کتہ داں-۳۸
۸ جولائی ۲۰۲۴
مجھے خوف آتش گل سے ہے، کہ کہیں چمن کو جلا نہ دے
یقیناً کام تو سرحدوں کی حفاظت ہی ہے، لیکن ۔۔۔،کارکردگی کا عکس تو گدلے پانی جیسا ہے!!!
سقوط ڈھاکہ کو روؤں ، گلگت کے گاؤوں کا ماتم کروں، سیاچن پر بین کروں یا کارگل کا ذکر کرکے سر پیٹ لوں ؟
لڑنا تو بیرونی دشمنوں سے تھا، لیکن ڈالروں کی حرص اور طاقت کی ہوس نے ،ایسے ایسے کام کروائے کہ سرحدوں کے دشمنوں سے صرف نظر کرتے ہوئے، ملک کے اندر ہی کئی دشمن پیدا کرلئے اور اب حال یہ ہے کہ پچھلی ربع صدی سے انہی اندرونی دشمنوں سے زور آزمائی جاری ہے ۔ اور دشمن ہیں کہ ہر دفعہ قابو سے باہر ہوئے جاتے ہیں۔
اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو اپنی یادداشت پر زور دیں ۔
اندر کے اپنے بنائے اور پال پوس کر جوان کئے گئے دشمنوں کے خلاف پہلا آپریشن مشرف نے TPP کے خلاف ۲۰۰۷ میں بنام آپریشن “راہ حق” شروع کیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب طالبان پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں دندناتے پھرتے تھے
اس آفت سے نمٹے تو ملا فضل اللٰہ سوات میں علی لاعلان اپنی حکومتی قائم کر بیٹھا تھا۔۲۰۰۹ میں جرنل اشفاق کیانی کی زیر قیادت، آپریشن “راہ راست” کے ذریعے اُسے راستے سے ہٹایا گیا۔
۲۰۰۹ ہی میں جنوبی وزیرستان میں پیدا ہوئی شورش کو کنٹرول کرنے کیلئے آپریشن “راہ نجات “ کرنا پڑا۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس ہی نکلا۔ گویا بقول شاعر
مرض بڑھتا گیا، جوں جوں دوا کی
پاکستان کا پورا شمالی علاقہ طالبان کے قبضے میں آچکا تھا اور ملک کی سرحدوں کے رکھوالے، خود، ملکی سرحدوں کے اندر غیر محفوظ ہوچکے تھے۔ آئے دن افواج پاکستان پر خودکش حملے جاری تھے اور کوئی ایسا دن نہیں جاتا تھا کہ جب نہ صرف ہمارے فوجی جوان بلکہ فوج کے اعلٰی افسران بھی ان جاہل دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر رہے تھے
حالات کی سنگینی ، ایک بہت بڑے آپریشن شروع کرنے کا سبب بنی۔
یہ ۲۰۱۲ کا دور تھا، اور شمالی علاقہ جات کو جاہلوں سے وا کروانے کیلئے ، ایک باقائدہ جنگ شروع کرنی پڑی ۔ اگر وہ جنگ شروع نہ کی جاتی تو شاید آج پاکستان کے شمالی علاقوں میں بنا ویزہ جانا مشکل ہوتا۔
اس جنگ کا آغاز ۲۰۱۲ میں ، ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کے باہم مشورے سے کئے جانے کی وجہ سے اس کے نتائج بھی یقیناً قابل فخر تھے۔ اس آپریشن کو “ضرب عضب “کا نام دیا گیا اور جرنل راحیل شریف اس آپریشن کی کامیابی کو آج تک ریالوں میں کیش کروا رہے ہیں۔ اس آپریشن میں زمینی افواج کا راستہ فضائی افواج کی بمباری سے کھلا اور اس آپریشن میں ملک کے تمام صوبےعموماَ اور خیبر پختون خواہ کے عوام خصوصاً مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنھوں نے اپنے دروازے ان لاکھوں لوگوں کیلئے کھول دئیے جو، اس آپریشن کی ہولناکیوں سے بچنے کیلئے اپنے گھر بار، کاروبار ، مال مویشی سب چھوڑ چھاڑ کر نقل مکانی کر آئے۔ اس آپریشن کی کامیابی کا سہرا فوجی جوانوں کے ساتھ ساتھ، ملک کے شمالی علاقہ جات اور خیبر پختون خواہ کے عوام کے سر بھی جاتا ہے۔ آپریشن ضرب عضب نے گو ، طالبانی شیطانوں کی کمر اس لحاظ سے ضرور توڑ دی کہ انھیں سرزمین پاکستان سے نکل بھاگنا پڑا لیکن انکے وجود کو باکل ختم نہیں کیا جاسکا کیونکہ یہ گوریلے، افغانستان فرار ہوگئے تھے۔
یہ شیاطین موقع ملتے ہی کوئی نہ کوئی کاروائی کرتے رہے۔ اسی لئے ۲۰۱۶ میں جنرل باجوہ کی قیادت میں ایک اور آپریشن کی ضرورت محسوس ہوئی ۔ جسے “رد الفساد” کا نام دیا گیا۔
لیکن چونکہ یہاں کے طالبان کو وہاں کے طالبان کی غیر اعلانیہ حمایت اور پناہ مل رہی تھی لہٰذا ، افغانستان کی حکومت طالبان کے ہاتھوں میں آنے سے پاکستان کی مشکلات میں کمی نہیں ، بلکہ اضافہ ہی ہوا۔اب دشمن کا ہدف ایک نہیں دو ہیں۔ پاکستانی فوج کے جوان تو انکے نشانے پر ہیں ہی لیکن اب ایک اضافی ٹارگٹ چینی باشندے بھی بن گئے ہیں جو CPEC منصوبوں پر کام کرنے کیلئے پاکستان کے مہمان ہیں۔ گویا یک نہ شد دو شد
حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
اب شاید چین کی حکومت کے دباؤ ، یا چینی ورکرز کی حفاظت میں ناکامی کی ذمہ داری پوری نہ کرسکنے کی شرمندگی کے سبب ایک نئے آپریشن بنام “ عزم استحکام” شروع کرنے کا پلان ہے
سوچنے کی بات یہ ہے ، کہ کسی بھی جنگ میں کامیابی کا دار مدار ، ہاتھ میں محض ایک اچھا ہتھیار ہونا ہی کافی ہوتا ہے ، یا اس ہتھیار کو صحیح استعمال کرنا، اس کا صحیح نشانہ لینا بھی ضروری ہوتا ہے ؟
کوئی توپ، میزائل ، راکٹ یا بندوق کتنی ہی اعلٰی معیار کی کیوں نہ ہو، اسکا صحیح نشانہ انسان لیتا ہے، بندوق خود نشانہ نہیں لے سکتی ۔
ہماری افواج کی ٹریننگ ، سوچ اور اپروچ سب ایک بندوق کے موافق ہے۔ اگر اس بندوق کا نشانہ سیاسی قیادت طے کرے اور بندوق کا ٹریگر بھی سیاسی قیادت ہی کے ہاتھ میں ہو کہ کب گولی چلانی ہے ، تو گولی ضرور ہدف کے پار ہوگی لیکن اگر بندوق خود ہی نشانے طے کرتی پھرے گی (جو کہ پچھلے ستر سالوں سے ہو رہا ہے) تو اس عمل سے دشمن نہیں بلکہ خود پاکستان ہی زخم کھائے گا، دشمن کو کچھ نہیں ہوگا! اور یہی کچھ ۷۰ سالوں سے ہورہاہے
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے جرنیل اب پورے ملک میں آپریشن “سیاسی استحکام” کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھیں ۔
سیاسی استحکام ، سیاست میں دخل اندازی ، الیکشن میں ہیراپھیری اور، حکومت، عدالت اور وزیراعظم کو اپنا ماتحت بنا دینے سے کبھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
سیاسی استحکام کی کنجی ،عوامی فیصلے کو قبول کرنے میں ہے نہ کہ جعلی فارم ۴۷ جاری کرنے میں۔
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی