نکتہ داں – ۴۸
۲۷ جولائی ۲۰۲۴
سیاسی “سلیپر سیل”
موجودہ دنیا میں حریف ممالک، اپنی جنگیں، سرحدوں کے بجائے، مخالف ملک کے ، شہروں بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر ،دہشت گردی کی صورت ، اپنے ایجنٹوں ، حاشیہ برداروں اور جاسوسوں کے ذریعے،کرواتے ہیں ۔ یہ جنگ، عمومی جنگ کے بجائے دوسرے طریقوں،جیسے بم دھماکے، خودکش حملے، عوامی مقامات پر فائرنگ کروا کر، لڑی جاتی ہے۔ضروری نہیں کہ یہ جنگ ہر وقت لڑی جاتی رہے۔ بلکہ اس کا طریقہ، مخالف ملک میں اپنے کارندوں، جاسوسوں اور پیشہ ور قاتلوں کے گروپوں کی خاموشی پرورش کرنا ہے ۔ یہ گروپ عموماً خاموش اور غیر فعال رہتے ہیں لیکن ، جب بھی، انھیں حکم ملتا ہے، وہ حرکت میں آکر کاروائیاں کرنے لگتے ہیں۔ ایسے گروپوں کو عرف عام میں “سلیپر سیل” کہا جاتا ہے۔
مخالف ممالک کی یہ جنگ تو سمجھ میں آتی ہے۔
لیکن، ہمارے ملک میں بھی کچھ “سیاسی سلیپر سیل” ملک کے سیاسی نظام میں خلل ڈالنے، حکومت وقت کو دباؤ میں رکھنے، اور سیاسی استحکام کو لگام ڈالنے کیلئے، فوری حرکت میں آجاتے ہیں ۔عمومی طور پر، یہ بظاہر “غیر فعال “گروپ یا سیاسی جتھے،حکم ملنے پر، ایسی ایسی پھرتیاں دکھاتے ہیں کہ منطق مات کھا جاتی ہے۔
ان گروپوں کی آبیاری کون کرتا ہے یہ ایک کھلا راز ہے لہٰذا اس کے ذکر کا کوئی فائدہ نہیں۔
آپ کی، یادداشت کو تازہ کرنے کیلئے، چند تاریخی واقعات ، پیش کروں گا۔
ضیا کے پورے مارشل لائی دور میں، جب جیلیں سیاسی کارکنوں سے بھری ہوئی تھیں، صحافت قید تھی اور صحافیوں کو کوڑے مارے جارہے تھے، سندھ میں MRD کی تحریک کو کچلنے کیلئے، ہیلی کاپٹروں سے گولیاں برسائیں گئیں ، ان عوامل کے خلاف جماعت اسلامی نے نہ کبھی آواز اٹھائی، نہ مارچ کرنا یاد آیا اور نہ دھرنا۔
۱۹۸۸ میں بینظیر کی حکومت گرانے کی پہلی کوشش غلام اسحٰق خان اور جنرل اسلم بیگ کے ایما پر اکتوبر ۱۹۸۹ کو ناکام ہوگئی۔
لہٰذا اب حکومت کی برطرفی ضیائی قانون اٹھاون ٹو بی کے ذریعے ہوئی۔
بینظیر کی دوسری حکومت کو گرانے کیلئے پہلے کچھ ماحول بنانا بہتر سمجھا گیا۔ لہٰذا حکومت کو گرانے کیلئے “ سلیپر سیل” کو جگایا گیا اور قاضی حسین احمد کی قیادت میں ۱۹۹۶ میں “ملین مارچ “ کے نام سے اسلام آباد پر چڑھائی ہوئی۔ پھر اسی سال اکتوبر میں دھرنا بھی دیاگیا ۔ پھر فاروق لغاری نے اسمبلی توڑ دی
اسی “سلیپر سیل “ نے، فروری ۱۹۹۹ میں نوازشریف حکومت کے خلاف مشرف کے ایما پر، بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی آمد پر لاہور شہر کو میدان جنگ میں بدل ڈالا تھا۔
اب ۱۹۱۳ -۱۴ میں نوازشریف کی حکومت کو گرانے کا اہتمام ایک نہیں تین “سلیپر سیلز” کے ذریعے کیا گیا۔ ایک علامہ طاہر القادری کی عوامی تحریک اور دوسری عمران خان کی تحریک انصاف اور تیسری تحریک لبیک پاکستان (فیض آباد دھرنا)
یہ طریقہ واردات میں نہیں پاکستان کی تاریخ بتا رہی ہے
آج کل کے حالات کے پس منظر میں، جب عدلیہ اپنے ماضی کی روایت کے برخلاف، فیصلوں پر ، ڈکٹیشن لینے پر تیار نہیں، اور اپنے فیصلے آزادانہ طور پر لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس ماحول کا اثر نہ صرف الیکشن کمیشن پر پڑا ہے بلکہ ماتحت عدالتیں جو اس سے پہلے مقتدرہ کے ہر حکم پر ربر اسٹیمپ کا کام کر رہی تھی ، انکے مزاج میں بھی ایک نمایاں تبدیلی ۹ مئی کے ملزمان کی رہائی کی صورت عیاں ہوچکی ہے یہ تمام پیش رفت گویا مقتدرہ کی مٹھی میں ریت کے سرکنے کا سماں پیش کر رہی ہیں۔
اب ، نفسیاتی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے۔ پہلے کبھی جاوید چودھری، کبھی منصور علی خان ، اور اب منیب فاروقی مقتدرہ کے فیصلے یوں سناتے ہیں جیسے یہ حکم الٰہی ہو۔ پھر اسی دوران، نجم سیٹھی ایمرجینسی نافذ کئے جانے کی دھمکی سناتے ہیں
میں اس سارے معاملے کو اب تک محض نفسیاتی داؤ پیچ ہی سمجھ رہا تھا ،کیونکہ چند روز پہلے ہی ، ایک “ سلیپر سیل” (تحریک لبیک پاکستان) اپنا دھرنا ختم کر چکا تھا۔ لیکن پھر جماعت اسلامی کے حافظ نعیم کی پھرتیوں کا دلچسپی سے مشاہدہ کرتا رہا ۔ لیکن کراچی بار میں وکیلوں سے خطاب میں جو باتیں حافظ صاحب نے فرمائیں وہ مجھے انکی زبان نہیں مقتدرہ کی زبان لگی جو وہ اپنی ڈیوٹی کے طور پر ادا کر رہے تھے۔ اس میں چوکانے والی باتیں تھیں ، یہ باتیں ایک ایسی جماعت کا سربراہ کہہ رہا تھا جسکا قومی اسمبلی میں حصہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں
اخباری اطلاع کے مطابق:
جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ 26 جولائی کا پارٹی کی جانب سے اعلان کردہ بجلی و پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا روکنے کی کوشش کی گئی تو اسے حکومت گرانے کی تحریک میں بدل دیں گے۔
محترم نے اپنے حالیہ خطاب میں فرمایا ہے کہ دھرنا ایک ماہ چلے یا اس سے زیادہ ، ہم تیار ہیں۔
انکا مطالبہ عوام کو رلیف دینا ہے، کوئی مجھے بتائے کہ یہ دھرنا رلیف مہیا کر رہا ہے یا لوگوں کی زندگی مزید مشکل بنا رہا ہے
ہاں ہم مان لیتے اگر وہ کوئی قابل عمل پلان بھی دیتے
یہ کہاں کی دوستی ہے، کہ بنیں ہیں لوگ ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
جماعت اسلامی کے چاہنے والوں، جماعت کو پاکستان کی آخری امید سمجھنے والوں اور اس کیلئے سردھڑ کی بازی لگا دینےوالے لوگ، میرے بہت قریبی دوست ہیں۔ میں ان سے کئی دہائیوں سے آشنا ہوں ۔ ان کی شرافت، ایمانداری، نیک نیتی اور خلوص کا میں خود گواہ ہوں۔ ان سے میرا پیار انکی شخصیت کی پاکیزگی، انکی رواداری کی وجہ سے ہے، لیکن ان سے میری ایک شکایت بھی ہے۔
یہ تمام لوگ، دوسری تمام سیاسی جماعتوں کے چاہنے والوں سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے لیڈران کی اندھی تقلید کرتے ہیں۔
میری رائے میں جماعت اسلامی کا چاہنے والا جماعت کے امیر اور دوسرے زعما کی جس قدر اندھی تقلید کرتا ہے، پاکستان کی کسی دوسری سیاسی جماعت کا کارکن اس اندھی تقلید کے عشر عشیر بھی نہیں کرتا۔
خالد قاضی