نکتہ داں-۱۸۲
۶ فروری ۲۰۲۶
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
خرابی کی جڑ ، ہی یہی ہے، کہ ایوب کے زمانہ اقتدار سے لیکر اب تک، بلوچستان کے عوام اور انکی لیڈرشپ کو، پاکستان کی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ نے، “حلقہ یاراں” میں شمار ہی نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ، بلوچستان کے سیاسی، سماجی ، معاشی اور صوبائی حقوق کو پامال کرتے ہوئے، انکے ساتھ، پاکستان کی ایک کالونی کے طور پر سلوک کیا جاتا رہا۔ بلوچستان سے پیار، محض اسکی معدنی دولت تک محدود رہا جبکہ صوبے کے وسائل کو صوبے کے عوام سے دور رکھا گیا۔ سوئی گیس کے ذخائر اور دیگر معدینیات کے ٹرلین ڈالرز، پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد اور دیگر صوبوں پر خرچ کئے جاتے رہے اور اس معدنی دولت کا فائدہ بلوچوں کو نہیں مل سکا۔
طرفہ تماشہ یہ کہ اس نا انصافی پر احتجاج کو بے دردی سے کچلا جاتا رہا ہے۔ بلوچ عوام کے احتجاج، آہ و بکا اور ہڑتال کا جواب، جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشوں اور قید و بند کی سعوبتیں کی شکل میں، بلوچوں کا مقدر بنتی رہیں۔
لیکن ایسا بھی نہیں، کہ کسی دور میں، بلوچ عوام کی اشک شوئی کی نیک نیتی سے، کوشش نہ کی گئی ہو۔ سنہ ۲۰۰۵ میں، بلوچستان کے مسئلے کے حل کی ایک سنجیدہ کوشش، مشرف دور کے، ایک سیاسی وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کے ایما پر، سینیٹر مشاہد حسین نے بہت کامیابی سے کی تھی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے ایک ورکنگ گروپ ، جن میں، ثنااللٰہ بلوچ، اختر مینگل، رضا ربانی، افراسیاب خٹک، اسد عمر، کامران مرتضٰی اور سینئر بیوروکر یٹ طارق کھوسہ شامل تھے، اس مسئلے کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور بلوچوں کی آراء اور مشوروں سے بلوچستان کے مسئلے کے ،سب کے لئے قابل قبول حل کا روڈ میپ ،، ۱۰۵ صفحات پر مشتمل رپورٹ بنا کر دیا تھا۔ لیکن مشرف اور اسکی خاکی بیوروکریسی کی ضد اور نخوت اس حل کو قبول کرنے کیلئے تیار نہ ہوئی۔ وہ اپنی فوجی طاقت کے استعمال کو ہی ہر مسئلے کا حل تصور کرتے تھے۔ اور یہی رویہ آج تک قائم ہے اور اسی ذہن کی عکاسی آج تک جاری و ساری ہے۔
اس رویے کی مثال، جناب عاصم منیر کی غصے میں بھری،تقریر آجکل سوشل میڈیا پر گشت کرتی نظر آتی ہے، جس میں موصوف فرمارہے ہیں کہ یہ ڈیڑھ ہزار دہشتگرد بلوچستان پر قابض نہیں ہو سکتے۔ ان ہی کے راج دلارے محسن نقوی نے فرمایا تھا کہ بلوچستان کا مسئلہ ایک ایس ایچ او سنبھال سکتا ہے۔ جبکہ وزیر اعلٰی بلوچستان سرفراز بگٹی کا لہجہ بھی طاقت کے استعمال ہی کو ہر بات کا حل گردانتا نظر آتا ہے۔
تو کیا میں، دہشتگردی کو جائز قرار دے رہا ہوں ؟ ہر گز نہیں۔ دہشتگردی تو بلوچوں کے جائز حقوق کے موقف کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ لیکن میری دانست میں، ۳۱ جنوری۲۰۲۶کے واقعے کو ٹھنڈے دل اور ٹھنڈے دماغ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
۳۱ جنوری ۲۰۲۶ کو جب بلوچ لبریشن آرمی کے سینکڑوں دہشتگردوں نے، منظم طریقے سے، بلوچستان کے ۸ شہروں، جن میں، کوئٹہ، گوادر، نوشکی، مستونگ،خاران، پسنی اوردالبندین کے ۱۲ مختلف مقامات ، جن میں، سیکیورٹی ادارے، پولیس اسٹیشن، کوسٹ گارڈز ، میری ٹائم ، جیلوں، کمشنر کے دفتر، نادرا آفس اور مزدوروں کی رہائش گائیں شامل ہیں پر بہ یک وقت حملے کئے اور سینکڑوں بے گناہ افراد کو شہید کیا۔ جواباً ہمارے سورماؤں نے بھی تقریباً ڈیڑھ سو دہشتگردوں کو جہنم رسید کرنے کا دعوٰی کیا۔ جہاں تک، دہشتگردوں کی حکمت عملی کا تعلق ہے، تو وہ، حملہ کرکے ٹہرتے نہیں ہیں بلکہ حملہ کرکے فوراً اپنی خفیہ پناہ گاہوں کا رخ کرتے ہیں۔ تو ہماری ایجنسیوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے کون تھے؟ کیونکہ اب تک کسی ایک شخص کی بھی شناخت نہیں ظاہر کی گئی
سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس قدر منظم حملے کی ہماری ایجنسیوں کو ذرا سی بھی بھنک نہ پڑ سکی۔ اس انٹیلیجینس کی ناکامی کا کون ذمہ دار ہے ؟ میں اس انٹیلیجنس کی ناکامی کی وجہ یہ سمجھتا ہوں کہ، انٹیلجنس مہیا کرنے والے عناصر، آبادی ہی میں چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ ہی مختلف پلان یا دہشتگردی کی پیشرفت کی خبر سکیورٹی اداروں تک پہنچاتے ہیں۔ لیکن اب، آپکے جاسوس بھی بلوچ عوام کے ساتھ جاملے ہیں اور انھوں نے آپکو مطلع کرنے کی زحمت گوارا نہ کی اور آپ بے خبر رہے۔ یہ صورتحال ہماری خاکی بیوروکریسی کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہونی چاہئے، لیکن اس خواب غفلت سے باہر آنے کے آثار اب تک دور دور تک نظر نہیں آرہے۔
سمجھنے کی بات یہ ہے، بلوچستان کی آبادی جو تقریباً دو کروڑ پر مشتمل ہے۔ اس میں تقریبا ۶۰ فیصدبلوچ ، ۳۵ فیصد پشتون اور ۱۰ فیصد دیگر قومیتیں شامل ہیں۔ یعنی موجودہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ بلوچستان کے ۱ کروڑ ۲۰ لاکھ بلوچ، اب حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ مل گئے ہیں۔ انکے سامنے، اپنے مسائل کا حل اب صرف آزادی رہ گیا ہے کیونکہ ہماری خاکی بیوروکریسی نے بلوچ مسئلے کے تمام دوسرے ممکنہ دروازے بند کر دئیے ہیں۔ جب ایک کروڑ سے زائد لوگ، زندگی کی پرواہ کئے بغیر، مرنے اور مارنے پر تُل جائیں ، تو معاملات، کو سنبھالنے کیلئے ٹھنڈے دل و دماغ کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ حالات کا صحیح ادراک نہ ہونے کی وجہ سے اعلان کیا جارہا ہے، کہ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کو نہیں بخشا جائے گا۔ محترم جب سہولت کاروں کی تعداد لاکھوں میں ہو، جب ۶۰ اور ۷۰ سالہ خواتین اور بوڑھے ، خودکش حملہ آور بننے کو تیار ہوں، جب تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سینے سے بم باندھ کر جان کی بازی لگانے کو تیار ہوں تو آپکو لمحہ بھر رک کر اپنے لائحۂ عمل پر دوبارہ نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ یہ میں کوئی افسانہ بیان نہیں کر رہا بلکہ حقیقت میں یہ سب کچھ رپورٹ ہوچکا ہے۔
اس معاملے پر میری تشویش کا سبب بین الاقوامی حالات بھی ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں کو آپکے گھر میں دُر آنے کیلئے کوئی چھوٹی سی کھڑکی درکار ہے جبکہ دشمنوں کیلئے، بلوچستان کا دروازہ آپ خود کھول کر دے رہے ہیں۔
دوسری اہم بات یہ، کہ محض انڈیا پر الزام دیکر آپ بری الذمہ نہیں ٹھہرائے جاسکتے ۔یہ بات ۱۰۰ فیصد درست کہُ انڈیا اور اسرائیل اس دہشتگردی کی پشت پر ہیں۔ وہی ان دہشتگردوں کی مالی مدد اور وہی انھیں اسلحہ اور کمیونیکیشن کے جدید ترین اکیوپمنٹ فراہم کر رہے ہیں۔ لیکن کیسے ؟ کیا یہ سب کچھ آسمان سے ٹپک رہا ہے ؟ ظاہری بات ہے یہ سب کچھ اسمگل ہوکر آرہا ہے۔ تو سرحدوں کی نگرانی کس کے ذمے ہے ؟
دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے
نام آئے گا تمھارا ، یہ کہانی پھر سہی
اور ایک سب سے اہم بات یہ بھی ہے، کہ بلوچ عوام آپ سے چاہتے کیا ہیں ؟ یہی ناں کہ انکو اپنے حکمران خود چننے کی اجازت دو، انکی معدنیات کا حصہ انھیں بھی دو، ملکی ترقی ، دوسرے صوبوں کی طرح بلوچستان میں بھی نظر آنی چاہئے اور بیوروکریسی میں انکا بھی حق تسلیم کیا جائے۔
مجھے افسوس ، صدر زرداری کی خاموشی پر بھی ہے اور میں، نوازشریف سے بھی انکے سیاسی قد کے برابر، قدم اٹھانے کی امید کرتا ہوں۔ اگر یہ دونوں لیڈران ، ملکر آگے آئیں تو کوئی جرنل انکے مشترکہ مقام کے آگے ٹھہرنے کی ہمت نہیں کرسکتا۔ ان دونوں کے اتحاد ہی نے، ایک جرنل کو قصر صدارت سے باہر اٹھا پھینکا تھا۔
۱۱ مارچ ۲۰۲۵ کو بلوچستان میں جعفر ایکسپریس کے ہائی جیک ہونے کے بعد ، زرداری اور بلاول نے بلوچستان کا دورہ کرکے متعلقہ سیاستدانوں سے بات چیت کا عمل شروع کیا تھا ، اور پھر عید کے بعد مزید گفتگو کی نوید دی تھی ، لیکن پھر خاموشی چھا گئی۔
اگر اس وقت معاملات ، سیاستدانوں نے اپنے ہاتھ میں نہیں لئے، تو خدا نہ خواستہ دشمنوں کو مزید موقع ملے گا۔ کیونکہ پچھلے ۷۰ سال سے بلوچستان کے معاملات FA/FSc پاس لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور ان ہی کی وجہ سے صورتحال یہاں تک پہنچی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قصر صدارت اسلام آباد میں صدر زرداری اور میاں نوازشریف کی مشترکہ صدارت میں ، بلوچستان کے تمام چیدہ چیدہ لیڈروں بشمول ماہ رنگ بلوچ، کی کانفرنس، بمعہ پاکستانی پارلیمنٹ کی تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت ، بلاکر مشترکہ فیصلے کئے جائیں اور فوجی قیادت کو حکماً ان فیصلوں پر عمل کرنے کا پابند کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور محض بھڑکیں ماری جاتی رہیں ، تو بھڑکیں ہمیں، ۷۰ کی دہائی کی بھی یاد ہیں ۔
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی