نکتہ داں– ۱۶۷
۲۸ نومبر ۲۰۲۵
گولڈن چانس
حالیہ ضمنی انتخابات میں، تحریک انصاف کی عقل مندی کہیے یا ن لیگ کی خوش قسمتی، کہ پنجاب میں، قومی اسمبلی کی تمام نشستیں تحریک انصاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے بہ آسانی، ن لیگ کی جھولی میں گر گئیں۔ اس پس منظر میں نہ ن لیگ کو اور نہ ہی مقتدرہ کو کسی دھاندلی کی ضرورت پڑی۔ اللٰہ اللٰہ خیر صلّا۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ اب ن لیگ کو سادہ اکثریت بھی میسر آگئی اور اسے حکومت قائم رکھنے کیلئے، پیپلز پارٹی کی ضرورت سے آزادی بھی مل گئی۔ چونکہ اٹھارویں ترمیم کے، بذریعہ ۲۸ ویں ترمیم رول بیک، میں پیپلز پارٹی بظاہر، راضی نہیں لگتی اس لئے، سندھ میں پیپلز پارٹی کیلئے مشاکل پیدا کرنے کا اہتمام کیا جانا ضروری ہے۔ لیکن (میری سیاسی سوچ کے مطابق) وہ اب نہیں، شاید اگلے الیکشن کے وقت۔ کیونکہ، اس وقت ن لیگ کی قومی اسمبلی میں سندھ سے کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ لہذا اگلے الیکشن میں سندھ میں ن لیگ کی موجودگی کیلئے، اب ہی سے تیاری شروع ہوگئی ہے۔ سیاست میں، حکومتی عہدے کا وزن نہ صرف محسوس کیا جاتا ہے بلکہ عہدے کی چمک، نگاہوں کو خیرہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ مستقبل کے اس منصوبے کے پیش نظر، شہبازشریف حکومت، سندھ میں ایم کیو ایم کے گورنر کو ہٹا کر، اپنا گورنر لگانے کا عندیہ دے چکی ہے۔ اگلے مرحلے میں شاید، وفاقی حکومت میں سندھ سے کوئی مشیر بھی مقرر کیا جاسکتا ہے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگلے انتخابات میں ن لیگ کا سیاسی ہدف دیہی سندھ ہوگا یا شہری۔ دیہی سندھ میں پزیرائی حاصل کرنے کیلئے سندھی گورنر کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جس میں صف اول کے امیدوار بشیر میمن صاحب ہیں۔ لیکن سندھی گورنر مقرر کرنے سے شہری سندھ میں،سیاسی طور پر ن لیگ ناپید ہو جائے گی۔
اس پس منظر میں، ایم کیو ایم کو کیسے راضی رکھا جائے گا ؟ کیا وہ ایک یا دو وفاقی وزارتوں سے بہلائے جاسکیں گے؟ کیونکہ اس ہی تنخواہ پر کام کرنے پے راضی ہوجانے کی وجہ سے، آئندہ سیاست کرنے کیلئے، انھیں آئندہ انتخابات میں جیتنے کیلئے، گزشتہ انتخابات سے بھی کہیں زیادہ دھاندلی درکار ہوگی۔
زرداری صاحب اور ایم کیو ایم کی سیاسی بصیرت اس موقعے کو سندھ کے فائدے کیلئے، استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر پیپلز پارٹی کھلے دل کا اور ایم کیو ایم کھلے دماغ کا مظاہرہ کریں تو، صورتحال دونوں کیلئے عمومی اور صوبہ سندھ کے عوام کیلئے خصوصی طور پر فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بات سندھ کے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو سمجھ لینی چاہئے کہ سندھ میں، مقتدرہ کا مفاد ، سندھ کی تمام بڑی سیاسی قوتوں کو تقسیم رکھنے میں ہے۔ سندھ میں افہام و تفہیم مقتدرہ کو بالکل مطلوب نہیں ہے۔
اگر زرداری( جو سیاسی جادوگر مانے جاتے ہیں) ایم کیو ایم کے تمام جائز مطالبات تسلیم کر کے، انھیں نہ صرف صوبائی حکومت کا حصہ بنائیں بلکہ اٹھارویں ترمیم کے ثمرات نچلی سطح تک لیجاکر، نہ صرف صوبے کی تمام لسانی اکائیوں میں یگانگت اور بھائی چارے کو فروغ دیں بلکہ مرکز کی فیصلہ سازی کو، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی مشترکہ قوت سے ، لگام بھی ڈالے رکھیں۔
اس طرز عمل سے، ایم کیو ایم سندھ کے شہروں میں اپنی سیاسی ساکھ میں اضافہ کرسکے گی اور پیپلز پارٹی خود کو، مقتدرہ کی بلیک میلنگ سے محفوظ رکھ سکے گی۔
ایم کیو ایم کیلئے دوسرا راستہ یہ ہے، کہ وہ انکا کہا مانے، کہ جنکے احسان کی وجہ سے وہ آج قومی اسمبلی میں ہے۔ لیکن انھیں یہ بات ذہن نشین رکھنی ہوگی کہ مقتدرہ احسان بھی اپنی ضرورت کے تحت کرتی ہے اور ضرورت ختم ہوتے ہی ، طوطے کی طرح آنکھیں بدلنے میں دیر نہیں کرتی۔
وما علینا الا البلاغ
خالد قاضی