نکتہ چیں-۲۲
۳۰ اپریل ۲۰۲۴
نوواں آیاں اے سونیوں
میں لکھ چکا ہوں کہ، اسحٰق ڈار کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے، نائب وزیر اعظم مقرر ہونا، نواز شریف کی سیاسی بساط کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس سے پہلے وہ شہباز شریف کو، مسلم لیگ کی صدارت سے فارغ کرکے، خود اس عہدے پر متمکن ہو چکے ہیں۔
آج اسی سمت میں مزید پیشرفت دیکھنے کو ملی ہے۔
آج مزید دو اہم فیصلوں کا اعلان کیا گیا، (جو میری دانست میں)،مستقبل کے قانونی اور سیاسی محاذ مضبوط کرنے کیلئے ضروری تصور کئے جارہے تھے۔
سینئر ایڈوکیٹ عرفان قادر، ، ملک میں آئینی اور قانونی بالادستی کے میدان میں، سیاسی قوتوں کے حامی و مددگار شمار کئے جاتے ہیں، انکا تقرر وزیر اعظم کے قانونی کنسلٹینٹ کے طور پر کیا گیا ہے
دوسری اہم تعیناتی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور کی ہے۔ رانا ثنااللٰہ، (جنکی پہچان، اینٹی اسٹیبلشمنٹ کھیل میں ایک فارورڈ کھلاڑی کی ہے)کو وزیراعظم کا مشیر برائے سیاسی و عوامی امور مقرر کیا جانا ، دراصل شہباز شریف کے سیاسی اور عوامی فیصلوں پر ایک حفاظتی باڑھ لگادینے کے مترادف تصور کی جائے گی۔
گویا نوازشریف نے عاصم منیر کو پیغام بھیجا ہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں ، اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
میرے بیٹے نے میرے اس خیال کی کچھ وضاحت چاہی۔
میں نے اسے سمجھایا، کہ جرنیلوں کے ہاتھ اب مارشل لاؤں کے زمانے کے موافق لامحدود نہیں رہے، وہ اپنی سی ضرور کرتے ہیں لیکن وہ بنا کسی سیاسی و عدالتی مدد کے بالکل خود مختار فیصلے نہیں کرسکتے۔ اور عدالت و سیاست کے میدان میں انکے وسیلے و رابطے محدود ہوتے جارہے ہیں۔ جرنلوں کا وقت مارشل لاؤں کے وقت کی طرح لاحدود نہیں ہوتا۔ انکی تعیناتی 3 سال کی ہوتی ہے اور وہ چکر بازی ، بد معاشی، دہشت اور زبردستی سے ایک ایکسٹیشن تو شاید لے لیتے ہیں لیکن دوسری مرتبہ انکے ادارے سے ہی اندر سے مخالفت شروع ہوجاتی ہے، کیونکہ آرمی چیف بننے کے حق سے محروم رہ جانے والے سینئر جرنیل، اپنے ہی چیف کے خلاف سازشیں کرنے لگتے ہیں۔ نوازشریف اس تمام معاملے سے اچھی طرح نہ صرف باخبر ہے بلکہ بھگت چکا ہے، اسی لئے ، موجودہ تمام پیش رفت دراصل ، نوازشریف کا عاصم منیر کو، مولا جٹ میں مصطفٰی قریشی کا مشہور ڈائیلاگ محسوس ہوتا ہے، گویا نواز شریف عاصم منیر سے کہہ رہے ہیں کہ:
نواں آیاں اے سوہنیا
خالد قاضی