نکتہ داں- ۳۶
۴ جولائی ۲۰۲۴
خلقت شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
مجھے لگتا ہے کہ سوشل میڈیا اور ٹیلی وژن میڈیا کے درمیان ایک سرد جنگ کی ابتدا ہوچکی ہے، اور اس جنگ کا ھدف عوام الناس کو اپنی طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کرنا ہے۔
سوشل میڈیا تو شتر بے مہار کی طرح ہر لمحے، کوئی نہ کوئی جھوٹی، یا سچی خبر لیکر ،اس پر اپنے اپنے انداز میں طبع آزمائی جاری رکھتا ہے۔ اور اس عمل میں ، تمام آداب، الفاظ ، مبالغہ آرائی اور لہجے میں مادر پدر آزاد ہوچکا ہے۔ اور سوشل میڈیا کی ،لفظی نمک و مرچ سے مزین مختلف پوسٹیں لوگوں کی، سیاسی، سماجی، طبقاتی ، لسانی، علاقائی ، مذہبی اور علمی تعصب کو پروان چڑھانے اور اس میں مزید اضافہ کرنے میں مستعد و معاون ہوکر پوری قوم کو ایک ہیجان میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔
سیاسی انتشار ، بے یقینی اور ہمہ وقت سنسنی پھیلائے رہنے کا عمل ، وہ یو ٹیوبر بھی ادا کر رہے ہیں کہ جو اپنے اپنے یو ٹیوب چیلنوں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے اور اپنے فالوئرز کی تعداد بڑھانے کے لئے ہر بات میں سنسنی، ہیجان، جھوٹی امیدیں، مبالغہ آمیز نتائج اور چائے کی پیالی میں طوفان بپا کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں مشغول رہتے ہیں
میرے ایک دوست نے چند یورپ میں مقیم یوٹیوبرز کے سنسنی خیز ی سے پُر، پوسٹیں بھیجیں۔ میں نے انُ سے پوچھا کہ ایمانداری سے بتاؤ کہ ان لوگوں کے پروگرام تم کب سے دیکھ رہے ہو۔ کہنے لگے یہ عمران کے شہسوار ہیں اور یہ جذبات گرم رکھتے ہیں، انھیں میں پچھلے چند سالوں سے فالو کر رہا ہوں
میں نے کہا، کہ جذبات ضرور گرم رکھیں لیکن جھوٹ اور مبالغے کی کثرت شدت جذبات میں مسلسل اضافہ ، آپکو ذہنی طور پر ناکارہ اور بیمار کر دیتا ہے۔ وہ تو اپنے ڈالر بنا رہا ہے، اور آپ جو اسکے پروگرام دیکھ کر ہر وقت آپے سے باہر رہتے ہیں اسکا اثر اور کسی پر ہو نہ ہو لیکن آپ کی اپنی صحت ضرور متاثر کر رہا ہے
میں نے ان سے پوچھا کہ ان حضرات یوٹیوبیوں کی سنسنی خیز پیشینگوئیوں کا کوئی حساب رکھا ہے آپ نے؟ اور آپ مجھے کچھ بتا سکتے ہیں کہ اس یوٹیوبر کی کوئی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہے
یہ بات سن کر وہ کچھ سوچ میں پڑ گئے، کیونکہ ان کی یاد داشت جواب دے گئی تھی
ان سے میرا مشورہ یہ تھا کہ آپ ان یوٹیوبرز کی پیشین گوئیوں کا ریکارڈ رکھیں کہ چند دنوں میں یہ ہوجائے گا اور یوں ہونے والا ہے، پھر مجھے بھی مطلع کریں اگر انکی کوئی پیشین گوئی درست ثابت ہوئی ہو تو !
بالکل اسی انداز میں کچھ ٹی وی چینل بھی عوام کو اپنی طرف مبذول کرنے کیلئے ، ایسے پروگرام پیش کر رہے ہیں جس سے علم کم مگر چسکہ بازی زیادہ مل رہی ہے تاکہ انکے چینل اور پروگرام کے چرچے ہوں
یہی کچھ چند دن پہلے سما ٹی وی پر ہوا، کہ جس میں ایک یوٹیوبر عالم ساحل عدیم اور شہرت کے نشے میں مسرور ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر نے اپنے اندر میں چھپے اصل انسان کو سب کے سامنے عیاں کردیا۔
اس سارے تماشے کا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ ہماری قوم میں علمی گفتگو اور مقصدی سوچ ناپید ہوتی جارہی ہے۔ ہم محض سطحی گفتگو کرکے، اور اپنے اطراف میں ہونے والے واقعات کا ردعمل جذبات کی رو میں بہہ کر دیتے ہیں جبکہ حالات کا تقاضہ یہ ہے کہ اب کچھ ٹھہراؤ آنا چاہئے۔ محض بھڑاس نکالنے اور بس دوسروں کو نیچا دکھانے، نشانہ بنانے اور تحقیر کرنے کے بجائے، کچھ اپنے ، کچھ اپنے محبوب زعما کے اطوار ،انکی بات اور عمل کے فرق پر بھی نظر ڈال لینی چاہئے
بقول احمد فراز
شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع، جلاتے جاتے
خالد قاضی