NUKTADAAN

Reading: ‏۳۵۔ رہائی ہدف نہیں ہے
Reading: ‏۳۵۔ رہائی ہدف نہیں ہے

‏۳۵۔ رہائی ہدف نہیں ہے

admin
7 Min Read

نکتہ داں -۳۵

۲۷ جون ۲۰۲۴

رہائی ہدف نہیں ہے

شکوہ بجا تھا، اور کوتاہی میری بھی تھی۔ ہوا یوں کہ کل، PTI کے ایک شدید مداح عزیز دوست نے پاکستان سے فون کر کے تقریباً ڈانٹتے ہوئے پوچھا کہ آپ کہاں غائب ہیں۔

میں نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ سر ، عید تو تھی ہی، لیکن مصروفیت کی وجہ پاکستان سے آئی ہوئی میری بھتیجی بھی تھی۔ اسکی خاطر ، ۳ ہفتے اس طرح گزرے کہ وقت کا احساس ہی نہیں ہوا۔

کہنے لگے چھوڑو صفائیاں، مجھے یہ بتاؤ کہ امریکی ایوان نمائندگان نے  پاکستان کے الیکشن میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات ، پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی ضرورت اور پاکستان میں انسانی حقوق کے متعلق قرارداد 368 ووٹوں سے منظور کی ہے جبکہ مخالفت میں محض 7 ووٹ پڑے۔ اس پر تمھارے تبصرے کا انتظار تھا، لیکن تم ہو کہ پردے سے بالکل غائب ہو۔

میں نے ہاتھ جوڑ کر معافی طلب کرتے ہوئے کہا کہ محترم اس معاملے کو سمجھنے کے ، کئی پہلو ہیں، لیکن اسکے لئے آپکی “خاموش توجہ” درکار ہوگی

کہنے لگے اب مخنچو نہ بنو بات کرو۔

میں نےعرض کی کہ

۱: اوّل یہ کہ میں اس قرارداد کی مکمل حمایت کرتا ہوں، کیونکہ اب وقت آگیا ہے کہ جرنیلوں کو لگام دی جائے اور انھیں سیاست اور الیکشن سے کھلواڑ کرنے سے محض ٹوکا نہیں بلکہ بھرپور طریقے سے روکا بھی جائے۔

اگر الیکشن سے کھلواڑ کی تحقیقات ہوجاتی ہے (گو اسکا عملاً کوئی امکان نہیں ہے) اور ذمہ داروں کا تعین ہوجاتا ہے تو پاکستان میں آئندہ کے لئے دھاندلی کے دروازے بند کئے جاسکتے ہیں

۲- اس قرارداد کو پیش کرنے اور اس کو اتنی بڑی حمایت سے منظور کروانے کی وجہ حماس اور اسرائیل جنگ  میں امریکی کردار پر پاکستانی امریکیوں کے بائیڈن کے خلاف  رد عمل سے بچنے اور اس سال منعقد ہونے والے امریکی الیکشن میں پاکستانی امریکی ووٹ کو محفوظ کرنا ہے۔

میری بات کاٹتے ہوئے بولے کہاں پاکستانی الیکشن اور کہاں غزہ کی جنگ۔

میں نے انھیں یاد دلایا کہ میں نے “خاموش توجہ” چاہی تھی، مداخلت نہیں

انھیں سمجھاتے ہوئے کہا، کہ امریکہ میں مقیم مسلم اور  پاکستانی امریکن کمیونٹی نے بائیڈن کو جتوانے میں بڑا کردار ادا کیا تھا اور بائیڈن  کئی سٹیٹ میں ، بہت خفیف برتری سے کامیاب ہوکر قصر صدارت تک پہنچا تھا۔ اب غزہ کی جنگ میں بائیڈن کی بھرپور حمایت کی وجہ سے امریکی پاکبانوں نے اعلاناً فیصلہ کیا تھا کہ آئندہ الیکشن میں کسی طور بائیڈن کو ووٹ نہیں دینگے۔ وہ گزشتہ رمضان میں وائٹ ہاؤس کے افطار ڈنر میں بھی شریک نہیں ہوئے جسکی وجہ سے افطار ڈنر ہی منسوخ کردیا گیا۔

ڈیموکریٹس اس پیش رفت سے پریشان تھے

اور پاکبانوں کا دل اور ووٹ جیتنے کے جتن کے طور پر یہ قرارداد پیش کی گئی۔ ریپبلیکن پارٹی  نے بھی اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کیلئے اس قراداد کو منظور کرنے کا ووٹ دیا۔

۳- اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی پاکبانوں کی اکثریت عمران خان کی حامی ہے، لہٰذا یہ قرارداد انکا دل لبھانے کیلئے ہی ہے کیونکہ امریکی الیکشن نومبر میں ہیں

۴- اس قرارداد کی کوئی قانونی حیثیت نہیں امریکی فیصلے بہت سوچ سمجھ کر کئے جاتے ہیں اور  بقول شاعر

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

اگر اس قرارداد میں امریکی نیت بھی شامل ہوتی تو IMF سے معاملات اسقدر تیزی سے مکمل نہ ہوتے، بلکہ IMF کچھ لیت و لعل کا مظاہرہ ضرور کرتا۔

میں نے انھیں سمجھاتے ہوئے کہا کہ امریکی انتظامیہ اپنے ملکی مفادات، پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور حکومتی ذمہ داروں سے بات کرکے حاصل کرتی ہے اپوزیشن جماعتوں سے نہیں

میں نے ان سے کہا کہ میرے محترم آپ یا PTI کے دوست یہ حقیقت کیوں سمجھ نہیں پا رہے، کہ یہ سیاسی جنگ پاکستان کی ہے اور وہاں کے کھلاڑیوں سے ہی جیتنی ہے۔

اگر آپ کے سامنے کئی دشمن ہوں تو آپکی پلاننگ اور رویہ یہ ہونا چاہئے کہ آپکے سارے  دشمن اکھٹے ہو کر آپ سے نہ لڑ پائیں بلکہ آپس میں دست و گریبان ہوں تاکہ آپ کو جنگ جیتنے میں آسانی ہو۔ لیکن، PTI کے سیاسی فیصلے اور رویے اس کے تینوں اہم دشمنوں یعنی جرنیل، PPP اور PML N  کو اکھٹا رہنے پر مجبور کئے ہوئے ہیں۔ یہ رویہ میری سمجھ سے تو باہر ہے

اب اس واقعے ہی پر غور کریں کہ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں، PTI رہنما علی محمد خان کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کاموقع دیا گیا۔ انھوں نے ایک سچے اور شائستہ سیاسی کارکن کی طرح پاکستان کے سیاسی معاملات کے بگڑنے کی وجہ پر بات کی اور ان معاملات کو حل کرنے کے عمل کو مذاکرات کے ذریعے شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔ جواباً شہباز شریف نے بھی بطور وزیر اعظم اور لیڈر آف دی ہاؤس کے اسی جذبے سے پچھلے ادوار میں سیاسی لیڈروں پر تشدد اور سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے جبر کی بات کرتے ہوئے، مل کر حالات کو بہتر کرنے کیلئے مذاکرات کی دعوت دی۔ یہ کسی بھی سیاسی سوچ رکھنے والے کیلئے سنہری موقع تھا کہ اس سے فائدہ اٹھاکر فوراً ایک مذاکراتی کمیٹی بنائی جاتی جس سے عمران خان کی رہائی کا بھی موقع ملتا اور اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی معاملات پر گرفت بھی ڈھیلی کی جاسکتی تھی۔ لیکن ، لیڈر آف دی اپوزیشن عمر ایوب نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ہتک آمیز رویہ اپنا کر بات کرنے سے انکار کردیا۔

اس رویے سے تو مجھ جیسا سیاسی طالبعلم یہی بات اخذ کرے گا کہ عمران خان کو اندر رکھنے میں جرنیل اور حکومتی اتحاد کے معاونین PTI کی صفوں میں بھی ہیں

واللٰہ عالم

خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے