نکتہ چیں -۱۷
۲۱ اپریل ۲۰۲۴
۱۶ جنوری ۲۰۲۴، کے دن، پاکستان کے عوام سکتے میں رہ گئے، جب انھیں پتہ چلا کہ برادرم ملک ایران نے “اعلانیہ”، اپنی سرحد سے جڑے بلوچستان کے علاقے پر کئی میزائل اور ڈرون حملے کر کے ، بقول انکے “جیش عدل” نامی دہشتگرد گروپ پر حملہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان نے، جوابا” محض زبانی مذمت پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ٤٨ گھنٹے سے بھی کم مدت میں، ایران کے، پاکستان سے ملحقہ علاقے پر، میزائل اور ڈرون داغ کر، بلوچ دہشتگردوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیا۔
اس پیش رفت سے یقیناً اسرائیل اور امریکہ کے ایوانوں میں شادیانے بج رہے ہونگے لیکن، ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے فوری ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ۲۹ جنوری ۲۰۲۴ کو بنفس نفیس پاکستان کا تشریف لاکر ، حالات کو اعتدال پر لانے کا اہتمام کیا۔ یہ پاکستان کی عبوری حکومت کے آخری ایام تھے۔
فروری اور مارچ کے مہینے، پاکستان کی اندرونی سیاسی گہماگہمی میں گزر گئے۔ اس دوران نہ صرف نئی حکومت تشکیل دی گئی بلکہ، سینیٹ اور صدارتی انتخابات بھی مکمل ہوئے۔
ایران سے تعلقات کومعمول پر لانا نئی حکومت کا ہدف نمبر ون تھا۔
صدر آصف زرداری کے پچھلے دور صدارت کے آخری ایام میں، ایران پاکستان گیس پائپ لائن کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن امریکی مخالفت اور تجارتی پابندیوں کی وجہ سے یہ معاملہ کھٹائی میں پڑا رہا۔ تقریباً گیارہ سالوں کے بعد ، زرداری کے صدارت سنبھالنے کے فوراْ بعد ، امریکی مخالفت کے باوجود، مثبت پیش رفت سامنے آئی اور گیس پائپ لائن کی پاکستانی حصے کی تعمیر دوبارہ شروع کی جارہی ہے۔
اگر جنوری ۲۰۲۴کے حالات کے پس منظر میں، آج ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے تین روزہ دورے پر نگاہ ڈالیں تو، حالات ایک جوہری تبدیلی کے عکاس نظر آتے ہیں
ایرانی صدر اپنی اہلیہ ، وزیر خارجہ ، کابینہ کے دیگر ارکان، متعدد اعلٰی حکام اور ایک بڑے تجارتی وفد کے ہمراہ تشریف لا رہے ہیں۔ پاکستان میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد، کسی بھی اہم ملک کے صدر کا پاکستان میں یہ پہلا دورہ ہے۔
اخباری اطلاعات کے مطابق، اس خطے کی سیکورٹی کی ہر روز بدلتی صورتحال اور مشرق وسطٰی کے حالات کے پیش نظر، اس دورے میں مشکلات پیش آرہی تھیں ۔ اس دورے کو ممکن بنانے کیلئے، صدر آصف علی زرداری نے ۱۳ مرتبہ ایرانی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔
اس دورے کے پیش نظر پاکستان اور ایران کے مابین، تعلقات مضبوط بنانے کیلئے، نہ صرف عوام سے عوام کے رابطوں کو سہل کرنے کے اقدامات کئے جائیں گے بلکہ تجارت، توانائی، زراعت اور کئی دوسرے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کا اعلان کیا جائے گا۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ایران اس وقت اسرائیل اور امریکہ کے نشانے پر ہے اور ایرانی وفد کی حفاظت پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
اس وفد کے آخری روز کراچی میں قیام کے دوران، حفاظت سے، شاید ہمارے سکیورٹی ادارے عہدہ برآ ہونے سے قاصر نظر آتے ہیں ، اور شاید اسی وجہ سے ضلعی انتظامیہ نے، کراچی میں ایک روزہ تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
گویا سیکورٹی اداروں کی نااہلی کا بوجھ بھی سیاسی حکومت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے، کیونکہ سوشل میڈیا پر، اس عام تعطیل پر سیاست کی جارہی ہے
بقول شاعر
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
خالد قاضی