نکتہ داں۔۱۷۸
مشترکہ سیاسی اثاثہ
۱۴ جنوری ۲۰۲۶
مئی ۱۸ سنہُ۱۹۷۴ کو، ہندوستان نے “ مسکراتا بدھا” کے عنوان سے اپنا پہلا ایٹمی تجربہ کیا۔ لیکن ذولفقار علی بھٹو ہندوستان کے تجربے سے دوسال قبل ہی (جنوری ۱۹۷۲) ملتان میں سائنسدانوں کے ایک خفیہ اجلاس میں نیوکلئیر پروگرام ، شروع کرنے کا عندیہ دے چکے تھے۔ دراصل یہ پیش رفت ہندوستان کے، پاکستان کے خلاف عزائم کی پیش بندی کے طور پر شروع ہوئی اور دونوں ملکوں میں اسلحہ کی دوڑ نہ صرف اب تک جاری ہے، لیکن ہندوستانی رویے کے پیش نظر نہ جانے کب تک جاری رہے گی۔
آپ نے دیکھا ہوگا، کہ چین جو ہندوستان ہی کی طرح ہمارا پڑوسی ہے، اسکے ایٹمی تجربات، اسلحے، میزائلوں اور جدید جنگی ساز و سامان کی نئی نئی ایجادات پر، پاکستان پریشان ہونے کے بجائے خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ بلکہ فضائی میدان میں تو پاکستان ، چین کے ساتھ مشترکہ طور پر JF 17 تھنڈر طیارے بنا کر فروخت بھی کر رہا ہے۔ کیونکہ چین اور پاکستان اپنی حربی ٹیکنالوجی اور اسلحے کو ایک مشترکہ اثاثہ تصور کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی جنگی صلاحیتوں کو اپنے لئے باعث تقویت سمجھتے ہیں، باعث خوف نہیں۔ جبکہ ہندوستان کے معاملے میں ہمارا رویہ بالکل برعکس ہے۔ وجہ اس کی سادہ سی، یہ ہے کہ ہندوستان نے اپنے رویے سے خود کو پاکستان کا دشمن نمبر ون ثابت کیا ہے اور اسکے رویے میں تبدیلی کے آثار بظاہر ، دور دور تک نظر نہیں آتے۔
اس توجیہ سے یہ اصول واضح کرنا مقصود ہے کہ، مشترکہ دوست، مشترکہ دشمن کے خلاف، اپنے اثاثے، قوت اور صلاحیت کو اپنا ہی سمجھتے ہیں غیر کا نہیں۔ اور مشترکہ دوست کی طاقت سے ڈرنے کے بجائے، اسکی طاقت کو بڑھاوا دینے میں معاون ثابت ہوا کرتے ہیں۔
سیاست کا کھیل بھی یہی سبق سکھاتا ہے۔ کہ پہلے تو اصل دشمن اور اصل دوست کی پہچان کر لیں ۔ اور جب متعین ہوجائے کہ آپ کا اصل دشمن کون ہے تو، اصل دشمن کے دشمن کی مدد کی جائے ناکہ اسکی مخالفت۔
مرحوم محمد خان جونیجو، جمہوریت پر مکمل یقین رکھنے والے، سیاست کے وہ ذہین کھلاڑی تھے، کہ جنھیں نامزد تو ایک فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق نے کیا تھا لیکن، ایک سچے سیاستدان کے ناطے وہ ضیاالحق کو اپناسب سے بڑا سیاسی دشمن تصور کرتے تھے۔ انھیں اس بات کا مکمل ادراک تھا، کہ کسی فوجی ڈکٹیٹر کی اصل طاقت فوج ہوا کرتی ہے، لیکن سیاستدان کی اصل طاقت، اسکی عوامی حمایت ہوا کرتی ہے۔ جتنی زیادہ عوامی حمایت ہوگی اتنا ہی وہ سیاستدان طاقتور ہوگا ۔ اور اہم بات یہ کہ ذہین سیاستدان، اپنے ہم عصر سیاستدان کی عوامی حمایت سے خائف ہونے کے بجائے ، اسے سیاستدانوں کے مشترکہ دشمن (یعنی ڈکٹیٹر) کے خلاف اپنا اثاثہ سمجھتے ہوئے اس کی عوامی حمایت کے اظہار میں معاون ثابت ہوگا مخالف نہیں۔
یہی کچھ مرحوم جونیجو نے بھی کیا تھا۔ اس نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی ہی تقریر میں یہ واضح کیا کہ مارشل لاء اور جمہوریت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس نے مارشل لا اور ایمرجنسی ختم کی اور بےنظیر ، جو اس وقت خود ساختہ جلاوطنی میں تھیں ، کو نہ صرف پاکستان آنے کا اشارہ دیا بلکہ انکی آمد پر مکمل تعاون فراہم کیا۔ یہ اس ہی تعاون کا نتیجہ ہے کہ اپریل ۱۹۸۶ میں لاہور میں بینظیر کا فقیدالمثال استقبال ہوا جسکا ریکارڈ پچھلے ۴۰ سالوں میں کوئی سیاستدان نہیں توڑ سکا ۔ بینظیر کی یہ عوامی حمایت محمد خان جونیجو کی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ دو سیاستدانوں کا جمہوریت کے دشمن ڈکٹیٹر کے خلاف مشترکہ اثاثہ ثابت ہوا۔ بینظیر نے اسکے بعد چاروں صوبوں میں عظیم الشان جلوس نکالے، لیکن کہیں بھی کوئی لاقانونیت یا توڑ پھوڑ نہیں ہوئی۔ بینظیر کے ان اجتماعات کا فائدہ یہ ہوا کہ ملک میں سیاسی گھٹن ختم ہوئی، سیاستدانوں کو اپنی قوت دوبارہ مجتمع کرنے کا موقع ملا اور مقتدرہ کی گرفت کمزور پڑی۔ اگر اس استقبال اور عوامی حمایت کو دیکھ کر بینظیر جلد بازی کرتیں تو جمہوریت کی منزل پھر دور نکل جاتی۔ ایسی سیاسی سوچ ،سطحی قسم کے سیاستدانوں میں نہیں ہوا کرتی ، اس کے لئے بینظیر بھٹو اور محمد خان جونیجو جیسی ذہانت درکار ہوا کرتی ہے، جو کہ آج کل کے پنجاب کے سیاستدانوں میں ناپید نظر آتی ہے۔ذہین سیاستدان ، اپنے ہم عصر سیاستدان کی حمایت کو، (فوجی سیاسی قبضے کی موجودگی میں) اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف اپنا مشترکہ اثاثہ سمجھتے ہوئے، عوامی حمایت کے اظہار میں معاون ثابت ہوگا ، مخالف نہیں۔
خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلٰی سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ پنجاب اور دورہ سندھ میں انکے استقبال اور صوبائی حکومتوں کے رد عمل کو میں اسی ہی پس منظر میں جانچتا ہوں۔
دوسری طرف، ایک سیاست کے طالبعلم کے طور پر، میں تحریک انصاف کی سیاست میں بھی ایک جوہری تبدیلی محسوس کرتا ہوں۔ میرے ہیش نظر ، تحریک انصاف کی، اسلام آباد پر آزادی مارچ کے نام پر (۲۵ مئی ۲۰۲۲ )کی پہلی چڑھائی، ( ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۲ )دوسری چڑھائی بعنوان حقیقی آزادی اور پھر (۲۷ نومبر ۲۰۲۲ )تیسری چڑھائی اور عمران خانُ کی ۹ مئی ۲۰۲۳ کی گرفتاری کے بعد ہنگامہ آرائی، پھر نومبر ۲۰۲۴ کو فائنل کال کے نام پر احتجاج ، میرے سامنے ہے۔ ان تمام کاروائیوں کے سیاسی فوائد کیا حاصل ہوئے ؟
ان واقعات کا تقابل جب میں وزیر اعلٰی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کے حالیہ دوروں سے کرتا ہوں تو مجھے تحریک انصاف کے حالیہ اقدامات، جس میں آئندہ ۸ فروری کی پہیہ جام ہڑتال بھی شامل ہے ، سیاسی طور پر ، زیادہ وزنی محسوس ہوتے ہیں اور اس طرح کی سیاسی ہلچل ملک کے دیگر شہروں میں بھی سیاسی گھٹن کم کرے گی، عوام کو موبلائز کرنے کا موقع ملے گا اور اس طرح کے متواتر اقدامات سے مقتدرہ کے بیک فوٹ پر جانے کے امکانات پیدا ہونگے۔ لیکن اس کے لئے تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے بیانات پر بھی کنٹرول درکار ہے اور سیاسی لوگوں سے شکوہ کرنے کا سلیقہ بھی سیکھنے کی ضرورت۔ کڑوی سے کڑوی حقیقت بھی ایک لطیف انداز میں بیان کی جاسکتی ہے۔ لیکن اس قسم کا لہجہ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کے علاوہ کم ہی نظر آتا ہے۔
پاکستان کی مقتدرہ اور انکے حاشیہ برداروں کے خلاف، تمام سیاسی جماعتوں اور انکی عوامی حمایت کو، میں ایک مشترکہ اثاثہ تصور کرتا ہوں، لیکن اسے مشترکہ اثاثہ سمجھنے، مشترکہ اثاثہ بنانے اور اسے موجودہ ہائبرڈ نظام میں شگاف ڈالنے کیلئے استعمال کرنے کیلئے ، محمد خان جونیجو اور بینظیر بھٹو جیسی ذہین قیادت بھی درکار ہے۔ دعا کریں کہ ایسی قیادت بھی سامنے آجائے۔
خالد قاضی
بہترین اور بروقت تحریر خالد بھائی ماشاء اللّٰہ -جس طرح مارشل لاء کینچلی بدل بدل کر آتا ہے سیاستدانوں کو بھی نئی نئی تراکیب سے کبھی زہر نکالنا پڑے گا کبھی سر کچلنا پڑے گا اور کبھی صرف دفاع لیکن ان سب کے لۓ ون پوائنٹ اتحاد ہونا چاہیۓ جمہوریت کےلۓ
زیادہ تر سیاستدان محض حکومت میں آنے کیلئے، متقتدرہُ کے کاسہ لیس بن جاتے ہیں۔ اسی کا فائدہ ڈکٹیٹر اٹھاتے ہیں