نکتہ چیں – ۲۱
۳۰ اپریل ۲۰۲۴
ہر زمانے میں ایک واوڈا ہوتا ہے
ہم نیوز کے اینکر ،منصور علی خان ایک نوجوان صحافی ہیں اور اپنے چبھتے جملوں ، تیکھے سوالوں اور اندر کی خبروں کی وجہ سے نہ صرف اپنا مقام رکھتے ہیں بلکہ انکے بلاگ کے لاکھوں ناظرین ، اگلے پروگرام کے منتظر رہتے ہیں
حال ہی میں انھوں نے PPP کے سابقہ سینٹر مولابخش چانڈیو سے انٹرویو لیتے ہوئے سوال کیا، کہ اگر ذولفقار علی بھٹو شہید زندہ ہوتے، تو کیا فیصل واوڈا سینٹر منتخب ہوسکتا تھا
چانڈیو صاحب نے تو اس کا جواب نفی میں دیا۔
میرے ایک محترم دوست نے اس پروگرام کا کلپ مجھے فارورڈ کرکے طنزیہ انداز میں، مجھ سے بھی یہی سوال دہرایا۔
میں نے انھیں بصد احترام جواب دیا، کہ یہ سوال منصور علی خان اور آپکی ، سطحی سوچ کی ترجمانی کرتا ہے
ہر زمانے کا ایک واوڈا ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ازل سے چل رہا ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ اسی سلسلے کو روکنے کیلئے، ہزاروں انقلابی مختلف اشکال میں آئے، لیکن مختلف الخیال افراد اپنے اپنے افکار ، عادات اور اطوار کے مطابق ہر دور میں اپنے اپنے رنگ میں، اپنی اپنی پہچان کروا کر ، زمانے کے حالات پر مثبت یا منفی تبدیلی کے محرک رہے ہیں
بھٹو صاحب، گو ایک زمانہ ساز شخصیت تھے لیکن انکا زمانہ بھی واوڈاؤں سے خالی نہ تھا۔انکے زمانے کے واوڈا، پیر پگاڑا، چودھری ظہور الٰہی، میاں طفیل کی شکل میں اپنے “مخصوص” کام میں منہمک پائے گئے ہیں۔
سوال یہ نہیں ہے کہ واوڈا قسم کے لوگ کیوں ہوا کرتے ہیں ۔ بلکہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ واوڈاں کی قسم کے لوگوں کی سیاسی موت انکی زندگی ہی میں ہوجایا کرتی ہے لیکن ان کے برخلاف، اصول پسند لوگ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں
اب حال ہی کی ایک اور شخصیت پر غور کریں۔ یعنی شیخ رشید۔ یہ بھی اپنی مثال آپ ہیں، لیکن انکا سیاسی قد بنا کسی بیساکھی کے، کبھی طویل نہ ہو سکا اور نہ ہو سکے گا۔
فیصل واوڈا بھی ، کتنی ہی لفاظی ، کتنی ہی چرب زبانی اور کتنی ہی لن ترانی کرلے، یہ اپنے تئیں کوئی الیکشن جیتنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے اور نہ کوئی مقام پا سکتا ہے۔ ایسے لوگ محض سیاسی دلالی سے روزگار کماتے ہیں وگرنہ حقیقی عزت انکے در سے ہمیشہ نا آشنا رہتی ہے۔
شیخ رشید بھی ہمیشہ دوڑتی بس کا سوار رہا ہے۔ یہ کبھی آپکو ضیا کی بس کے مزے لوٹتے، کبھی نوازشریف کی گود میں پھدکتے ، کبھی مشرف کے پیروں میں لیٹتے اور پچھلے دور میں عمران خان کی چپلیں سیدھی کرتے دیکھا گیا ہے۔
اسکی اپنی حیثیت خالی تانگے کی سواری کی طرح نظر آتی ہے۔ اسنے ساری عمر اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹ کے طور پر گزاری ہے اور اپنے اس عمل پر اسنے کبھی کسی شرمندگی کا اظہار بھی نہیں کیا۔ لیکن اسکی اس نوکری کے بدلے، آجکل تو جرنیلوں نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا ہے جسکا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔
ایسے لوگوں کو مشہور لوک فنکار طفیل نیازی کے بول یاد رکھنے چاہئیں کہ:
لائی بے قدراں نال یاری ، تے ٹٹ گئی تڑک کرکے
خالد قاضی