NUKTADAAN

Reading: ‏۲۔ خاندانی سیاست
Reading: ‏۲۔ خاندانی سیاست

‏۲۔ خاندانی سیاست

admin
8 Min Read

پاکستان میں خاندانی سیاست اور شخصیت پرستی کے متعلق بہت کچھ کہا جاتا رہا ہے۔ اس موضوع پر میرے خیالات خاندانی سیاست  یا جسے عموماً  “شخصی بت پرستی” سے تشبیہ دی جاتی ہے ، سےمتعلق، مختلف ہیں۔

میرے خیال میں اگر شخصیات کی پیروی نہ ہو تو کوئی ازم، مذہب، تحریک یا انقلاب چل ہی نہیں سکتا۔ شخصیت کی محبت میں گرفتار ہونا کسی مشن، جماعت، مذہب یا فلسفے کی  پہلی ضرورت ہے۔ یہ تو ہمارے سیاسی تعصبات ہیں کہ جنھوں نے شخصیت کی محبت کو ایک عیب  بنا کر رکھ دیا ہے 

کیا گوتم بدھ کے بغیر بدھ مذہب چل سکتا ہے، حضرت عیسٰی کی محبت کے بنا نصرانیت پنپ سکتی ہے اور مسلمانوں کی حضور اکرم صلعم سے محبت ( کہ اسکے بغیر ایمان ہی مکمل نہیں ہوتا) اسلام کا تصور کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیا ہمارے مذہب میں  کچھ مکاتب فکر حضرت علی کرم اللہ وجہ ، اور پنج تن پاک کی محبت کے بغیر اور کچھ مکاتب فکر  کے نزدیک خلفأ راشدین اور صحابہ کی محبت کے بغیر قرب خدا حاصل کیا جاسکتا ہے ؟

دنیا کے کئی نام ایسے ہیں جن کے بغیر بڑی بڑی تحریکوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا مثلاً ، ماؤ۔ نیلسن منڈیلا، گاندھی، محمد علی جناح (قائد اعظم) وغیرہ یہ تو چند نام  ہیں ایسی سینکڑوں شخصیات  ہیں ۔شخصیات کی پرستش کے بغیر کسی جماعت یا نظریے کا تصور ہی ممکن  نہیں ہے۔

رہی خاندانی سیاست تو اسکی وجہ بھی ہمارے سیاسی جرنیل ہیں۔ اگر وہ بھٹو کا عدالتی قتل نہ کرواتے اور بینظیر شہید نہ کی جاتیں تو PPP پر محض بھٹو خاندان کا نام غالب نہ رہتا۔ دنیا بھر میں عوام کا رد عمل، اپنا ہوتا ہے وہ ان قوتوں کے خلاف جو یہ سیاسی قتل کرواتی ہیں یا جنکی حکومت سازشوں کے تحت برطرف کی جاتی ہے تو لوگ ضد میں آکر بار بار ان ہی خاندانوں کو اقتدار میں لاتے ہیں۔

 ایک کینیڈی کیا قتل ہوا کہ کینیڈی خاندان کئی دہائیوں تک امریکی سیاست میں اہمیت اختیار کئے رہا۔ فلپائن کا اکینو خاندان، انڈیا کا گاندھی خاندان، بنگلہ دیش کی حسینہ واجد اور بیگم خالدہ ۔ سری لنکا کی بندرا نائیکے۔ جس طرح ایوب خان نے مولانا مودودی کو پھانسی کی سزا دلوائی تھی اگر اس پر عمل ہوجاتا تو جماعت بھی خاندانی ہو جاتی۔ آپ کو یاد ہوگا، بھٹو صاحب نے ولی خان کو گرفتار کیا تو بیگم ولی خان سیاست میں اس وقت تک رہیں جب تک ولی خان آزاد نہ ہوگئے اور یہی کچھ مشرف دور میں نواز شریف کیلئے بیگم کلثوم نواز نے کیا، ورنہ ان خواتین کا سیاست سے تعلق نہیں تھا۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ بھٹو کے نام کو عیب بنا کر پیش کرتی ہے کیونکہ بہرحال لوگ اس نام پر جمع ہوتے ہیں اور جرنیل ہر اس شخص سے نفرت پھیلاتے ہیں جس میں لوگوں کو اکھٹا کرنے اور تحریک چلانے کی صلاحیت ہو

اگر ہم اپنے معاشرے پر نظر دوڑائیں تو خاندانی وراثت ہمیں ہر جگہ نظر آئے گی۔ 

ہمارے معاشرے میں ، بڑھئی، سنار، جولاہے، راج مستری، لوہار، وکیل، جج، ڈاکٹر، ڈینٹسٹ، کھلاڑی ، گائک، موسیقار ، فلمساز ، اداکار ، غرض ہر فیلڈ اور پیشے میں آپکو خاندانی وراثت ملے گی

مثال کے طور پر عالم لوہار ایک لوک گائک تھا اور اس نے اپنے وقت میں اپنا بہت نام بنایا ۔ اب کیا اس کے بیٹے عارف لوہار پر اس وجہ سے پابندی لگائی جاسکتی ہے کہ یہ وراثتی گائیکی نامنظور! جسے سننا ہے وہ شوق سے سنے اور جسے نہیں سننا اس پر بھی کوئی زبردستی نہیں ہے۔

خاندانی سیاست سے نفرت اسٹیبلشمنٹ پھیلاتی ہے کیونکہ اسٹیبلشنٹ کسی سیاسی شخصیت یا خاندان  کو اتنا مضبوط نہیں دیکھنا چاہتی جو ان کے لئے چیلنج بنے، اور نہ عوام میں کوئی امید کی کرن ، کوئی اتحاد کی علامت یا لوگوں میں جوش پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے سیاسی رہنما کو برداشت کرتی ہے۔ اسی لئے وہ سیاسی شخصیات کی انسانی کمزوریوں (کہ جو ہر  کس و ناکس میں ہوا کرتی ہیں  کیونکہ کامل ذات تو محض خدا کی ہے اور ہر انسان انسانی کمزوری سے مبرا نہیں) کو بڑھا چڑھا کر پھیلاتی ہے تاکہ لوگوں میں  تفریق رہے

اگر ہم نوع انسانی پر غور کریں، تو رب العزت نے بھی آل ابراہیم کو دنیا کی امامت اور رہنمائی کیلئے چنا۔ اور کئی انبیأ  حضرت ابراہیم کی آل میں پیدا ہوئے

انسانی DNA اور جینز بھی بعض لوگوں کے خون میں انکی بعض صلاحیتوں کو پیدائشی طور پر پروان چڑھاتی ہیں اور خاندانی تربیت، تجربے اور ماحول اور مواقع ان میں نکھار پیدا کردیتے ہیں۔

برصغیر کے بڑے بڑے خاندان موسیقی کے فن کی ترویج کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کے سابق صدر عارف علوی کو ڈینٹسٹری بھی وراثت میں ملی ہے

حنیف برادران، جہانگیر خان برادران ، اور بھولو برادران بھی وراثت ہی سے اپنے کھیل اور فن کو پروان چڑھایا 

سیاسی وراثت کی مخالفت وہ لوگ کرتے ہیں جو شوق تو رکھتے ہیں لیکن مقابلے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں ۔ اور  دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ خاندانی سیاسی وراثت کا رونا محض دو خاندانوں کے متعلق پھیلایا جاتا ہے۔ ان ہی خاندانوں کے متعلق، جنکا خدشہ ہے کہ دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں ، یعنی بھٹو خاندان اور شریف خاندان۔ وگرنہ اور کسی خاندان کے سیاسی ہونے یا سیاست میں آنے کا کوئی خاص ذکر نہیں کیا جاتا۔ حالانکہ پاکستان میں سینکڑوں ایسے خاندان ہیں جو اپنے اپنے کاروبار کے علاوہ سیاست بھی جدی پشتی کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن انکا دائرہ اختیار محض مقامی یا علاقائی سیاست سے ہے۔

خاندانی سیاست کے مخالفت کرنے والوں  کی نیت میں شک اس وقت بالکل واضح ہوجاتا ہے، جب آپ ،ان مخالفت کرنے والوں کو جرنیلوں کی اولاد کے سیاست میں آنے پر مکمل طور پر خاموش پائیں گے۔ انھیں نہ ایوب خان کی اولاد کے سیاست میں دُر آنے، نہ جرنل اختر عبدالرحمن ، نہ جرنل جنرل عمر، نہ جنرل ضیا کی اولادوں کا سیاست کرنا برا لگتا ہے اور نہ ان کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں۔ برائی محض بھٹو اور شریف خاندانوں کی سیاست میں باقی کسی کے متعلق انکا کوئی بیان نہیں ملے گا یعنی ، باقی سب ٹھیکب

جس بات کی مخالفت ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ،اقتدار کے حصول کیلئے، سازش،  دھاندلی، لاقانونیت ، غیر جمہوری حربے اور پیسے کا بے جا استعمال نہ ہو اور لوگ فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں۔ 

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے