عمران خان کی طالبان نوازی سے تشبیہ دے 

رہے تھے۔ لیکن انکا ہدف دراصل ، عمران خان کے تجویز کردہ نئے 

وزیراعلٰی ، سہیل آفریدی تھے۔ وہ نام لئے بغیر، خدشات کا اظہار کر 

رہے تھے، کہ سہیل آفریدی، پاکستانی طالبان کی کاروائیوں میں

تعاون فراہم کریں گے۔ گویا ، حکومت اور راولپنڈی کو سہیل 

آفریدی بطور وزیر اعلٰی منظور نہیں تھے۔ تو کیا انکی خواہش پوری 

ہوئی ؟ کوشش کی گئی، کہ پیپلز پارٹی کے گورنر اس معاملے کو لٹکائے 

رکھیں، لیکن پشاور ہائیکورٹ نے، فوراً حکم جاری کیا کہ نئے منتخب 

وزیراعلٰی سے حلف لیا جائے۔گورنر خیبر پختون خواہ فیصل کریم 

کنڈی، کراچی میں سابق چیئرمین سینیٹ، رضا ربانی کی کتاب کی نقاب 

کشائی کی تقریب میں موجود تھے۔ وہاں بلاول بھٹو نے اپنی تقریر کا 

اختتام، گورنر کو نہ صرف حکم دیکر کیا  کہ وہ فوراً پشاور روانہ ہوں، 

انکے سفر کا انتظام ، وزیراعلٰی سندھ، مراد علی شاہ کو طیارہ فراہم 

کرنے کے مشورے سے کیا۔

جبکہ دوسری طرف، مقتدرہ اور حکومت ،اسلام آباد پریزیڈنٹ ہاؤس 

میں اچھے بچوں کی طرح حاضری دیتے ہوئے نظر آرہے  ہیں۔ پہلے 

عاصم منیر ، صدر زرداری کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور پھر 

دوسرے ہی دن، جناب وزیراعظم شہبازشریف نے ایوان صدر کا

دورہ کیا۔ جبکہ اگلے ہی دن، وزیراعظم ہاؤس میں، بلاول بھٹو کی 

سربراہی میں پیپلز پارٹی کے وفد کو مدعو کیا گیا۔

مجھے اس وقت، حکومت اور  مقتدرہ اور ایوان صدر کی اڑان ، 

مختلف سمتوں میں نظر آرہی ہے۔

عاصم منیر تو، امریکہ اور ٹرمپ کی آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں اور 

مختصر  عرصے میں ایک نہیں دو نہیں بلکہ تین امریکی دورے کر چکے 

ہیں۔ ان دوروں کے مقاصد کا علم یا امریکہ کو ہے یا پھر عاصم منیر 

کو، کیونکہ، اعلانیہ کوئی  بات سامنے نہیں آئی۔ دوسری طرف ہمارے 

شہباز شریف ہیں، کہ جنھوں نے امریکی تاجر صدر ٹرمپ کی تعریفوں 

کے ایسے پل باندھے ہیں ،جو  دنیا کے کسی بھی سربراہ  نے امریکی 

تاریخ میں کبھی نہیں باندھے ہونگے۔ انکی تقریر، جو شرم شیخ مصر میں 

کی گئی وہ، آئندہ کئی سالوں تک، پاکستانی سیاست میں ن لیگ اور 

شہباز شریف کا منہ چڑاتی رہے گی۔

جبکہ صدر زرداری کا رخ چین کی طرف ہے۔ صدر زرداری نے

۱۲ ستمبر ۲۰۲۵ سے ۲۱ ستمبر ۲۰۲۵ تک چین کا دس روزہ طویل 

دورہ  کیا۔ یہ انکا بحیثیت صدر، چین کا ١٧ واں دورہ تھا۔ وہ اپنے 

پہلے دور صدارت کے دوران بھی چین کے متعدد دورے کرکے، 

سی پیک کی بنیاد رکھ چکے تھے۔ اس دس روزہ دورے میں انکی 

مصروفیات میں مندرجہ ذیل چیزیں رپورٹ ہوئیں:

۱- چین کی اعلٰی قیادت سے ملاقات میں، چین و پاکستان کی اسٹرٹیجک 

شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے  لئے مزید مختلف  میدانوں 

پر بات چیت کی گئی۔

۲- اقتصادی اور تجارتی میدانوں کو ہدف بناتے ہوئے، سی پیک کو 

مزید وسعت دینے پر گفتگو کی گئی۔

۳-  چینگدو ، شنگھائی اور یوگر صوبوں کا دورہ کیا ، جہاں مختلف 

اداروں، اور صنعتوں میں پاکستان کی معاونت اور تکنیکی معلومات 

کے تبادلے  پر گفتگو کی گئی 

٤- چین کے دنیا سے خفیہ رکھی ہوئی، چینی ایوی ایشن انڈسٹری 

جہاں   J-10 اور J-20 جنگی طیاروں کی تعمیر ہوتی ہے اس کا 

دورہ کیا۔ یہ دورہ کسی بھی سربراہ مملکت کیلئے چینی حکومت کی

طرف سے ایک اعزاز تصور کیا جاتا ہے۔ جس طرح پاکستان نے 

ماضی میں شاہ عبداللٰہ کو پاکستان کی عسکری صنعت کا دورہ کرواکر انکو 

اعزاز عطا کیا تھا۔

اس دورے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری، فرسٹ لیڈی، 

محرمہ آصفہ بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، صوبائی وزیر ناصر 

حسین شاہ کے علاوہ، کئی اعلٰی حکومتی ٹیکنیکل ماہرین کی ٹیم شامل تھی

دیکھنا یہ ہے، کہ پاکستان چین اور امریکہ کی کشتیوں میں بہ یک وقت 

سوار ہوکر کہیں اپنا توازن نہ کھو بیٹھے۔ چین کی پچھلی نصف صدی کی 

رفاقت اور امریکہ کی پچھلی ٧٠ سالہ قربت کے نتائج ، ہر پاکستانی پر 

واضح ہیں۔ امریکی محبت میں، امریکہ اور ہمارے جرنیلوں کا فائدہ تو 

سب کو نظر آتا ہے، پاکستانی معیشیت اور معاشرت کا فائدہ تو دور کی 

بات ہے، محض نقصان ہی ہوا ہے۔ لیکن ہمارے جرنیل شروع 

ہی سے امریکی شمع کے پروانے بنے رہتے ہیں۔  

آنے والے الیکشن میں جو سیاسی ایشو اٹھائے جانے کا احتمال ہے 

اس میں، امریکی رفاقت کی پالیسی زیر بحث آسکتی ہے۔

اگر ، ہماری سیاسی قیادت ، بشمول عمران خان،  بالغ نظری کا 

مظاہرہ کرکے، آپس میں کم سے کم ایجنڈے پر متفق ہوکر، آئندہ 

الیکشن میں، پنڈی کی، در اندازی کا دروازہ بند کردیں تو، پاکستان 

میں سیاسی استحکام آ سکتا ہے اور ہائیبرڈ نظام کے خاتمے کی کنجی، 

سیاسی جماعتوں کی گفت شنید میں ہے، دشنام طرازی میں نہیں۔

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے