نکتہ داں-۳۲
۳۰ مئی۲۰۲۴
بینظیر انکم سپورٹ
انھوں نے مجھے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا “قاضی صاحب آپ پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں، لکھنے سے بھی شغف رکھتے ہیں لیکن اس بات پر کیوں نہیں لکھتے کہ اس قوم کو بھکاری بنایا جارہا ہے؟”
میں نے کہا بی بی ، بھکاری تو حکومت ہے قوم کہاں سے بھکاری بن گئی ؟
مجھے گھورتے ہوئے بولیں ، حکومت ہی تو قوم کو بھکاری بنا رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ لوگوں میں کام کا جذبہ پیدا کیا جائے ، محنت کرنے کی تاکید کی جائے، ناں کہ ہاتھ پھیلانے کی سہولت مہیا کی جائے۔
میں نے ہار مانتے ہوئے کہا، کہ آپ میرے متعلق خوش فہمی کا شکار ہیں، میں اتنا عقل مند نہیں جتنا آپ سمجھ رہی ہیں، کیونکہ میں آپ کی بات بالکل سمجھ نہیں پایا۔
فرمانے لگیں، سبحان اللٰہ، قوم کو مفت خوری کی لت لگائی جارہی ہے اور آپ سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں۔
میں نے عاجز آکر سوال کیا کہ آپ کہنا کیا چاہتی ہیں کھل کر بولیں پہیلیاں نہ بُھجوائیں
بولیں بے نظیر انکم سپورٹ کے متعلق آپکا کیا خیال ہے ؟ کیا اس پروگرام سے پاکستان ترقی کرے گا؟
اب میں محترمہ کا ھدف سمجھ پایا اور اس اچانک حملے سے اپنے حواس مجتمع کرکے ان سے پوچھا، کہ کیا آپ کو پاکستان کی کل آبادی کا پتہ ہے کہ کتنی ہے۔ فرمانے لگیں 25 کروڑ کو پہنچ رہے ہیں ہم لوگ۔
تو پھر میں پوچھ بیٹھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ سے کتنے لوگ مستفید ہورہے ہیں۔ اس پر محترمہ نے لا علم ہونے کا اقرار کیا۔ میں نے فوراً گوگل کرکے بتایا کہ تقریباً
77لاکھ
میں نے حساب لگا کر محترمہ سے عرض کی کہ یہ تقریبا” 3 فیصد بنتے ہیں
اور جنھیں یہ امداد دی جاتی ہے ان میں “مرد” ایک بھی نہیں، سب بوڑھی خواتین یا کچھ تیسری جنس کے لوگ ہیں
میں نے محترمہ کے علم میں ایک اور اضافہ یہ کیا، کہ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔
گویا 40 فیصد غربا میں سے محض 3 فیصد عورتوں کی امداد۔ پھر میرا اگلا سوال یہ تھا کہ یہ امداد ہے کتنی ؟ اس پر بھی محترمہ خاموش رہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ ہر تیسرے مہینے 7000 روپئے کی امداد یعنی 2333 روپئے ماہانہ۔اب میرا سوال تھا کہ( 2333 روپئے کا مطلب تقریبا” 77 روپئے یومیہ)
کیا ملتا ہے 77 روپئے کی رقم میں ؟
میں نے ان سے کہا کہ میں عقل مند ہوں یا نہ ہوں لیکن آپ ایک اچھی مسلمان ضرور ہیں۔ کیا آپ میرے علم میں اضافے کیلئے فرمائیں گی کہ قرآن میں ، حدیث میں غریبوں ، لاچاروں کی مدد کی تاکید، کس قدر ہے، ہے بھی یا نہ نہیں۔ اب محترمہ جواب دینے کے بجائے خلا میں گھورنے لگیں
انھوں نے قدر توقف کے بعد کہا کہ واقعی اس طرح میں نے کبھی نہیں سوچا تھا !
میں نے ان سے کہا کہ اس میں آپ کا قصور نہیں ہے۔ انھیں عمران ریاض (PTI کے صحافی) کا جملہ سنایا جو حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر بہت مشہور ہوا ہے کہ “ خود ہی بلا بلا کر جھوٹی فائلیں دکھاتے تھے کہ یہ چور ہیں یہ چور ہیں اور اب جب ہم نے تمھارے کہنے پر یقین کرلیا تو اب دوسری کہانی سنا رہے ہو !
میں نے انھیں سمجھایا کہ متواتر اور مسلسل منفی پروپیگنڈے نے ہمیں درست تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے محروم کردیا ہے۔ پوری قوم “محض نفرت” یا “محض محبت” میں مبتلا ہو چکی ہے
ہم پہلے ذہن بنا لیتے ہیں اور پھر اس کے بعد اپنے پہلے سے طے شدہ نتیجے پر پہنچنے کیلئے تاویلیں ڈھونڈتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ حالات کا تجزیہ، اپنے سیاسی تعصبات سے نکل کر کیا جائے، اگر ایسا نہ ہوا تو سو انتخابات بھی پاکستان میں سیاسی استحکام کی ضمانت نہیں دے سکتے
میرا ان سے کہنا یہ بھی تھا کہ یہ پروگرام شروع تو کئی سال پہلے ہواتھا ، اور بے نظیر کے بعد نوازشریف اور عمران خان بھی نام بدل کر نہ صرف اس پروگرام کو جاری رکھا بلکہ اس امداد کو مزید لوگوں تک پھیلایا کیونکہ بے نظیر نے ابتدا تقریبا 54 لاکھ خواتین سے کی تھی لیکن اب مستفید ہونے والوں کی تعداد 77 لاکھ ہے
خالد قاضی