NUKTADAAN

Reading: ‏۴۱۔ ماحول کو ٹھنڈا رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے
Reading: ‏۴۱۔ ماحول کو ٹھنڈا رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے

‏۴۱۔ ماحول کو ٹھنڈا رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے

admin
3 Min Read

نکتہ داں -۴۱ ۱۴ جولائی ۲۰۲۴
ماحول کو ٹھنڈا رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے
یہ بات ہر محب وطن کو سمجھ لینی چاہئے، کہ پاکستان اب کسی اور سیاسی دنگے فساد کا متحمل نہ
ہوسکتا۔
گو، PTI پر الزام دیا جاسکتا ہے کہ ان میں تحمل اور بردباری کی کمی ہے، اور، حالیہ، مختص سیٹوں کے عدالتی فیصلے کے بعد، انکے جذبہ فساد انگیزی میں کچھ اضافہ نظر آتا ہے، لیکن وہ حکومت میں نہیں ہیں۔ حکومت شہباز شریف کی ہے، لہذا ، ماحول کو ٹھنڈا رکھنے کی ذمہ داری بھی حکومت پر زیادہ
ہے۔
خبریں یہ گرم ہیں، کہ، پارلیمنٹ کے اجلاس کو استعمال کر کے، عدالت پر حملے کئے جانے کی تیاریاں ہیں اور ن لیگ ، عدالتی فیصلے کی بھڑاس، پارلیمنٹ کے محفوظ مورے سے بمباری کرکے نکالے گی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس سے حاصل کیا ہوگا ؟ کیا اس حرکت سے حکومت کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی ؟ نہیں ، یہ فساد زدہ ماحول پر مزید تیل چھڑکنے کی حرکت ہوگی۔ اور عوام جو پہلے ہی، عمران کی محبت اور مہنگائی کی شدت سے نیم پاگل ہو چکے ہیں وہ مزید اس سیاسی دنگل سے متنفر ہونگے۔ یہی موقع ہوتا ہے کسی طالع آزما کیلئے۔ گو اب حالات انکے لئے بھی خراب ہی ہیں لہذا دانش مندی اسی میں ہے، کہ عوام کے معاشی سکون کو تلاش کیا جائے، انکی آسودگی کی فکر کی
جائے۔

میرا سیاسی فہم، یہ جاتا ہے کہ، شہباز شریف ، فوراً عوام کو اعتماد میں لینے کیلئے، قوم سے خطاب قوم کریں اور مندرجہ ذیل فیصلوں کا اعلان کریں
۱- حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہوئے، اسے مکمل طور پر نافذ کرے گی -۲- تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی شرح سابقہ ہی رہے گی اور بجٹ میں انکی آمدنی پر جو اضافہ کیا گیا ہے
اسے حکومت واپس لیتی ہے
زرعی آمدنی پر ٹیکس لاگو کیا جائے گا
۴۔ تعمیرات کو انڈسٹری کا درجہ دیکر ، اس کی آمدنی پر بھی انڈسٹری کے حساب سے ٹیکس لاگو کیا جائے ۵- سولر انرجی کے پینل، درآمد نہیں بلکہ اندرون ملک بنائے جائیں گے اور اس کی انڈسٹری قائم کرنے پر دس سال کی ٹیکس چھوٹ دی جائے گی۔
٦- جو جو اشیا ملک اس وقت درآمد کر رہا ہے، ان اشیا کو ملک میں تیار کرنے کی انڈسٹری پر بھی کم
از کم پانچ سالہ ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا جائے
کرنے کو تو اور بھی بہت کچھ ہے، لیکن اگر ان ہی گزارشات پر کان دھر کر عمل کیا جائے تو
حالات میں ایک مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے
وما علينا الى البلاغ
خالد قاضی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے