نکتہ داں -۴۷
۲۲ جولائی ۲۰۲۴
چڑیا کی چورن نہیں بکے گی
میں نے اپنی گزشتہ تحریر میں چند صحافیوں کا ذکر کیا تھا، جو ہمارے جرنیلوں کا، ارادہ، پلان، خواہش یا خواب، بڑی سعادتمندی سے ، ہم تک پہنچا پہنچا کر، ہمارے اندر ، خوف، لاچاری، مجبوری اور مایوسی کے جذبات، ابھارتے رہتے ہیں تاکہ، ہماری توانائیوں کو عمل تو کیا، سوچنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیں۔
میرے بیان کردہ یہ سب صحافی، جرنیلوں کی نفسیاتی جنگ کے اہم ترین ہتھیار ہیں۔
ایک اور بڑا نام، جو کافی عرصے سے، جرنیلوں کے سیاسی منصوبے، اپنی خود ساختہ “چڑیا” کے نام سے، اس طرح بیان کرتے ہیں ، کہ ہم ، انکی صحافیانہ سوچ، دانشورانہ تجزئیے ، دور اندیشانہ مستقبل نگاری، حالات کو سمجھنے کی ،انکی صلاحیت اور عالیشان محلات تک انکی رسائی کے رعب میں آکر، انکے کہے کو، قدرت کا ارادہ ،سمجھا کریں۔
یقیناً آپ نام جان گئے ہونگے ۔ جی ہاں میری مراد ، نجم سیٹھی صاحب ہی سے ہے
اپنے گزشتہ پروگرام “سیٹھی سے سوال” میں انھوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات
بیان کرتے ہوئے، یہ اندیشہ بڑی شد و مد سے بیان کیا، کہ اگر، اداروں کی لڑائی بڑھے گی تو ایمرجنسی کا خطرہ ہے۔ انکے بقول، عدلیہ اور مقتدرہ (جرنیل) میں سے کسی کو پیچھے ہٹنا چاہئے ورنہ معاملات ایمرجینسی کی طرف بڑھنے لگیں گے۔
یہ دراصل جرنیلی دھمکی ہے جو ، نفسیاتی جنگ کا ایک حربہ ہوتا ہے۔
موصوف جرنیلوں کو مشورہ نہیں دے رہے، عدلیہ سے دبی دبی گزارش کر رہے ہیں کہ آئین کی پاسداری کو چھوڑ کر ماضی کی طرح جرنیلوں کی چاکری کریں
یہی کچھ مشرف نے بھی کرنے کی کوشش کی تھی اور ایمرجنسی لگا کر، ججز کو گھر بٹھا دیا تھا ۔ لیکن ملک کے تمام وکلا ، میڈیا، دانشور، صحافی ، عوام اور پھر سیاسی قیادت بھی مشرف کے خلاف کھڑی ہوگئی ۔اس وقت ، ہماری معاشی حالت پھر بھی بہتر تھی کیونکہ امریکی امداد آرہی تھی، کام چل رہا تھا۔ لیکن آج حالت مختلف ہے۔ آپکو یاد ہوگا، کہ پچھلے سال ہی عاصم منیر نے بھڑک ماری تھی کہ خلیجی ریاستوں اور سعودی عرب سے ۲۵ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی جائے گی۔ اس اعلان کا کیا بنا۔ کسی کو کالے کتے نے نہیں کاٹا کہ آپکی سیاسی ابتری دیکھ کر وہ سرمایہ کاری کریں۔ ایمرجینسی کی بات محض دھمکی ہے۔ سیٹھی صاحب نے،گزشتہ الیکشن کے فوراً بعد پیشینگوئی کی تھی کہ آصف علی زرداری کو مقتدرہ کبھی صدارتی محل میں نہیں دیکھنا چاہتی، اور فرمایا تھا کہ سینیٹ کا چیئرمین انوار الحق کاکڑ بنیں گے وغیرہ وغیرہ۔ یہ حضرت جرنیلوں کے خواب اپنے ٹی وی پروگرام میں ایسے حقیقی انداز میں پیش کرتے ہیں کہ جیسے یہ حکمِ الٰہی ہو۔
میری سوچ کی وجہ مندرجہ حقائق ہیں
۱- اگر ایمرجینسی لگی بھی تو حکومت لگا سکتی ہے جرنیل نہیں ۔اگر کسی صوبے میں ایمرجینسی لگائی جائے گی تو، اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی اجازت کے ساتھ۔ اگر یہ عدلیہ میں چیلنج کردی گئی تو عدلیہ ایمرجینسی ختم بھی کرسکتی ہے۔ جرنیلوں کو آئین یہ اجازت نہیں دیتا کہ ایمرجینسی لگائیں۔ جرنیل یہ کام صرف مارشل لا لگا کر کرسکتے ہیں اور معاشی طور پر IMF کی کوڑی کوڑی کی محتاج حکومت مزید سیاسی ابتری کا سوچ بھی نہیں سکتی ۔
ن لیگ اسقدر بھی بیوقوف نہیں، کہ اپنا سیاسی مستقبل ختم کرکے جرنیلوں کے فائدے کیلئے ایمرجینسی نافذ کرے۔
۲۔ آرمی چیف کی طاقت ، فوج کے تمام کمانڈروں کے اتحاد سے قائم رہتی ہے۔ لیکن یہی طاقت ، اس وقت کمزوری میں بدل جاتی ہے، جب آرمی چیف اپنے ذاتی مفاد کی خاطر، اپنی مدت ملازمت میں توسیع کروائے۔ توسیع کرنے کی وجہ سے کئی لوگوں کا حق مارا جاتا ہے اس لئے اندر گروپنگ شروع ہو جاتی ہے
آپ تاریخ دیکھ لیں ۔ ایوب، یحیٰی، مشرف ، کیانی، باجوہ اپنی پہلی مدت میں طاقتور تھے، لیکن دوسری مدت کے دوران اندرونی گروپ بننے کی وجہ سے ان کی طاقت گھٹ گئی۔ ڈیڑھ سال بعد ، یہی کچھ عاصم منیر کے ساتھ ہونے والا ہے۔
۳- تیسری اہم وجہ، ہماری مقتدرہ کو بنگلہ دیش کے حالات سے سبق لینا چاہئے۔ وہاں کی معاشی حالت تو ہم سے کہیں بہتر ہے۔ وہاں ہماری طرح نہ بہت مہنگائی ہے اور نہ بجلی، پانی اور گیس کی قلت۔ پھر یہ ہنگامے کیوں پھوٹ پڑے ہیں۔ ہنگاموں کی وجہ ہمیشہ کوئی نہ کوئی لاوا ہوتا ہے، جو اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر کسی روز پھٹ کر حالات کو، بے قابو کر دیتا ہے۔
میری سیاسی سوچ ، ہنگاموں کی اصل وجہ، حسینہ واجد کا انداز حکمرانی سمجھتی ہے۔ وہاں پچھلی تقریباً دو دہائیوں سے نہ سیاسی آزادی ہے اور نہ شفاف انتخابات کا انعقاد۔ وہاں بھی حکومت متواتر تین انتخابات دھاندلی سے جیتی ہے۔
ہمارے ملک میں بھی پچھلے دو انتخاب شدید دھاندلی زدہ تھے۔ اگر اگلے انتخاب میں بھی دھاندلی کی گئی تو عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا – پھر ہنگامہ شروع کرنے کیلئے کوئی بہانہ بھی کافی ہوگا۔
میں ستاروں کی چال کا واقف تو نہیں ہوں اور نہ پیشینگوئی میرا شغف۔ لیکن خبردار کرنا میرا فرض ہے
وما علینا الی البلاغ
خالد قاضی