نکتہ داں -۴۶ ۲۱ جولائی ۲۰۲۴
لوکو وے لوکو۔ اس کملے نوں روکو
انڈیا کا بہت پرانا گانا ہے کہ
سب کچھ لٹا کے ہوش میں آئے، تو کیا کیا “
لیکن یہاں تو سب کچھ لٹانے کے بعد بھی کچھ عقل نہیں آئی۔
پچھلے پورے ۲۵ سال ، جسکی ہتک کرتے رہے۔ جسے الزامات سے نوازتے رہے اور گھٹیا ناموں سے پکارتے رہے، وہ آنکھ کے تارے بننے جارہے ہیں وہ بھی آپکی شرائط پر نہیں، اسکی شرائط پر۔ جی ہاں، آپ پوچھیں گے ، کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے، اور ایسی دیوانگی کون کر سکتا ہے ؟ تو جناب یہ اس سیاسی دیوانے کے ہاتھوں ہو رہا ہے، جس کے کروڑوں دیوانے، عقل سے دور،
جوش میں بے قابو، اور نہ سمجھنے کی قسم کھائے بیٹھے ہیں۔
دو اخباری اطلاعات نے، مجھے تو پریشان کیا ہوا ہے، آپ ان کو کس طرح دیکھتے ہیں، کوئی مجھے بھی
سمجھا دے۔
پہلی خبر یہ کہ مولانا فضل الرحمن اور PTI کے لیڈران کے درمیان معاملات طے ہونے جارہے ہیں۔
روزنامہ ڈان کے مطابق :
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دعوی کیا ہے کہ نئے انتخابات کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختو نخوا اسمبلی تحلیل اور قومی اسمبلی سے استعفی دینے پر آمادہ ہو گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف سے مذاکرات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق جے یو آئی نے سینیئر رہنما کامران مرتضیٰ کی سربراہی میں مذاکراتی کمیٹی قائم کی
ہے۔
مذاکراتی کمیٹی میں مولانا لطف الرحمن، فضل غفور، اسلم غوری اور مولانا امجد شامل ہیں۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مثبت پیش رفت آگے بڑھ سکتی ہے۔
پہلی مرتبہ بھی نئے انتخابات کرانے کیلئے قومی اسمبلی سے استعفی اور اپنی دو حکومتیں بھی دشمنوں کے حوالے کر کے کچھ حاصل نہیں ہوا تو کیا وہی عمل دوبارہ کر کے کچھ حاصل ہو سکے گا ؟ کیا قومی اسمبلی سے استعفی دیکر اور خیبر پختون خوا کی اسمبلی توڑ کر دوبارہ انتخابات کروائے جاسکیں گے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں تو اسمبلیاں اور حکومتیں قائم رہیں گی، وہ کیوں اپنی حکومتیں توڑیں گے اور قومی اسمبلی بھی کیسے توڑی جاسکتی ہے ؟ کیا ہمارے معاشی حالات بھی یہ اجازت دیتے ہیں ؟ اور کیا اسطرح سیاسی استحکام حاصل ہوجائے
گا ؟
اس ملک میں PTI کے علاوہ بھی دوسری سیاسی قوتیں ہیں۔وہ کیوں نئے انتخاب کیلئے راضی ہوں ؟ بفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ،
نئے انتخابات کا اعلان ہو جاتا ہے، اور اس میں PTI اکثریت لیکر حکومت بنا لیتی ہے، تو پھر کیا ہوگا۔ عمران تو اپنی عادت کے مطابق دوبارہ سارے مخالفین کو پہلے کی طرح جیلوں میں بھرے گا ، گوگی دبئی سے شاید پھر واپس آجائے اور شہزاد اکبر بھی آجائے گا۔ پنجاب شاید پھر دوبارہ بزدار کے حوالے کیا جائے۔ ہاں وزیر داخلہ ضرور جنرل فیض ہونگے، کیونکہ آرمی چیف وہ اب بن نہیں سکتے۔
اسپر تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ:
انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند
سیانے کہہ گئے ہیں کہ عقلمند شخص ایک ہی سوراخ سے دوسری دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ جبکہ PTI مولانا جیسے گھاک سیاستدان کی شرائط پر دوبارہ اپنا سب کچھ لٹانے کو تیار بیٹھی ہے
حیران ہوں کہ روؤں یا پیٹوں جگر کو میں
یہاں تو وارفتگی کا یہ حال ہے،
جیڑا بولے، او دے اتے چھتراں دی بوچھاڑ ہوندی اے
دوسری خبر بھی پی ٹی آئی کے خوابی دنیا میں رہنے کا پتہ دیتی ہے فرمایا کہ PPP سے معاہدہ ہو سکتا ہے لیکن صرف تحریک عدم اعتماد کامیاب کرواکر موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے۔ اور انتخابات کے بعد حکومت بنانے کیلئے پی پی پی سے معاہدہ نہیں کیا جائے گا
۔
پتہ نہیں کس دنیا میں رہتے ہیں ، عمران بھی اور اسکے چاہنے والے بھی
لگے رہو منا بھائی
خالد قاضی