نکتہ داں-۴۲
۱۷ جولائی ۲۰۲۴
ن لیگ کا گناہ بے لذت
کوئی ن لیگ کی سیاست سے سو اختلاف کرے، لیکن یہ بات ضرور ماننی پڑے گی، کہ ن لیگ کے اندر سیاسی ذہنوں کا اتنا بھی کال نہیں ہے، کہ جتنا انکے حالیہ فیصلے میں نظر آیا ہے۔
گو، بیرسٹر اعتزاز احسن کی پیشگوئی کے عین مطابق، دوسرے ہی دن، اسحاق ڈار صاحب نے اپنی جماعت کے PTI پر پابندی لگانے کے اعلان سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر فرمایا کہ یہ فیصلہ مرکزی قیادت کی منظوری سے منسلک ہے۔
گویا ن لیگ کا سرکاری ترجمان عطااللࣿہ تارڑ ، اتنے اہم اعلانات، مرکزی قیادت کی منظوری کے بغیر ہی جاری کیا کرتے ہیں
ظاہری بات ہے، ایسا بالکل نہیں، بلکہ یہ ایک کیلکولیٹڈ قدم تھا ، تاکہ ، اس فیصلے پر، کس قسم کا رد عمل آئے گا تاکہ اسے جانچنے کی پیش بندی کی جاسکے۔
رد عمل تو ہر طرف سے بہت کرارا آیا ہے۔
پی پی پی، اپنی روش کے عین مطابق، سرکاری رد عمل دینے میں ہمیشہ وقت لیتی ہے لیکن اسکے تمام اہم لیڈروں نے نہ صرف اس اعلان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ، بلکہ اس عمل کو جمہوری رویوں کے خلاف قرار دیا۔
اسکے علاوہ تمام قابل قدر، سیاسی قوتوں ، جن میں PTI کے علاوہ جمیعت علما السلام ، ANP, اور جماعت اسلامی ، ہیومن رائٹ کمیشن، مختلف اہم اور اپنا وزن رکھنے والے صحافتی افراد شامل ہیں، نے اس عمل کی شدید مخالفت کی ہے
اگر کسی نے منہ میں انگلیاں ڈالے رکھیں ہوئی ہیں تو وہ شاید MQM ہے۔ اشاروں کی منتظر اس پارٹی نے اشاروں اور کناؤں سے بھی کوئی ردعمل ، نہیں دیا۔
لیکن میری مشکل کچھ اور ہے
میں اس بات پر غور کر رہا ہوں کہ، وہ کونسے اعصاب شکن خیالات، وسوسے یا ڈر تھا، جس نے، ن لیگ کو، اس اعلان پر مجبور کیا۔
میری دانست میں حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد، کہ جس کی وجہ سے PTI پارلیمنٹ میں عددی حساب سے سب سے بڑی سیاسی جماعت بن جائے گی، نے ن لیگ کے اتنے اوسان خطا کئے کہ اس کے سارے سیاسی لال بھجکڑوں نے، یہ سوچا کہ لگادو پابندی تاکہ:
نہ رہے گا بانس ، نہ بجے گی بانسری
لیکن ہر طرف سے جو سخت رد عمل آیا ہے، اس نے بانسری تو کیا ، ن لیگ کی بینڈ بجا کر رکھدی ہے
ن لیگ کے اس اعلان کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں
پہلی وجہ میرا قیاس ہے، کہ کیا اس فیصلے کے پیچھے چینی حکومتی مشورہ تو نہیں ؟
کیونکہ ان کے یہاں معاملات اسی طرح نمٹائےجاتے ہیں۔ لیکن ، چینی معیشیت میں عوام کو آزادی کے عوض دینے کیلئے بہت کچھ ہے۔ ہمارے پاس کیا ہے ؟
اس وجہ سے میری، سیاسی سوچ ، ن لیگ کی اس سیاسی مس کیلکولیشن کو سوائے ڈر اُور خوف کے رد عمل کا شاخسانہ سمجھتی ہے ، اور بس !
ن لیگ کو ڈر یہ ہے، کہ پی پی پی اب زیادہ مضبوط ہوکر سامنے آئے گی اور اسے ، مستقبل میں ، PTI اور PPP کا اتحاد ہوتا نظر آرہا ہے، جس کی پیش بندی کیلئے اس نے یہ قدم اٹھایا ہے
میری رائے میں یہ ن لیگ کی خام خیالی ہے۔ ان حالات میں PPP کبھی بھی PTI کے ساتھ اتحاد نہیں کرے گی کیونکہ اس وقت PTI سے اتحاد PPP کیلئے کوئلے کی دلالی ثابت ہوگا۔
کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہو یا PTI کی، بنا PPP ناممکن ہے۔ لہٰذا PPP یہ دیکھے گی کہ کس کا ساتھ اسکے سیاسی مستقبل کیلئے زیادہ بہتر ہوگا
میری اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ PTI سے اتحاد کیلئے ، PPP نے الیکشن نتائج کے فوراً بعد رابطے کئے تھے، لیکن PTI میں نہ سیاسی سوچ کی صلاحیت ہے اور نہ استطاعت ۔ اسکے لیڈران نے، اعلانیہ ہتک آمیز رویہ اختیار کرتے ہوئے انکار کر دیا تھا۔
لہٰذا ن لیگ کو اس خوف سے جان چھڑا کر اپنی پوری توجہ ملک کے معاشی مسائل کو حل کرنے میں صرف کر دینی چاہئے۔
جہاں تک PTI کا پارلیمنٹ میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کا سوال ہے تو میں آصف علی زرداری کے اس قول پر یقین رکھتا ہوں، PTI کا اتنا بڑا دشمن اور کوئی نہیں ۔جتنی بڑی وہ خود اپنی دشمن ہے۔ انھیں گرانے کی ضرورت نہیں یہ خود اپنے وزن اور اپنے عمل سے گریں گے۔
جو سیاسی پارٹی سیاست کا دعویٰ کرے اور سیاسی ڈائیلاگ سے انکار ۔ اس کے متعلق کیا پیشن گوئی کی جائے ؟
ن لیگ کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ حکومت ایسی ریت ہے جسے اپنے قابو میں رکھنے کیلئے جتنا غیر جمہوری دباؤ بڑھایا جائے گا، مٹھی سے اتنی ہی تیزی سے حکومتی ریت کھسکتی جائے گی۔
میری سوچ کے مطابق، PPP اس سارے کھیل میں، انتظار کرو اور دیکھو کی پالیسی اختیار کئے رہے گی۔ PPP ، حکومت میں اس وقت آئے گی جب جرنیلوں کے پاس ، PPP کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ اورسیاسی پس منظر ہر وقت اسے ڈراپ سین کی طرف بڑھتا نظر آتا ہے۔
واللٰہ العالم
خالد قاضی