NUKTADAAN

‏۱۸۳۔ نوحے

admin
4 Min Read

فروری ۲۰۲۶ /۱۳

نکتہ داں-۱۸۴

۱۳ فروری ۲۰۲۶

بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج

آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی کے کمالات کا مظہر میرے حساب سے آج کا دن ہے۔وجہ اس کی یہ کہ میں، بوسٹن سے سین فرانسسکو کیلئے پرواز کیلئے ائیرپورٹ جارہا ہوں ۔ راستے میں، بنگلہ دیش کے انتخابات کے نتائج کی خبر سوشل میڈیا پر دیکھی۔ بنگلہ دیش کے مستقبل کی سیاسی بساط پر میں، آج سے ۵ مہینے قبل، ایک آرٹیکل لکھ چکا ہوں۔ فورا” وہ آرٹیکل نکالا اور اپنے تجزیئے اور آج کے انتخابی نتائج کو موازنہ کیا۔ یہ سب بوسٹن کے ائیرپورٹ پر ڈپارچر لاؤنج میں ہورہا ہے۔

پچھلے برس، جب طلباء کی سربراہی میں بنگلہ دیش میں، بیگم حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف ہنگاموں کے بعد، حسینہ واجد کو ملک سے فرار ہونا پڑا، اور طلبا قیادت کے مطالبے پر عبوری حکومت تشکیل دی گئی، تو میڈیا پر، جماعت اسلامی کے متعلق یہ تاثر تھا کہ، آئندہ حکومت جماعت اسلامی کی ہوگی۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کی طلبا یونین کے انتخابات کے نتائج نے اس خیال کو مزید تقویت دی۔ حالیہ دنوں میں میڈیا پر جو جائزے آرہے تھے، ان میں بھی بیگم خالدہ ضیا کی BNP اور جماعت اسلامی میں کانٹے کے مقابلے کی امید ظاہر کی جارہی تھی

میرا سیاسی ذہن، اس خیال سے مختلف رائے رکھتا تھا۔ اور میرے ایک بہت ہی عزیز دوست ، جنکا جماعت سے بہت محبت کا تعلق ہے، سے میں نے ، جماعت کی کامیابی کے متعلق، محتاط رد عمل دیا تھا۔

اب جب بنگلہ دیش کے انتخابات کے نتائج آچکے ہیں جس میں ۲۹۹ رکنی ایوان میں BNP کو ۲۱۲ نشتوں کی واضح کامیابی حاصل ہوئی ہے اور جماعت کے حصے میں ۷۷ سیٹیں آئیں ہیں ۔  

میرے ۱۲ ستمبر ۲۰۲۵ ، کے آرٹیکل ، جو آج سے ٹھیک ۵ مہینے قبل لکھا گیا تھا، کچھ یوں تھا:

کیا جماعت اسلامی اپنی موجودہ مقبولیت کو قائم رکھ سکے گی ؟

اس سوال کے جواب تک پہنچنے کیلئے، ہمیں بنگال کے عوام کی ثقافت، معاشرت اور تاریخ کو سمجھنا پڑے گا۔

بنگال کے عوام، کا سیاسی اور سماجی شعور، میرے نقطہ نظر میں، ہم پاکستانیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ تعلیمی طور پر بھی وہ ہم سے آگے ہیں اور ثقافتی طور پر بھی ہم سے کہیں روشن خیال ہیں، جبکہ مذہبی طور پر سیکولر خیالات کے حامل ہیں۔ تاریخی طور پر پاکستان کی جدوجہد ابتدا  بھی بنگال سے ہوئی اور انکا حصہ بھی سب سے زیادہ تھا۔ 

پاکستان کے فوجی  حکمرانوں سے آزادی کی جدوجہد بھی، انکی سیاسی بلوغت ظاہر کرتی ہے۔ اور شیخ حسینہ کے جبر، ظلم  اور استبداد کے خلاف عوام کا اٹھہ، کھڑے ہونا  بھی انکی سیاسی آزادی اور جمہوریت سے انکی کمٹمنٹ کی عکاس ہے۔ یہ سب خصوصیات ہم پاکستانیوں میں خال خال ہی ہیں۔ہمارا زور صرف گھر بیٹھ کر باتیں کرنے پر ہوتا ہے۔ 

اسکے برعکس، جماعت اسلامی، اپنی دینی، ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی تشریح و ترویج ، بنیاد پرستی کے آئینے میں کرتی دکھائی دیتی ہے۔

میرے خیال میں تاریخی طور پر بنگال بنیاد پرستی سے ہمیشہ فاصلے پر نظر آیا ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی قیادت، بنگالی سماج کے ان عوامل سے کس طرح  نبرد آزما ہوتی ہے،  مستقبل کا جواب بھی اسی میں پوشیدہ ہے۔

میرا پورا آرٹیکل پڑھنے کیلئے، سائٹ:

‏۱۴۲۔ بنگلہ دیش کےمستقبل کی تصویر کیا  ہوگی ؟ ☞ https://khalidkazi.com/nuktadaan/143/

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے