نکتہ داں-۴۳
۱۹ جولائی ۲۰۲۴
آخری معرکہ
پاکستان اپنی سیاسی تاریخ کے چھٹے مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔
پہلا مرحلہ، سنہ ۱۹۴۷ سے ۱۹۶۵ تا جاری رہا، جب فوج اور بیوروکریسی، مشترکہ طور پر بنا کسی رکاوٹ کے، اس ملک کے سیاہ سفید کے مالک بنے رہے اور عدالت کا کام پہلی دو قوتوں کو ہر حال میں معاونت فراہم کرنا تھا۔ گویا، صدر (جو آرمی چیف بھی تھا) کا ہر کہا، قانون بن جایا کرتا تھا۔
لیکن ۱۹۶۵ کے بعد، عوامی شعور کچھ بہتر ہوا، اور حاکموں کو عوامی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔ جرنیل اپنے گھمنڈ اور لالچ کے زیر اثر، حالات کو سمجھنے اور سلجھانے کی استطاعت ہی نہیں رکھتے تھے۔ نتیجتاً ملک دولخت ہوگیا۔
سیاسی تاریخ کے دوسرے مرحلے میں، گو ملک کی مجموعی سیاسی قیادت، مکمل اتفاق سے اس بے آئین ملک کو آئین فراہم کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی، لیکن سیاسی حکومت کو ، عالمی چپقلشوں کا چارہ بناکر، اقتدار سے الگ کردیا گیا
اب سیاسی تاریخ کا تیسرا مرحلہ شروع ہوچکا تھا اس دور میں جرنل ضیا نے، پارلیمنٹ کے کردار کو محض نمائشی بنا کر، پارلیمانی جمہوریت کو صدارتی طرز حکومت میں ڈھال لیا تھا۔ اب فیصلے محض صدر کی ذات کے گرد گھومتے تھے۔اس کی وجہ یہ کہ، آرمی چیف بھی، ضیا خود ہی تھے اور عدلیہ بھی ایک ربڑ اسٹیمپ کا کردار ادا کر رہی تھی۔
ضیا کی ہلاکت کے بعد بھی ضیا کا بنایا ہوا نظام چلتا رہا۔ اس وقت فیصلے صدر، آرمی چیف اور چیف جسٹس کی معاونت سے جاری ہوتے رہے۔
اس جاری نظام میں خلل، 58-2B کی تنسیخ سے ہوا، اس مرحلے کو چوتھا مرحلہ کہا جا سکتا ہے۔لیکن اس مرحلے میں ، گو سیاسی حکومتیں قائم رہیں لیکن ان حکومتوں کا دوام بھی آرمی چیف اور عدالت کے رحم کرم پر رہا کرتا تھا۔
لیکن، اس مرحلے میں، اسمبلیاں اپنی مدت پوری کرتی رہیں۔ بس وزیر اعظموں کو سازشوں سے گھر بھیجا جاتا رہا۔
ایک مرتبہ پھر، سیاسی قیادتوں کے مشترکہ اور متفقہ لائحۂ عمل سے صدر مشرف کو، جو بہت ہی مستحکم سمجھے جاتے تھے، قصر صدارت سے باہر اٹھا پھیکا گیا۔ اس سے پہلے، جب مشرف خود آرمی چیف بھی تھے تو ایسی پیش رفت کے متعلق سوچنا تک محال تھا۔ مشرف کی وردی اتروانے کا سہرا بی بی شہید کے سر جاتا ہے ، اور وردی اترنے کے بعد نہتے مشرف کو، زرداری نے مات دیدی۔یہ معرکہ زرداری نے جنرل کیانی کی مدد سے ، اسکی مدت ملازمت میں ایک توسیع کی قیمت پر حاصل کیا۔
اس دور نے، اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے، سیاسی جماعتوں کے ڈائیلاگ کرنے کی کامیاب مثال قائم کی، کیونکہ اس وقت کی پی پی پی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں تھی۔
کیانی کے وقت سے ہی ہماری سیاسی تاریخ کا پانچواں مرحلہ شروع ہوا۔ اور یہ مرحلہ کیانی، راحیل شریف، باجوہ، فیض اور موجودہ آرمی چیف عاصم منیر تک جاری رہا۔ اس مرحلے کو مدت ملازمت میں توسیع کیلئے سازشوں کے دور سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ ہوس اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کا توڑ نہ کرلیا جائے
کل میں حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا، جب مجھے امریکہ کی ایک معاشی صورتحال پر نظر رکھنے والی کمپنی ایف، آئی ٹی سی ایچ کی یہ پیشینگوئی سناُئی دی کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی حکومت ۱۸ ماہ تک چل پائے گی، اسکے بعد ٹیکنوکریٹ حکومت قائم ہوگی۔ میرا سیاسی ذہن فوراً حساب کتاب میں مصروف ہوگیا۔ گویا یہ بھی مدت ملازمت میں توسیع حاصل کرنے کا وقت ہوگا، جو ٹیکنوکریٹ حکومت کے ذریعے حاصل کیا جائے گا
اس خبر میں مجھے امریکہ اور چین کی معاشی اور سیاسی جنگ کا عکس بھی نظر آیا اور سی پیک کو پٹری سے اتارنے کیلئے پاکستان میں افراتفری تیز کرنے کی سازش بھی کارفرما نظر آئی۔
لیکن کیا یہ سب اتنی آسانی سے حاصل ہو بھی پائے گا ؟
اس ہی سوال نے مجھے سیاسی تاریخ کے چھٹے مرحلے کی ابتدا کا دور نظر آرہا ہے۔
لیکن مجھے سب سے زیادہ مایوسی ن لیگ اور پی پی پی کی اتحادی حکومت کی ناعاقبت اندیشانہ روش سے ہوا ہے۔
ن لیگ کو اگر پاکستان کی سلامتی اس قدر عزیز تھی، تو پی ٹی آئی پر پابندی کی بات ۹ مئی کے وقت کیوں نہیں کی۔ اسے پاکستان کی سلامتی کیلئے پی ٹی آئی پر پابندی کا خیال اس وقت آیا جب عدالت عالیہ نے پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت ہونے کی سند دیدی ہے
اور پی پی پی ، فوج کے بلاول کی حکومت کے وعدہ فردا پر تکیہ کرکے، اس غیر آئینی اور غیر جمہوری کھیل کا حصہ بننے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ میرے خیال میں PPP کا یہ عمل اپنے تشخص کو بیچنے کی کاروائی ثابت ہوگا۔PPP کا تو سرمایہ اور متاع سیاست ہی جمہوری اصولوں کی پاسداری تھا
وائے ناکامی، متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے، احساس زیاں جاتا رہا
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا جرنیلوں کے ایما پر شروع کیا گیا یہ پلان کامیاب بھی ہوگا کہ نہیں ؟
میری دانست میں اس جھگڑے میں جرنل عاصم منیر کی انا ،حکومتی اتحاد کی مدد سے،پی ٹی آئی کے منظور کردہ مخصوص نشستوں کے ممبران کو اسمبلی کا حصہ بن کرتحریک انصاف کو اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی بنانے میں تاخیری حربہ تو ہو سکتا ہے لیکن یہ حربہ چاہے دیر سے، لیکن کامیاب نہیں ہوگا
مجھے تو اس جنگ میں کئی عوامل شامل ہوتے نظر آتے ہیں
سب سے اہم رکن اس وقت الیکشن کمیشن ہے۔ اور خبر یہ ہے کہ پہلے دن کی بیٹھک میں الیکشن کمیشن کے ممبران کسی فیصلے پر نہیں پہنچ پائے۔ اس کا کیا مطلب لیا جائے ؟
گویا سپریم کورٹ کی طرح دوسرے کردار بھی ربڑ اسٹیمپ بننے کو تیار نہیں
اس کےبعد وکلا کمیونیٹی بھی اہم ہے۔ کیا چودھری افتخار کی برطرفی کے وقت کی طرح، وکلا دوبارہ متحرک نہیں ہوسکتے ؟
پاکستانُ کی صحافی کمیونٹی تو واضح طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کی حمایت کرتی نظر آرہی ہے
تومیدان تو سجتا ہوا نظر آتا ہے
جرنیل صاحبان پچھلے دور کے مقابلے میں تنہا ہیں۔ انکا سب سے بڑا ہتھیار عدالت عالیہ ہواکرتی تھی، جو اب وہ نہیں رہی جیسا جرنیل چاہتے ہیں۔ پاکستان کی انٹلیکچوی برادری اور طلبا بھی حرکت میں آسکتے ہیں
میری تمنا تو یہ ہی ہے کہ یہ جرنیلوں اور جمہوریت کا آخری معرکہ ہو اور اس میں جیت عوام کی ، انصاف کی اور آئین و قانون کی ہو
کیونکہ ، میں نا امیدی کو کفر سمجھتا ہوں
خالد قاضی