۱۶۶نکتہ داں
۲۴ نومبر۲۰۲۵
چھڑی کا نشہ
نشہ، اسلام میں اس لئے بھی منع ہے، کہ اسکی وجہ سے، انسان اپنی اصل حقیقت کو بھول جاتا ہے۔ نشے کے زیر اثر، وہ خود کو، وہ سمجھنے لگتا ہے جو، وہ نہ ہوتا ہے اور نہ وہ ہوسکتا ہے۔نشے کی اخلاقی برائیوں کے مقابلے میں ، اسکے معاشرتی عوامل زیادہ خطرناک واقع ہوئے ہیں۔ اور پھر طاقت کا نشہ تو شراب کے نشے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے ، نہ صرف اس نشئی کیلئے بلکہ پورے معاشرے کیلئے۔
ہماری مقتدرہ کو نشے میں رہنے کی عادت ہی، پاکستان کو اس جگہ لے آئی ہے کہ جہاں سوائے مایوسی ، اندھیرا اور گھٹن کے ، کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
لیکن، کل جو سوشل میڈیا پر کلپ دیکھی تو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ میں اس کلپ کو AI کی کارستانی سمجھنے لگا۔ لیکن نہیں یہ کلپ اصلی تھا۔ اس کلپ میں، جو باتیں کی جارہی تھیں ، وہ بھی سو فیصد سچ تھیں لیکن جو بندہ یہ باتیں کر رہا تھا ، اس پر مجھے یقین نہیں آرہا تھا ۔ فرما رہے تھے کہ “ پاکستان بن گیا لیکن فوج کے نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ تو اسی ڈھب سے چل رہی تھی (جو انگریزوں کی نوکری کے دوران تھی) وہی مائینڈ سیٹ( آقا اور غلام والا) وہ سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس چھڑی ہے، تو اس چھڑی کی وجہ سے، ساری طاقت بھی اس بندے میں آجاتی ہے، عقل و دانشوری بھی۔ پھر ماہر معیشت بھی وہی ہوتا ہے اور ماہر تعلیم بھی۔ وہ دنیا بھر کو اور پورے پاکستان کو یہ بتاتا پھرتا ہے کہ دیکھو معیشت اس طرح چلتی ہے۔ (وہ کہہ رہے تھے کہ ) مجھے اس لئے یاد ہے چند روز پہلے کراچی میں ہماری بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے، مجھے بتایا کہ پچھلے آرمی چیف ہمیں اجلاسوں میں یہ بتاتے تھے کہ معیشت کی بہتری کیلئے ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ اس موضوع پر بول بول کر میں اکانومسٹ بن گیا ہوں۔ حالانکہ جو معیشیت کا حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ اب چھڑی بدل گئی ہے۔ اب پچھلے چیف جاہل بن گئے ہیں ۔ جبکہ اب نیا چھڑی والا، معیشت دان بھی ہے، اسے پتہ ہے کہ ملک کے منرلز minerals کیسے نکالے جائیں گے۔ پاکستانیوں کو کیسے کنٹرول کیا جائے گا۔ خارجی اور داخلی امور کس ڈگر پر چلیں گے، تعلیم کیا ہوگی، عدالت کس طرح چلائی جائے گی ، ترمیم کیسے کی جائے گی۔ اب جب انکی چھڑی تبدیل ہوجائے گی تو پھر ایک نیا عالم پیدا ہوگا۔ تو پتہ چلا کہ بات بندے کی نہیں بات چھڑی کی ہے۔ اور چھڑی کے ذریعے چلائے جانے والے اس نظام اور اس مائینڈ سیٹ کے ذریعے چند لوگ، اپنی مرضی چلاتے ہیں۔ اور اجتماعی دانش اور رائے کا احترام نہیں کرتے۔ پھر قومی مفاد وہ ہوتا ہے جو انکا ذاتی مفاد ہوتا ہے پھر اپنے ادارے کو پورے ملک کے اداروں پر مسلط کرنا ہی قومی مفاد کہلاتا ہے۔ یہ ہے مائینڈ سیٹ۔
آپ پوچھیں گے کہ یہ کس شخص باتیں کر رہے ہو ۔ جواباً آپ خود ملاحظہ کر لیں کہ یہ الفاظ میرے نہیں، بلکہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کے ہیں۔
https://www.facebook.com/share/v/1AErk42i3U/?mibextid=wwXIfr
یقین اس وجہ سے نہیں آرہا کہ پچھلی نصف صدی کی تاریخ میرے پیش نظر ہے۔ جماعت کی پالیسی میں یہ جوہری تبدیلی کیسے واقع ہوئی ؟ میری دانست میں، جماعت سے سینیٹر مشتاق کے استعفے کے بعد، جماعت کے نوجوان چاہنے والوں کی، جماعت کی پالیسی کے خلاف بے چینی ، اس تبدیلی کی محرک ہوئی ہے (یہ میرا ذاتی اندازہ ہے) لیکن بہرحال “ دیر آید ، درست آید۔”
جماعت اسلامی نے جرنیلوں کے خلاف اس بیانیے سے جو نئی ابتدا کی ہے اسکی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ لیکن سیاست کے طالبعلم کی حیثیت سے، میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی تحریک اور سیاسی پارٹی کی کامیابی، اسکے نعرے اور اسکے بیانیے کی کشش کی مرہون منت ہوتی ہے۔ تحریک پاکستان میں “ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ” اور پاکستان بنانے کے نعرے میں اسقدر کشش تھی کہ، مسلمانان برصغیر کی اکثریت کو اس نعرے نے مبہوت کردیا۔اسکے بعد، ایوب دور کی سیاسی گھٹن اور غربت افلاس نے، پیپلز پارٹی کے نعرے، “مانگ رہا ہے ہر انسان روٹی کپڑا اور مکان“
کی پورے مغربی پاکستان ، جبکہ دوسری طرف مجیب کے چھ نکاتی ایجنڈے میں جس میں معیشیت کی آزادی کے علاوہ کرنسی اور دفاع بھی اپنا اپنا تھا ،نے مشرقی پاکستان کے عوام کو مسحور کردیا۔
ضیا نے نظام مصطفٰی کے نعرے سے کام چلایا، جبکہ اسکے بعد ملک بھٹو کے چاہنے والوں اور اس سے نفرت کرنے والوں کے درمیان تقسیم ہوگیا اور اس ہی پس منظر میں نواز شریف نے “ جاگ پنجابی جاگ” کے نعرے کو متعارف کروایا۔مشرف نے نہ صرف “پاکستان فرسٹ” کا لیبل لگاکر سیاست کی اور روشن خیالی کا چورن بھی بیچا۔ عمران خان کا نعرہ نہ صرف انصاف کی فراہمی تھا بلکہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا وعدہ بھی شامل تھا۔
آج کی حکومت نعرے پر نہیں، معیشت کو سنبھالنے کے دلاسے بیچ رہی ہے۔ یہ الگ بات، کہ آئی ایم ایف کے پریشر پر جاری کردہ رپورٹ نہ صرف کرپشن کے عفریت کا گھناؤنا چہرہ دکھا رہی ہے بلکہ غربت، تعلیم اور بے روزگاری میں اضافے کی شرح بھی بتا رہی ہے۔
میں سوچ یہ رہا ہوں کہ مستقبل کی سیاست کا نعرہ کیا ہوگا یا کیا ہوسکتا ہے۔
زیرک سیاستدان عوام کے موڈ اور اسکی نبض پر ہاتھ رکھکر ، اپنی سیاست اور اپنی سیاسی پارٹی کے نعرے تشکیل دیا کرتے ہیں۔
میرے لحاظ سے،موجودہ دور میں پاکستان کے لوگوں کی اکثریت، پچھلی سات دھائیوں کے ، انتخابات میں دھاندلی کے سخت خلاف ہیں۔ انتخابی نتائج سے کھیلے جانے کی وجہ سے، وہ کسی ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو انھیں ایک صاف اور شفاف انتخاب کا یقین دلا سکے۔ اگر کوئی سیاسی پارٹی ، دھاندلی کو روکنے، اور فارم ۴۵ کے مطابق نتائج کو فائنل نتیجہ منظور کروانے کی مہم چلاتی ہے تو اسے عوامی پزیرائی نصیب ہو سکتی ہے۔
ہمارے جرنیلوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ پاکستان کوئی ملٹری بیریکس نہیں ہے اور نہ ہی کنٹونمنٹ علاقہ۔ جب جب جرنیلوں نے پاکستان پر قبضہ کیا ہے تب تب، عوام نے انھیں شکست دی ہے۔ ۲۷ ویں ترمیم کے خلاف کراچی میں وکلاء کا احتجاج اور اسلام آباد میں آل پاکستان بار ایسوسیشن کا کنونشن کے علاوہ تحریک بحالی آئین سب ملکر تمام غیر آئینی اقدامات کو ختم کریں گے
یعنی بقول شاعر:
بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے
خالد قاضی
عزیزم قق
سر بہت شکریہ