نکتہ داں-۱۸۵
۲۴ فروری ۲۰۲۶
امریکہ میں برفانی طوفان پاکستان میں چائے کی پیالی میں طوفان
اس ہفتے، امریکہ کی شمال مشرقی ریاستیں ، شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں ہیں ۔ تقریباً ۴ کروڑ لوگ اس طوفان سے متاثر ہوکر گھر بیٹھنے پر مجبور ہیں اور تقریبا ۵۰۰۰ فلائٹیں منسوخ کی جاچکی ہیں۔ ہمارے اسٹیٹ، میسیچیو سیٹ (جسکا دارلحکومت بوسٹن ہے)، کے گورنر نے، بلاوجہ سڑکوں پر نکلنے پر ۵۰۰ ڈالر جرمانے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ پاکستان میں مصیبت کی گھڑی کو بھی انجوائے کرنے کا موقع جان کر یار لوگ نہ صرف اپنی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ امدادی محکموں کے کام میں رکاوٹ کا سبب بھی بنتے ہیں۔ کراچی کے گل پلازہ میں، فائر بریگیڈ کے دیر سے پہنچنے کی دیگر وجوہات کے علاوہ، عوام کا جم غفیر بھی رکاوٹ کا سبب بنا تھا۔
طوفان کے پیش نظر ہماری مسجد میں بھی تراویح منسوخ کردی گئیں ۔ یہ اعلان اگر پاکستان میں ہوتا تو شاید اسلام خطرے میں آجاتا ۔
آج شام ایک بے تکلف دوست نے فون پر چھیڑتے ہوئے پوچھا کہ قاضی صاحب آپکے سیاسی آرٹیکلز کو بھی شاید سردی لگ گئی ہے، کیونکہ ہفتہ بھر سے خاموشی ہے۔ میں نے انھیں ہنستے ہوئے یاد دلایا کہ رمضان کے مہینے میں ، میں سیاست سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ فرمانے لگے، جناب، دنیا میں بھونچال سا آیا ہوا ہے اور پاکستان میں بھی نئی نئی کہانیاں گردش کر رہی ہیں اور آپ ہیں کہ سیاست سے اعتکاف کئے ہوئے ہیں۔
میں نے کہا، یار ، جسطرح رمضان میں کھانا ممنوع ہے ، میں خود پر سیاست کو بھی ممنوع کر دیتا ہوں۔ کہنے لگے صاحبو، کیا افطار اور سحری سے بھی پرہیز ہے ؟ بھائی سحری اور افطار میں بھی تو کھاتے ہوگے، اس طرح تھوڑی بہت سیاست بھی دیکھ لیا کرو۔ میں نے پوچھا، کہ آپکو پریشانی کیا ہے؟ فرمانے لگے ، یہ ہوئی ناں بات۔ میں اپنی پریشانی بیان کردیتا ہوں ، آپ اس پر اپنا تبصرہ فرما دیں۔ میں نے کہا ارشاد !۔ بولے، بھائی ، میں کیا، پورا عالم ہی پریشان ہے، امریکہ اور ایران کے حالات سے کیا آپ بے خبر ہیں۔ امریکہ نے ایران کے اطراف، اپنے فضائی اور بحری بیڑے بڑھا دیئے ہیں اور دھمکی آمیز اعلانات کی بھر مار ہے۔ اللٰہ رحم فرمائے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں ، کیا امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرے گا اور اسکے نتائج کیا ہونگے۔
میں نے کچھ توقف کے بعد کہا، کہ بھائی، میں اس معاملے کو ٹرمپ کی شخصیت کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے خیال میں، ٹرمپ کی سیاست ، پوکر کے کھیل میں، بلف کرکے اپنے مقابل کھلاڑی سے جیتنے کا داؤ آزمانے کی کوشش ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی ممالک پر یہ داؤ آزما چکا ہے۔ کمزور قیادت داؤ میں آسکتی ہے، لیکن مضبوط اوسان رکھنے والے، اس کے خلاف ڈٹ کر اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتے رہے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ کئی مہینوں سے وہ تمام یورپ، چین اور روس جیسے ممالک پر اپنے ٹیرف لگا کر انھیں اپنی بات منوانے کی کوشش کرتا رہا ہے ۔ کینیڈا کو امریکہ کی ریاست بنانے کے ارادے کو ظاہر کرچکا ہے اور گرین لینڈ کو تو بزور طاقت قبضہ کرنے کا ارادہ ظاہر کرچکا ہے ۔ ان تمام اقدامات کا نتیجہ کیا دیکھا آپ نے ؟ کینیڈا ڈٹ کیا ، گرین لینڈ اور ڈنمارک اَڑ گئے، چین نے جیسے کو تیسا جواب دیا اور یورپی ممالک بھی یک آواز ہوکر، امریکہ کے برخلاف چین کی جانب رغبت دکھا کر ، ناٹو دفاعی معاہدے کے خاتمے کی دھمکی دینے لگے۔
میرے اندازے کے مطابق، ایران نے امریکہ کے تاجر صدر سے کاروباری انداز میں دانہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ جہاں وہ امریکی دھمکیوں کا جواب اپنے جوابی اقدامات سے امریکہ کو آگاہ کرکے اسے سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ کیونکہ امریکہ کے پیش نظر، حملہ کرنے کے بعد، آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا، اسرائیل کو ایرانی میزائلوں سے بچانا اور اپنے بحری بیڑے کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا، شاید اتنا ممکن نہ ہو۔ ایسے میں ناکامی ، امریکہ کیلئے بہت بڑی ہزیمت کا سبب بن سکتی ہے۔ جبکہ ایران تو سب کچھ داؤ پر لگانے کو تیار نظر آتا ہے۔
ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ امریکہ اپنی شرائط منوانا چاہتا ہے، جس میں یورینیم کی افزودگی ختم کرنے اور میزائل پروگرام کو مزید نہ بڑھانے کے مطالبات ہیں، جبکہ ان معاملات پر بات کرنے سے ایران نے اعلاناً انکار کر دیا ہے۔ جواب میں اطلاعات کے مطابق، ایران نے اپنے تیل کے نیٹ ورک کو امریکی کمپنیوں کی مدد سے زیادہ ترقی دینے کی پیشکش کی ہے، یعنی گھوڑے کو گھاس کھانے کی دعوت دی ہے۔ گویا ایران نے امریکہ کے تاجر صدر کو ڈالروں سے رام کرنے کا ڈول ڈالا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اسرائیلی لابی اور ڈالروں کی لالچ میں سے صدر ٹرمپ کیا انتخاب کرتے ہیں ۔میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ حملہ کرنے سے گریز کرے گا۔
اب ، میں نے ان سے گلو خلاصی چاہی لیکن ان کی ضد تھی کہ کچھ پاکستان کی سیاست پر بھی بات ہوجائے۔
جواباً میرا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاست کی تو کئی جہتیں ہیں۔ کن کن پر بات کی جائے، جبکہ روزہ کھلنے میں چند گھنٹے رہتے ہیں۔
فرمانے لگے بس دو موضوع ، زیادہ نہیں، بس دو۔
میں نے کہا فرمائیے۔ بولے پہلا تو عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیے ۔
میں نے کہا کہ اس پر کیا کہا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں تو خوفزدہ حکومت اپنے لئے خود ہی مسائل پیدا کر رہی ہے۔ عمران خان کی سیاست سے سو اختلاف، لیکن دو چیزیں بہرحال پیش نظر رہنی چاہئیں۔ ایک یہ کہ عمران خان کے شیدائیوں کو رجھائے بنا، عاصم منیر، ٹرمپ کیلئے اتنا کار آمد ثابت نہیں ہوسکتا کہ جتنا امریکہ چاہتا ہے۔ امریکہ اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کیلئے کچھ عوامی حمایت بھی چاہتا ہے۔ آپکو یاد دلادوں کہ مشرف دور میں، امریکہ کو بینظیر بھٹو کی ضرورت اس وجہ سے پڑی تھی کہ مشرف عوامی حمایت سے بالکل عاری تھا ۔ بی بی سے معاہدہ پی پی پی کی نہیں، امریکہ اور مشرف کی ضرورت تھی۔ بی بی نے منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح حمایت کی حامی، ایک شرط پر کی تھی، کہ وردی اتاریں۔ وردی اتروانے کے بعد، بی بی نے اور پھر زرداری نے مشرف کا بہت کچھ اتروادیا اور انجام یہ ہوا کہ
بہت بے آبرو ہوکر، تیرے کوچے سے ہم نکلے
محسن نقوی کے ذریعے عمران خان کی مشروط رہائی کی داغ بیل اسی لئے ڈالی گئی تھی(جسکا انکشاف امین گنڈا پور نے اپنی پریس کانفرنس میں کیا) تاکہ عمران خان کو رہا کرکے، عمران کے شیدائیوں کو کچھ ٹھنڈا کیا جاسکے اور عوام میں عاصم منیر کیلئے کچھ نرم گوشے کی گنجائش پیدا ہو۔ لیکن عمران خان نے انکار کر کے امریکہ اور عاصم منیر دونوں کر پریشان کیا ہوا ہے۔ سونے پر سہاگہ حکومتی اقدامات ہیں۔ صحت کے معاملات کے متعلق فوراً فیملی کو مطلع کرنا چاہئے ورنہ:
دلوں کی رنجشیں بڑھتی رہیں گی، اگر کچھ مشورے باہم نہ ہونگے
میں نے ان سے کہا کہ بھائی اور کیا ہے آپکی پٹاری میں ، بولے ہے تو بہت کچھ لیکن حسب وعدہ بس ایک اور سوال۔ وہ یہ کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے جنوبی پنجاب کا دورہ کیا ہے۔ اس سے پہلے ، خبروں کے مطابق، وہ وزیر اعظم بمعہ انکے معاونین اور محسن نقوی کے ، قصر صدارت بلواکر کان مروڑ چکے ہیں ۔ پھر جنوبی پنجاب میں انکا نشانہ عمران خان رہا ۔ ان تمام واقعات کی وجہ سے چہ مینگوئیوں کا طوفان ہے کہ تھم نہیں رہا۔ کیا الیکشن ہونے جارہے ہیں۔ یہ کیا معاملات ہیں۔
میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ:
جھپٹنا پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا، لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
بولے کیا مطلب، ہے آپکا۔
میں نے کہا کہ زرداری صاحب ایک pragmatic عملیت پسند سیاستدان ہیں، وہ اپنے منصوبوں اور خواہشوں کی تکمیل کا محض مقتدرہ کے وعدوں اور وعیدوں پر انحصار نہیں کرتے بلکہ، اپنی سیاسی سعی بھی جاری رکھتے ہیں۔ انکا ن لیگ سے موجودہ سیاسی معاہدہ ایک وقت کی ضرورت تھی۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انتخابات کے بعد، انکی پہلی خواہش PTI کے ساتھ حکومت بنانے کی تھی، لیکن سیاست سے پیدل پی ٹی آئی والوں نے، زرداری صاحب کے خاموش رابطوں کو اعلاناً نہ صرف رد کیا بلکہ بدتمیزی بھی کی۔ مجبوراً انھیں ن لیگ سے معاہدہ کرنا پڑا کیوں کہ سیاسی خلا ، مقتدرہ کے حق میں ہوتا ہے۔
ن لیگ سے نکاح مجبوری کی شادی ہے، لیکن اس رشتے کو اگلے الیکشن تک نباہنا بھی ضروری ہے۔ اگر یہ بندھن وقت سے پہلے ٹوٹ گیا تو پھر نیا سیٹ اپ مکمل طور پر مقتدرہ کے ہاتھوں میں ہوگا۔
زرداری صاحب، بلاول کو وزیراعظم اس وقت تک نہیں دیکھ سکتے جب تک ، وہ پنجاب میں بھی پیپلز پارٹی کیلئے کم از کم ۳۵ سے ۴۰ نشستوں کو جیت سکیں۔ اس لئے چونکہ جنوبی پنجاب پہلے بھی پی پی پی کا گڑھ تھا اس لئے اسے دوبارہ حاصل کرنے کی داغ بیل ڈالنا ضروری تھا۔ اسکی ابتدا شاید جہانگیر ترین سے ہو۔ جی ہاں جہانگیر ترین اب پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے ( میرے خیال میں )
اب چونکہ جنوبی پنجاب جاکر، ن لیگ کو اعلانیہ برا بھلا تو نہیں کہا جاسکتا کیونکہ شریک اقتدار ہیں، اس لئے نشانہ تحریک انصاف اور عمران خان ہی نے ہونا ہے۔ تو یہ دورہ اور بیانات اسی منصوبے پر عمل کرنے کی ابتدا سمجھئے۔ باقی کچھ نہیں
خالد قاضی