نکتہ داں۔ ۱۸۰
۲۹ جنوری ۲۰۲۶
ہمیں عقل کب آئے گی ؟
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آج سے دو تین دہائیاں قبل، پاکستانی عوام کی غالب اکثریت، محترمہ عاصمہ جہانگیر کا نام سنتے ہی، لعنت ملامت، برے القاب، دشمن کی ایجنٹ کا خطاب، بے راہ روی کو فروغ دینے کے الزامات سے نوازا کرتے تھے۔ لیکن آج کل ہمارا نوجوان طبقہ، عاصمہ جہانگیر کے متعلق سابقہ موقف سے یکسر مختلف، مرحومہ کے بیانات، ٹی وی مزاکروں میں انکے ادا کردہ ارشادات اور تقریروں کی کلپس، سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتا نظر آتا ہے۔ اس مثبت تبدیلی کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ:
ہائے اُس ذود پشیماں کا پشیماں ہونا
مسلسل ریاستی پروپیگنڈے کے اثرات کس قدر نقصان دہ ہوتے ہیں کہ لوگوں میں درست اور غلط کو سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔
محترمہ کے افکار ، نظریات ، انکے نڈر پن اور صاف گوئی کو، انکی زندگی میں تو نہ تصدیق ملی اور نہ توثیق۔ لیکن انکی رحلت کے کئی سال بعد، موجودہ ہائبرڈ نظام کے طفیل، انکی شخصیت کی درست پہچان بھی عام ہوئی اور انکی عزت و وقار میں بھی اضافہ ہوا
لیکن ان ہی کے نقش قدم پر گامزن، ایک اور منہ پھٹ، نڈر اور کسی حد تک غیر محتاط نوجوان لڑکی، ایمان مزاری کو، اسکی زندگی ہی میں، نہ صرف درست پہچان ملی بلکہ وہ نوجوان نسل کیلئے مشعل راہ ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن اس عمل میں ، موجودہ ہائیبرڈ حکومت کو کریڈٹ نہ دینا بھی بہت بڑی نا انصافی ہوگی۔ کیونکہ یہ سب کچھ موجودہ نظام کی خستہ اور کمزور بنیاد، اپنے ناپائیدار ہونے کے خوف اور اپنی جھوٹی انا کے نشے میں رہنے کی وجہ سے ہو پایا ہے۔ اگر ایمان مزاری کے ٹویٹ کو کوئی اہمیت نہ دیکر، در گزر کی پالیسی اپنائی جاتی، تو شاید ۲۵ کروڑ عوام کے اعشاریہ ۰۰۰۰۰۱فیصد کو بھی علم نہ ہوتا کہ کیا ٹویٹ کی گئی ہے، کس نے ٹویٹ کی ہے۔لیکن آج پاکستانی سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، اخبارات کے علاوہ، غیر ممالک کے عدالتی، صحافتی اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیموں اور دنیا بھر کی عوام کی نظروں میں یہ ٹویٹ گردش کر رہی ہے۔ اور اس ٹویٹ پر جو سزا دی گئی ہے اس کی وجہ سے، دنیا بھر کی عدالتی ، صحافتی اور انسانی حقوق پر نظر رکھنے والی تنظیموں
کے مقرر کردہ درجات میں پاکستان کئی درجے نیچے گر گیا ہے۔ دنیا کہہ رہی ہے کہ جس ملک میں کسی کو قتل کرنے کی زیادہ سے زیادہ سزا چودہ سال ہو، وہاں ریاستی اداروں پر تنقید کرنے اور انکے اختیارات اور حرکات پر اعلانیہ سوال اٹھانے اور تنقید پر مبنی ٹویٹ کرنے کی سزا ۱۷ سال قید اور ۳ کروڑ ۶۰ لاکھ کا جرمانہ ہے۔ آمرانہ نظام حکمرانی کو ثابت کرنے کی اس سے بڑی اور کون سی مثال دی جاسکتی ہے۔
بظاہر حکومت تو ن لیگ کی ہے ، لیکن چلمن کے دوسری طرف ( جو صاف نظر بھی آرہے ہیں) کے احکامات کی جس طرح تابعداری کے ساتھ عملداری کی جارہی ہے اسکی بد ترین مثال وزیر اطلاعات جناب عطا تارڑ کے اس فیصلے پر ٹویٹ نے عیاں کردی ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ:
جو بویا وہی کاٹو گے۔ پیکا قانون کا پہلا حتمی فیصلہ ۔ اللّہ سے ڈرنا چاہئے۔
گویا اللٰہ ، جج افضل مجوکہ ہو گئے ہیں (استغفراللٰہ)
اس ٹویٹ کو جناب عطا تارڑ کو زندگی بھر بھگتنا پڑے گا۔ بہتر تھا کہ وہ خاموش رہتے۔
غور طلب بات یہ ہے کہ، ن لیگی قیادت کی ابتدا سے تو ہر کوئی واقف ہے کہ وہ کس طرح ضیا ئی دور اور اس کے بعد کے ادوار میں بھی غیر جمہوری عمل میں مقتدرہ کے ساتھی بنے رہے لیکن سنہ ۲۰۱۰ کے بعد جس سیاسی بلوغت کا مظاہرہ مشرف دور اور اس کے بعد ن لیگ نے کیا وہ جمہوری سوچ رکھنے والے حلقوں کیلئے باعث تقویت تھا۔ لیکن اب وہ عقل ، وہ سمجھ، وہ سیاسی سوچ، وہ دور اندیشی کہاں غائب ہو گئی ہے۔ ن لیگ کے سیاسی اذہان کو کیسا زنگ لگ گیا ہے۔ کیا وہ عمر بھر حکومت میں رہیں گے ؟
میں یہ باتیں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ سیاسی سمجھ بوجھ رکھنے والے اذہان تو دور اندیش ہوتے ہیں لیکن اب ان کو کیا ہوگیا ہے اور وہ کیوں ، FA/FSc پاس دماغوں کو یس سر کہہ کر ہر غیر اخلاقی، غیر سیاسی اور غیر قانونی حکم بجا لا رہے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک کالے قانون PECA کے تحت کیا گیا ہے۔ PECA قانون کو بنانے کا سہرا بھی ن لیگ کے سر جاتا ہے ن لیگ نے ٢٠١٦ میں یہ قانون نافذ کیا۔ پھر ۲۰۲۰ میں عمران خان کی حکومت میں اسے اور سخت کیا گیا۔ لیکن پھر ۲۰۲۴ میں ن لیگ کی حکومت میں شہباز شریف نے اس قانون کو مزید سخت کرکے لمبی سزائیں اور بھاری جرمانہ بھی شامل کرکے، ہر حکومت مخالف آواز کو سلب کرنے کا بندوبست کر دیا۔
ہماری عدلیہ ، جو فیصلے کئی کئی سالوں تک لٹکائے رکھنے کی پہچان رکھتی ہے، نے ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ کے اس کیس کو جس برق رفتاری سے مکمل کیا ، اسے بھی گنس بک آف ایوارڈ میں شامل کیا جانا چاہئے۔ جی ہاں یہ کیس محض چار گھنٹوں کی عدالتی کاروائی میں مکمل کیا گیا اور جج افضل مجوکہ ایوارڈ کے مستحق ہیں محض چار گھنٹوں کی کاروائی میں نہ صرف فیصلے تک پہنچے بلکہ ۲۲ صفحات پر مشتمل فیصلہ بھی جاری کردیا۔ میرے جیسا نا اہل اس کی توجیہہ یہ کرتا ہے کہ ۴ گھنٹے میں نہ صرف کاروائی مکمل کرنا بلکہ ۲۲ صفحات کا فیصلہ لکھ کر جاری کرنا ناممکن ہے، فیصلہ ضرور پہلے سے تیار شدہ ہوگا ۔ لیکن دنیا ضرور جج افضل مجوکہ کی اس قابلیت کو تسلیم کرے گی اور اسکے گھر والے یقیناً ہر محفل اور لوگوں سے ملاقات میں افضل مجوکہ کے نا قابل یقین عمل کو بتا بتا کر ، تا عمر، تحسین وصول کرتے رہیں گے ۔
ایوارڈ تو ہماری پولیس کا بھی حق ہے، کہ کس طرح ایک ہٹے کٹے مرد نے ایک نحیف لڑکی کو ایک ہاتھ سے شلوار پکڑ کر اور دوسرے ہاتھ سے گردن دبوچ کر گاڑی میں پھینکا۔اور اب نیا انکشاف یہ بھی ہے کہ ایمان مزاری حاملہ ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے، کہ ایسے ماحول، ایسے قانون ، ایسی گھٹن، ایسے حبس اور ایسی آمریت میں کیسی قوم پیدا ہوگی، کیا ترقی ہوگی، کیا مکالمہ ہوگا، کیا اختراعات کی جاسکیں گی، کیا سوال کئے جائیں گے، کیا جواب دیئے جائیں گے ؟ یہ ہم اپنے پاکستان کو کیسا ملک بنانے کے درپے ہیں۔
یہ ملک قائد کا تو نہیں ہے ، کیونکہ قائد تو اعلٰی تعلیم یافتہ تھے۔
جب سیاستدان مکمل تابعدار بن کر، FA/FSc پاس لوگوں کے حکم کے مطابق ملک چلانے لگیں گے ، تو توقع بھی یہی کرنی چاہئے جو ہورہا ہے
وما علینا الا البلاغ
خالد قاضی