نکتہ داں-١٦٠
۲۹ اکتوبر ۲۰۲۵
پاکستان کا حل ، کیا ہائیبرڈ نظام ہے ؟
ہماری مقتدرہ وہ ایام بھلا نہیں پارہی، کہ کوئی جنرل، جب چاہتا تھا، وہ ، بنا کسی رکاوٹ اور بنا کسی مزاحمت کے، رات کی تاریکی میں، ٹیلیویژن پر آکر، کبھی کرپشن کا بہانہ بنا کر، کبھی ملکی حالات کے خراب ہونے کا رونا رو کر، کبھی اسلام کی حفاظت کی علمبرداری کا بہانہ بنا کر اور کبھی روشن خیالی کا پرچار کرکے، “میرے عزیز ہم وطنو” کا راگ الاپتا تھا۔ لیکن برا ہو، وکیلوں کا، بیڑا غرق ہو صحافیوں کا ، خانہ خراب ہو فیض احمد فیض، حبیب جالب اور احمد فراز جیسے شاعروں کا، اور کیڑے پڑیں ان سیاستدانوں کو،جو کبھی MRD بنا کر، کبھی PDM کے سائے تلے، کبھی وکلاء کی ملک گیر جدوجہد سے، نہ صرف جمہوریت کی گاڑی کو ،کسی نہ کسی طرح دوبارہ پٹری پر لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔بلکہ خرابی ہو وقت کی بھی، کہ وقت نے ، جنرلوں کی اس بار بار کی چورن بیچنے کے بارے میں عوام کو ہوشیار کردیا ہے۔ اور ککھ نہ روے عمران خان اور اس کے چاہنے والوں کا، کہ عمران خان کی حکومت ختم کرنے اور اسے پابند سلاسل کردینے کی وجہ سے، تو اب پاکستان کا تقریباً ہر شخص بدک گیا ہے اور جنرلوں کے نہ گھیرے میں آنے کو تیار ہے اور نہ رعب میں ! اور آخری کسر اس سوشل میڈیا نے نکال دی ہے۔ پہلے تو اخبارات پر سینسر لگا کر خبروں کا بلیکٹ آؤٹ کردیا جاتا تھا، اور اِس وقت بھی، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ درجنوں صحافی مکمل تابعداری سے صرف وہی لکھتے اور وہی کہتے ہیں کہ جس کی اجازت دی جائے۔ لیکن سوشل میڈیا قابو سے باہر ہے۔ اور پیکا قانون کی بندشیں بھی اسے قابو میں رکھنے کیلئے ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
میری سیاسی سوچ کے مطابق، پچھلی سات دہائیوں کے تجربے کی وجہ سے ہماری مقتدرہ کو، بہتر حل یہی نظر آیا ہے کہ ماضی کے ادوار کی طرح خود سامنے آکر حکومت کرنے کے بجائے، اس جدید ہائیبرڈ نظام کے ذریعے، حکومت پر حکومت کی جائے۔ اس کے کئی فائدے ہیں۔ تمام ناکامیوں ، غلط کاریوں اور بیڈ گورنس کا ذمہ دار حکومت کے گلے ڈال کر ، خود “ میریا ڈھول سپاہیا، تینوں رب دیاں رکھاں۔ اج تک دیاں تینوں، سارے جگ دیاں اکھاں” بنا رہا جائے۔ لیکن مصیبت ہو اس ۷۳ کے آئین کا، کہ اس میں بڑی وضاحت سے نہ صرف فوج کا سیاست میں کوئی دخل نہ ہونے کا لکھدیا گیا ہے، بلکہ ہر فوجی افسر کے حلف میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔
تو اب اسکا حل کیا ہے ؟ حل یہ سوچا گیا ہے کہ، کسی طرح آئین میں، فوج کے سیاسی کردار کا ذکر شامل کر دیا جائے۔اور ۲۷ویں ترمیم اس ہی لئے لائے جانے کی سوچ ہے۔ لیکن یہ عمل بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والے مشورے سے کم نہیں۔ اس کیلئے، ملک کے طول و عرض سے مخالفت کا امکان ہے۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ اور جنوبی پنجاب تو اس مسئلے پر احتجاج کرتے نظر آئیں گے ہی، لیکن پنجاب میں بھی، یہ عمل ن لیگ کے سیاسی وجود کیلئے دیمک ثابت ہوگا۔ لہذا ، بس اسی ہائیبرڈ نظام سے گزارا کیا جائے۔ ہاں اس نظام کی مخالفت کم کرنے کیلئے، اور اسے ہی بہتر ثابت کرنے کیلئے، لوگوں کے اذہان تیار کئے جائیں۔
اس کام کیلئے ضروری ہے کہ جمہوریت میں کیڑے تلاش کئے جائیں، اسے ناکام ثابت کیا جائے اور اس ناکامی کا حل یہی ہائیبرڈ نظام تجویز کیا جائے۔
آپکے لئے خبر یہ ہے کہ اس منصوبے پر عمل شروع کردیا گیا ہے اور اپنے منتخب کردہ صحافیوں اور لکھاریوں کے ذریعے پرنٹ میڈیا پر ایسے آرٹیکل آنا شروع ہوگئے ہیں کہ جمہوریت میں خرابی ہے۔
جب معروف لکھاری خورشید ندیم کا آرٹیکل میری نظر سے گزرا تو میں انکی ذاتی رائے سمجھا، لیکن پھر چند ہی دنوں بعد معروف صحافی انصار عباسی کے جنگ اخبار میں آرٹیکل سے میرا ماتھا ٹھنکا ۔
آپ سے گزارش ہے کہ آپ مندرجہ ذیل دونوں آرٹیکل دیکھ کر بتائیں کہ میرا شک درست ہے یا غلط۔
“جمہوریت کے بعد” تحریر خورشید ندیم روزنامہ دنیا نیوز
https://share.google/w1kDPh1bpBsQZv4Et
“ جمہوری ڈرامہ نا منظور “ تحریر انصار عباسی روزنامہ جنگ
https://www.geonewsurdu.tv/latest/418913
آپکے جواب کا منتظر ہوں
خالد قاضی

