آج مشہور زمانہ کیس، مونال اور دیگر ریسٹوینس اور ریماؤنٹ ویٹرنیری اور فورمز کے نام پر فوج کی ہزاروں ایکڑ زمین پر غیر قانونی قبضے پر چیف جسٹس اور دوسرے ججز کے ریمارکس پڑھ کر دکھ کے علاوہ اور کیا ہوسکتا تھا۔
ججز نے کہا کہ آپ مال کمائیں یہ ملک آپکا ہے آپکو کون روک سکتا ہے لیکن خدارا شہیدوں کو بدنام کرکے انکا نام استعمال نہ کریں
فوج کے وکیل نے درخواست کی کہ اس کیس کو کھلی عدالت میں نہ چلایا جائے۔
چیف جسٹس نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کیس کو کھلی عدالت میں چلانے کا اعلان کیا
اس تمام روئیداد کو پڑھ کر، میرا قلم اٹھا اور علامہ اقبال مرحوم سے معٰذرت کے ساتھ یوم متکلم ہوا
یہ خاکی یہ تیرے بھڑکباز بندے
جنھیں تونے بخشا ہے ذوق کمائی
دو نیم انکی ٹھوکر سے آئین ہوا ہے
جمہوریت ہوئی جن کی ہیبت سے رائی
عدالت سے کرتی ہے بیگانہ انکو
عجب ہے تکبر ، عجب خود نمائی
ہے دولت ہی مطلوب و مقصود انکو
ہو مال غنیمت، ہو لمبی کمائی
بنیں جب یہ جرنل، ملیں پلاٹ ڈھب کے
یہ واہگہ میں بھی چاہیں گے، پلاٹ سب کے
پلاٹوں کی ُخو میں ، ہوئے ہیں یہ یکتا
زمیں سے، تجارت کے مال کھرب سے
مکریں سازشیں ، عجیب اور یکتا
رہے اگلی توسیع انکی نظر میں
ہیں مطلوب پلاٹ انکی زندگی کو
تمنا ہے بس مال و زر کی جگر میں
سمجھتے بلڈی سویلین ہیں سب کو
ہے قانون ردی انکی نظر میں
اس ملک خداداد کو آزاد کردے
خدایا ظالموں کو، تو برباد کردے
خالد قاضی