نکتہ داں-۱۵۹
۲۸ اکتوبر ۲۰۲۵
یورپ گردی۔۲ ( پیرس میں پڑاؤ)
لندن کی پیاس ابھی بجھی بھی نہ تھی، کہ پیرس کیلئے پر تولنے پڑے۔ پیرس کے متعلق، اپنے ایام جوانی سے ، جو افسانے سنتے آئے تھے، رات، بستر پر لیٹتے ہی،، خیالوں میں ان افسانوں میں رنگ بھرنے کی کوشش کی، لیکن دن بھر کی تھکن نے، شوق آوارگی کو زیادہ مچلنے نہ دیا اور ہم نیند کے ہورہے۔
ٹوور ڈائریکٹر مسٹر اولی ( پورا نام اولیور )نے پہلی ہی ملاقات میں تاکید کردی تھی، کہ تمام ممبران وقت کی پابندی نہیں کریں گے تو، دوسرے ساتھیوں کو کوفت ہوگی اور نکلنے میں دیر ہوئی تو پوری تفریح کا مزا جاتا رہے گا ۔ اورچونکہ ، سوائے ہم دونوں کے، اور کوئی ممبر بھی برصغیر کا باسی نہیں تھا، لہذا ہر فرد، ہوٹل کے ریسٹورانٹ میں وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے ہی ناشتے کیلئے موجود تھا۔ جبکہ پچھلے ۱۵ سالوں میں،امریکہ میں رہ کر، ہم بھی اتنے امریکن بن گئے ہیں کہ وقت کی پابندی کرکے ، کسی سے کم نہ ہونے کا دعوٰی کر سکیں۔
ناشتے کے لوازمات سے پورا پورا انصاف کرکے ، ہم بمعہ بیگ، بس میں جا بیٹھے۔ ہماری منزل، سینٹ پینکراس انٹر نیشنل ٹرین اسٹیشن تھا۔ یہ اسٹیشن بھی ایک ہوائی اڈے کا سا سماں پیش کرتا ہے، سوائے اس کے کہ یہاں روانگی، لاؤنج کے بجائے، پلیٹ فارمز سے ہوتی ہے۔ ۱۵ پلیٹ فارموں پر مشتمل یہ ریلوے سٹیشن، ۲ منزلہ ہے۔ اس اسٹیشن پر تین ٹرین سروسز مسافروں کو مختلف منزلوں تک پہچاتی ہیں۔ یورپ کے ملکوں کیلئے یوروسٹار انٹر نیشنل، جبکہ اندرون انگلستان دو سروسز، ایسٹ مڈ لینڈ ریلوے اور ساؤتھ ایسٹرن ریلوے، انگلستان کے مختلف شہروں سے مسافروں کی آمد و رفت کی خدمات انجام دیتی ہیں۔
یورو ٹرین کیلئے بالائی منزل کے ۵ سے ۱۰ نمبر کے پلیٹ فارمز مختص ہیں۔ جبکہ زیریں منزل، اندرون انگلستان ٹرینوں کیلئے ہے۔
ایک خاص بات یہ، کہ انگلستان سے روانگی (exit)اور فرانس میں آمد (entry) ایمریگیشن یہیں ہوجاتی ہے ۔
جب ایمیگریشن کی exit اور entry ہو چکی، تو ٹرین کی روانگی کے پلیٹ فارم کی تلاش شروع ہوگئی۔ لیکن مسٹر اولی بتا چکے تھے کہ پلیٹ فارم کا اعلان، روانگی سے محض ۲۰ منٹ پہلے کیا جائے گا۔ تو سب مسافروں کی طرح ہماری آنکھیں بھی انفارمینشن اسکرین پر جمی رہیں۔ وقت روانگی سے، ٹھیک ۲۰ منٹ پہلے اسکرین پر پلیٹ فارم نمبر ۹ لکھا نظر آیا۔ حالانکہ ہماری یورو انٹرنیشنل ٹرین، کافی پہلے سے یہاں منتظر تھی، لیکن مسافروں کیلئے اعلان دیر سے کرنے کی حکمت، روانگی پلیٹ فارم پر بے وجہ بھیڑ اور غیر متعلقہ افراد کو روکنا تھا۔ ہم اپنے موبائل کو بنا توقف کے، مختلف زاویوں سے، ریلوے اسٹیشن اور، یورو ٹرین کی تصویریں بنا تے رہے۔
سمندر کی تہہ میں سرنگ کھود کر، برق رفتار ٹرین کے ذریعے انگلستان اور فرانس کو محض ۳۵ منٹوں کے زیر آب راستے سے ملانا، انجینئرنگ کا کرشمہ ہے ۔ اس سرنگ کی مجموعی لمبائی ۵۰ کلومیٹر سے زیادہ ہے، جبکہ سرنگ کا ۷۵ میٹر زیر آب حصہ تقریباً ۴۰ کلومیٹر ہے
لندن اور پیرس کا ۳۴۴ کلومیٹر طویل فاصلہ، ہم نے، تقریباً سوا دو گھنٹے میں طے کیا۔سفر نہ صرف آرامدہ تھا بلکہ، راستے میں کھیت کھلیان ، باغات ، فیکٹریاں اور آبادیاں ہمارے شوق نظارہ کی آبیاری کرتی جارہی تھیں۔ چونکہ لندن ہی سے ہمیں فرانس کی اینٹری مل چکی تھی، لہٰذا بنا ایمیگیریشن کے جھنجھٹ، ہم فرانس کو تسخیر کرنے کے احساس میں گم ،یورپ کے سب سے مصروف ترین ، ٹرین اسٹیشن “گیر ڈو نارڈ “سے باہر نکلے۔
ہمارا ٹور ڈائیریکٹر مسٹر اولی، ایک ہمہ گیر شخصیت کا مالک تھا۔ میوزک میں پی ایچ ڈی، ایجوکیشنسٹ، تاریخ داں اور فن داستان گوئی کا ماہر۔ جب وہ بولتا تھا تو دل چاہتا تھا کہ بولتا رہے۔ اسکی آواز، شہروں کی تاریخ بتاتے ہوئے بھی، نغمہ گی تھی۔ اس کا انداز تخاطب نہ صرف دوستانہ تھا بلکہ، وہ تمام ممبران کا فرداً فرداً خیال رکھتا تھا۔ اس کی شخصیت کے طفیل، ہمارے گروپ میں ہم آہنگی اور ربط پیدا ہوچکا تھا۔ وہ مختلف شہروں کے سفر کی ابتدا سے پہلے ہی، نہ صرف تاریخ بیان کرتا بلکہ شہر کی خصوصیات اور وہاں سفر کے دوران احتیاط رکھنے کا ذکر بھی کر دیتا تھا۔
پیرس پہنچنے پر، بس میں اس نے تین باتیں بتائیں ۔ پہلی بات یہ کہ فرانس کے لوگوں سے ہر وقت خوش اخلاقی کی توقع نہ رکھیں۔ دوسری بات یہ کہ فرانس میں پر ہجوم مقامات پر جیب کتروں سے ہوشیار رہیں اور تیسری بات یہ کہ ہوٹل جاتے ہوئے، ہماری بس کا گزر ، انسانوں کی صنفی ضرورتیں، (تجارتی بنیادوں پر) پوری کرنے کے علاقے سے ہوگا ۔ آپ اسے اپنے معاشرتی علم میں اضافے کے طور پر دیکھیں۔ اس آخری اعلان کو ہر شخص نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق سنا لیکن مسکراہٹ ہر چہرے پر عیاں تھی۔
اس علاقے سے گزر زیادہ طویل تو نہیں تھا لیکن، دکانوں، اسٹوڈیوز کے سائیڈ بورڈز، اور سڑک کی طرف کھلتے شو کیسز، سے جھلکتی اشیأ ، نے پوری کہانی بیان کردی تھی
فرانس پہنچ کر، اس عظیم ملک کے، دنیا بھر پر احسان کا ذکر نہ کرنا بہت بڑی بد اخلاقی میں شمار ہوگا۔ جی ہاں، آزاد دنیا پر، فرینچ ریوولوشن کے احسانات ہیں۔ دنیا بھر کے بادشاہوں اور ڈکٹیٹروں میں، انقلاب ایک وبائی بیماری تصور کیا جاتا ہے۔ یہ اگر کسی علاقے میں پھیل جائے تو اسکا اثر قرب و جوار کے تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اگرچہ، فرانس کے بادشاہ لوئیس شانزدہم نے، فرانس اور برطانوی راج کی صدیوں پرانی دشمنی کے زیر اثر، ۱۷۷۵ میں، امریکہ میں، برطانوی راج کے خلاف ابھرتی بغاوت کی ، پیسے، اسلحے اور عسکری طور پر کھل کر مدد کی اور امریکہ کو برطانیہ سے آزادی دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن قسمت کی ستم ظریفی کہ لوئیس شانزدہم کی امریکی آزادی میں مالی، عسکری مدد ہی فرانس میں بادشاہت کے خاتمے کا سبب بنی۔ امریکہ کی جنگ آزادی نے فرانس کی بھرپور مالی اور عسکری مدد نے فرانس کو مقروض کردیا تھا۔ یہ قرض اتارنے کیلئے بہت زیادہ ٹیکس وصول کئے جانے لگے۔ ملک کے غریب اور مفلس لوگ پہلے ہی شاہی خاندان اور امراء کی عیاشیوں سے نالاں تھے اور ایک وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے تھے ۔ اسی دوران فرانس کے ادیب، فلاسفرز عوام کی سیاسی بیداری اور جذبہ آزادی اور بغاوت کو ابھارنے کیلئے تین حرفی نعرے کو فروغ دے رہے تھے(Liberty, Equality, Fraternity) یعنی آزادی، برابری اور بھائی چارگی۔ اسی نعرے کو لیکر بغاوت کی ابتدا ۱۷۸۹ میں شاہی قید خانے سے سیاسی قیدیوں کو بزور طاقت آزاد کرنے سے شروع ہوکر، رفتہ رفتہ اس پیمانے پر بڑھی کہ، فرانس میں بادشاہت کے ہمیشہ کیلئے خاتمے پر منتج ہوئی۔ لیکن آزادی کی یہ طلب فرانس سے نکل کر نہ صرف یورپ بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں بادشاہتوں کے خاتمے کا سبب بنی۔
فرانس کی پہچان فیشن اور آرٹ ہے اور پیرس اسکا دارلخلافہ۔ پیرس شہر کے وسط میں، آرٹ سٹوڈیوز اور آرٹ گیلریز کا گاؤں سا آباد ہے۔ یہ علاقہ Mountmartre کہلاتا ہے۔ اسکے اطراف کی سڑکیں آرٹ کے شیدائیوں سے ہر وقت بھری رہتی ہیں، لیکن ہماری (Itinerary ) سفری فہرست میں، اس علاقے کیلئے زیادہ وقت مختص نہیں تھا۔ لہذا اس علاقے کے تفصیلی سفر کو ہم نے اپنی خواہشوں کی کتاب میں آئندہ کیلئے درج کرنے پر اکتفا کی۔
دریائے سائین، پیرس کے وسط سے گزرتا ہوا سینکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد یہ دریا، انگلش چینل کے سمندر میں شامل ہوجاتا ہے۔ پیرس میں اس دریا کی سیر ایک دلربا تجربہ ثابت ہوا۔ کروز کے گھنٹے بھر کے سفر کے دوران ، جس میں عشائیہ بھی شامل تھا، ہم نے پیرس کی کئی خصوصی عمارتوں کو دریا کے بہاؤ کے ساتھ کروز پر سے دیکھا۔ ان میں ایفل ٹاور کو روشنیوں سے منور ہوتے، Louvre Musium جو دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ دیکھا جانے والا میوزیم ہے، وہ بھی اسی دریائی گزرگاہ سے جھلکتا نظر آیا۔ ٹور کمپنی کے ذریعے سیاحت کی ایک خرابی ہم پر یہ واضح ہوئی کہ، کئی اہم مقامات کو آپ بس چھوتے ہوئے گزرجانے پر مجبور ہوتے ہیں اور Louvre Musium, جہاں دنیا کے ۳۵۰۰۰ آرٹ کے نمونے، جن میں مشہور زمانہ مونا لیزا کی پینٹنگ، وینس ڈی ملو کا شہرہ آفاق مجسمہ اور ہزاروں نودرات آپکی دید کے منتظر رہتے ہیں انھیں آپ مجبوراً کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ شاید اس ہی وجہ سے، اگر زندگی نے ساتھ دیا تو پیرس کی طرف دوبارہ پلٹیں گے۔انشااللٰہ۔
ہوٹل واپس آکر، تھکاوٹ نیند کی گود نے دور کی اور صبح ہشاش بشاش اٹھے ۔ 4 Star ہوٹلوں کے ناشتے سے انصاف کرنا ہم سیکھ چکے ہیں اور پھر میرییٹ رائیو گینچ ہوٹل کے ناشتے کے لوازمات کچھ اور ہی تھے۔ ناشتے کے بعد ، ہر کوئی بس میں سوار تھا اور پیرس کی پہچان بنے، ان تمام مقامات کو دیکھنے کی پیاس ،حلق میں نہیں بلکہ آنکھوں میں عیاں تھی۔
ہماری پہلی منزل، پیرس کی مشہور زمانہ، ڈیس چیمپ الیسیز شاہراہ تھی۔ یہ شاہراہ اپنے دونوں اطراف، سینک مور درختوں کی قطار کے جلو میں، اپنے دونوں طرف، پیرس کے اعلٰی ریسٹورانٹ ، شراب خانوں اور انواع اقسام کے تحائف کی دکانوں اور فیشن کے دلدادہ لوگوں کی خواہشوں کی تکمیل کے سامان سے سجی ہوئی ہیں۔ اس شاہراہ کے مغربی کنارے پر، آرک ڈی ٹرائیومف کا مشہور زمانہ چوراہا ہے۔ اس میں تعمیر کردہ دروازہ نما گیٹ وے، نپولین نے اپنی افواج کی فتوحات اور اپنے جرنیلوں کی بہادری کی یادگار کے طور پر سنہ ۱۸۰۶ میں تعمیر کیا تھا۔ اس وقت سے یہ شاندار یادگار، فرانسیسی قوم کے اتحاد کا نشان بنی ہوئی ہے اور یہاں ہر سال قومی تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔یہاں تصویر کشی کے بعد ہماری اگلی منزل، سنہ ۱۶۰۷ میں تعمیر کردہ سفید پلWhite Bridge، سولہویں صدی سے پیرس کی ترقی اور جدیدیت کی علامت کے طور پر آج تک قائم ہے۔ یہاں سے فراغت کے بعد ہمارا قافلہ، پیرس کے تاریخی گرجا گھر، نورٹ ڈیم کیتھریڈیل، جو اپنے فن تعمیر میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، کی طرف مڑ گیا۔
اس گرجا گھر کی تعمیر سنہ ۱۱۶۳ میں شروع ہوئی اور تکمیل ۱۲۶۰ عیسوی میں ہو پائی۔ اس عمارت کی خوبصورتی کی چکاچوند اپنی آنکھوں میں سمیٹے، ہم فرانس کی پہچان ایفل ٹاور کی جانب روانہ ہوئے۔ فرنچ ریوولوشن (French Revolution)کی صد سالہ تقریبات منانے کیلئے سنہ ۱۸۸۹ میں، پیرس میں ایک عالمی میلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس میلے کو منانے کیلئے ایفل ٹاور کی تعمیر سنہ ۱۸۸۷ میں گسٹیو ایفل نامی انجینئر نے ڈیزائن کیا۔ ٹاور کی تعمیر دو سال میں مکمل ہوئی۔ اس دور میں، لوہے کے مختلف لمبائی کے ٹکڑوں کو ریوٹ کردہ اس ٹاور کی عمر ۲۰ سال طے تھی۔ اسکے بعد اسے توڑ دیا جانا تھا لیکن ، اسکے ٹاور کو ریڈیو اینٹینا بنا دینے اور موسمی حالات جاننے کے لئے تجربات کرنے کی مختصر لیبارٹری اس کے انہدام کے فیصلے کے آڑے آئی۔ آج یہ ٹاور، نہ صرف فرانس کی پہچان بن گیا ہے بلکہ یہ دنیا کے سب سے زیادہ دیکھے جانے والی یادگاروں میں شامل ہے۔یہ مقام مجھے ہمیشہ یاد رہے گا وجہ اسکی یہ کہ، ایفل ٹاور پر تصویریں بنانے کے بعد، ہم قریب ہی، ریسٹورانٹ میں ظہرانے کے ارادے سے گئے۔ وہاں خاصہ رش تھا اور سیاح نہ صرف لنچ کرنے آرہے تھے بلکہ باتھ روم بھی استعمال ہو رہا تھا۔ ہم بھی اسی ارادے سے داخل ہوئے۔ باتھ روم نچلی منزل پر تھا اور لمبی قطار تھی۔ میں اور بیگم بھی اس قطار میں کھڑے ہوئے۔ لیکن ریسٹورینٹ کے ایک فرانسیسی ادھیڑ عمر ورکر نے ہم دونوں کو لائن سے ہٹ جانے کا کہا کہ رش بہت ہے ۔ میں نے اسے جواب دیئے بغیرپ، دوسری قطار جو سینڈوچز کے آرڈر لینے کیلئے تھی، میں کھڑا ہوگیا۔ اپنے آرڈر کی رسید لیکر دوبارہ باتھ روم کی قطار میں آگیا۔ جب اس ادھیڑ عمر ورکر نے مجھے رسید ہاتھ میں لئے دیکھا تو ، آنکھیں بچا کر دوسری طرف دیکھنے لگا ۔ میں نے خود مشاہدہ کیا کہ وہ کسی گوری چمڑی والے سیاح کو بنا خریداری کے باتھ روم استعمال کرنے سے نہیں روک رہا تھا، یہ مہربانی صرف گندمی چمڑی والوں کیلئے تھی۔ یہاں سے ہماری بس، پیرس گیریئر اوپیرا ہاؤس سے طائرانہ ملاقات کرواتی ہوئی، ہمیں، پیلس ڈی لا کونکورڈ کے محل وقوع کے بیرونی نظارے کرواتی گزری۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ پیرس جیسے شہر بے کراں کیلئے محض دو دن، نہ صرف اس شہر کی بے توقیری ہے بلکہ ذوق آوارگی کی بھی ہتک ہے۔ لیکن چونکہ ہم ایک گروپ میں شامل تھے لہذا ، دل کو دوبارہ آنے کی تسلیاں دیکر چپ کروایا۔
فرینچ ریوولوشن سے پہلے، فرانس پر بادشاہت کا راج تھا۔ گو اقتصادی طور پر فرانس بہت مضبوط تھا لیکن دولت صرف شاہی خاندان اور امرا تک محدود تھی۔ شاہی خاندان اس دولت کی نمائش، اپنی بود و باش سے اس بڑے پیمانے پر کیا کرتا تھا کہ صدیاں گزرنے کے باوجود انکی نشانیاں آج تک آنکھوں کو خیرہ کئے دیتی ہیں۔ پیرس کے مغرب میںُ ۱۸ کلو میٹر کے فاصلے پر ورسیلیز (Versailles) کے مقام پر ، فرانسیسی بادشاہوں کا محل اور باغات، اپنی خوبصورتی اور دلکشی اور تعمیر کی وجہ سے سالانہ دنیا بھر کے ڈیڑھ کروڑ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کئے رہتے ہیں۔ ہمارے فرینچ گائیڈ نے ہمیں اس محل اور باغات کا جو تفصیلی دورہ کروایا وہ بتانے سے نہیں، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ کوئی بھی بیان، اس خوبصورتی کا احاطہ کرنے سے قاصر ہوگا جسے ہم نے دیکھا، سمجھا اور محسوس کیا۔ ۲۰۰۰ ایکڑ رقبے میں پھیلے ہوئے باغات اور محل، آپکو کسی اور ہی دنیا میں لے جائیں گے ۔ سینکڑوں انسانوں کے زیر استعمال رہنے والی اس عمارت کی بنیاد، کروڑوں مجبوروں اور بیکسوں کے خون پسینے سے بنائی گئی تھی۔
احرام مصر تو پہاڑوں کے بڑے بڑے ٹکڑے کاٹ کا ٹ کر بنائے گئے تھے، لیکن، پیرس کا آرٹ میوزیم جو شاہی محل میں ہے، اس کے استقبالیے کے لئے آہن و شیشے سے تعمیر شدہ، احرام بھی، انسانی جدت اور اختراع پسندی کی روشن مثال ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد ، ہماری منزل ہوٹل تھا تاکہ، آرام کرکے، اپنی اگلی منزل ایمسٹر ڈیم کیلئے ،توانائی اکھٹی کی جاسکے۔
خالد قاضی


